Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3081

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُونَ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" 1. [2:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " جب کوئی شخص فوت ہو اور ایک گروہ اس کی نماز جنازہ ادا کرے جن کی تعداد ایک سو ہو، تو وہ اگر اس کے بارے میں شفاعت کریں ( یعنی دعائے مغفرت کریں)، تو ان کی سفارش قبول ہوتی ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← الثَّقَفِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3081

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3082

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عِیسیٰ الْمِصْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ ، حَدَّثَنَا اَبُوْ صَخْرٍ حُمَیْدُ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ شَرِیکِ بْنِ اَبِیْ نَمِرٍ ، عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، اَنَّہٗ مَاتَ ابْنٌ لَہ بِقُدَیْدٍ اَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ : یَا کُرَیْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَہٗ مِنَ النَّاسِ : قَالَ فَخَرَجْتُ ، فَاِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا ، فَاَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : یَکُوْنُونَ اَرْبَعِینَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : اخْرُجُوا بِہٖ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَامِنْ مُّسْلِمٍ یَمُوتُ فَیَقُومُ عَلٰی جَنَازتِہِ اَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا یُشْرِکُوْنَ بِاللہِ شَیْئًا اِلَّا شَفَّعَھُمْ اللہُ فِیْہِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ ان کے ایک بیٹے کا قد یہ یا شاید عسفان کے مقام پر انتقال ہو گیا، تو انہوں نے فرمایا: اےکریب تم اس بات کا جائزہ لو کہ اس کی نماز جنازہ کے لیے کتنے لوگ اکٹھے ہو چکے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں باہر نکلا وہاں کچھ لوگ اکٹھے ہو چکے تھے میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا چالیس لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی للہ عنہما نے فرمایا: اس کی میت کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کی نماز جنازہ چالیس ایسے افراد ادا کریں جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہوں، تو اللہ تعالیٰ اس میت کے بارے میں ان لوگوں کی شفاعت کو قبول کرتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← اخْرُجُوا بِہٖ فَاِنِّیْ ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← یَکُوْنُونَ اَرْبَعِینَ ← فَخَرَجْتُ فَاِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا فَاَخْبَرْتُہُ ← یَا کُرَیْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَہٗ مِنَ النَّاسِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہٗ مَاتَ ابْنٌ لَہ بِقُدَیْدٍ اَوْ بِعُسْفَانَ ← كُرَيْبٍ، ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3082

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3083

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی قَبْرِ فُلَانَۃَ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا

حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فلاں خاتون کی قبر پر (اس کی ) نماز جنازہ ادی کی تھی آپ ﷺ نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی۔

عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 3083

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3084

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى على قبر امرأة قد دفنت1. [1:4]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک خاتون کے دفن ہو جانے کے بعد اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 3084

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3085

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْعَدَوِيُّ أَبُو ذَرٍ بِبُخَارَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُهَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سُفْيَانَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ آخَرُ مَعَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ بن عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى على قبر بعدما دفن1. [1:4] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَالَ اَخْبَرَنَا اَبُوْ ذَرٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، وَاَبْنِ جُرَیْجِ عَنِ الشَّیَبَانِیِّ وَاَنَا اَھَابُہُ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے (ایک میت کے) دفن ہو جانے کے بعد اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو ذر نامی راوی نے سفیان اور ابن جریج کے حوالے سے شیبانی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور میں (اس سند کے ساتھ اس روایت کو نقل کرنے سے ) ڈرتا ہوں۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ آخَرُ مَعَهُ ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُهَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْعَدَوِيُّ أَبُو ذَرٍ بِبُخَارَى

Hadith 3085

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3086

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَلْتَقِطُ الْأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَمَاتَ فَفَقَدَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ " قَالُوا:مَاتَ, قَالَ: "هَلَّا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ" فَكَأَنَّهُمُ اسْتَخَفُّوا شَأْنَهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "انْطَلِقُوا فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : اِنَّ ھٰذِہِ الْقُبُوْرَ مَمْلوئَۃٌ ظُلْمَۃً عَلٰی اَھْلِھَا ، وَاِنَّ اللہَ یُنَوِّرُھَا عَلَیْھِمْ بِصَلَاتِی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتےہیں: ایک شخص مسجد میں صفائی کیا کرتا تھا اس کا انتقال ہو گیا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اسے غیر موجود پا کر ا س کے بارے میں دریافت کیا : آپ ﷺ نے فرمایا: فلاں کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے بتایا: اس کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ لوگوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا تھا نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ چلو اور اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے آپ ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ قبریں اپنے اہل کے لیے تاریک ہوتی ہیں، تو میرے ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے انہیں روشن کر دیتا ہے۔

لِأَصْحَابِهِ: "انْطَلِقُوا فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ ← "هَلَّا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ" فَكَأَنَّهُمُ اسْتَخَفُّوا شَأْنَهُ ← "مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ قَالُوا:مَاتَ, ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَلْتَقِطُ الْأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَمَاتَ فَفَقَدَهُ النَّبِيِّ ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3086

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3087

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِيعَ إِذَا هُوَ بِقَبْرٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا: فُلَانَةُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ: "أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟ " قَالُوا: كُنْتُ قَائِلًا صَائِمًا, قَالَ: "فَلَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ رَحْمَۃٌ قَالَ : ثُمَّ اَتَی الْقَبْرَ ، فَصَفَفْنَا خَلْفَہٗ ، وَکَبَّرَ عَلَیْہِ اَرْبَعًا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَدْ یَتَوَھَّمُ غَیْرُ الْمُتَبِحِّرِ فِیْ صِنَاعَۃِ الْعِلْمِ اَنَّ الصَّلَاۃَ عَلَی الْقَبْرِ غَیْرُ جَائِزَۃٍ لِلَّفْظَۃِ الَّتِی فِیْ خَبَرِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ : فَاِنَّ اللہَ یُنَوِّرُھَا عَلَیْھِمْ رَحْمَۃً بِصَلَاتِی وَاللَّفْظَۃِ الَّتِی فِیْ خَبَرِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ : فَاِنَّ صَلَاتِی عَلَیْھِمْ رَحْمَۃٌ وَلَیْسَتِ الْعِلَّۃُ مَا یَتَوَھَّمُ الْمُتَوَھِّمُوْنَ فِیْہِ اَنَّ اِبَاحَۃَ ھٰذِہِ السُّنَّۃِ لِلْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خَاصَّۃً دُونَ اُمَّتِہٖ ، اِذْ لَوْ کَانَ ذٰلِکَ لَزَجَزَ ھُمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ اَنْ یَّصْطَفُّوا خَلْفَہٗ ، وَیُصَلُّوْا مَعَہٗ عَلَی الْقَبْرِ ، فَفِیْ تَرْکِ اِنْکَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی مَنْ صَلّٰی عَلَی الْقَبْرِ ابْیَنُ الْبَیَانِ لِمَنْ وَفَّقَہُ اللہُ لِلْرَشَادِ وَالسَّادَادِ اَنَّہٗ فِعْلٌ مُبَاحٌ لَہٗ وَلِاُمَّتِہٖ مَعًا دُونَ اَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ بِالْفِعْلِ لَھُمْ دُونَ اُمَّتِہِ

حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم بقیع کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ایک قبر موجود تھی آپ ﷺ نے اس قبر کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگو ں نے بتایا : فلاں خاتون کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو اس خاتون کی شناخت ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اسکی (وفات ) کے بارے میں مجھے بتایا کیوں نہیں؟ لوگوں نے عرض کی: آپ ﷺ اس روزے کی حالت میں آرا م فرما رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم میں سے جس شخص کا بھی انتقال ہوتا ہے تم اس کے بارے میں مجھے اطلاع دو،کیونکہ میرا اس کے لیے نماز جنازہ اد ا کرنا رحمت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ قبر پر تشریف لائے آپ ﷺ نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور اس پر (نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے) چار مرتبہ تکبیر یں کہیں۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ ان الفاظ کی وجہ سے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں۔" بے شک اللہ تعالیٰ میرے نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے ان کی قبروں کو روشن کر دیتا ہے۔" اور ان الفاظ کی وجہ سے جو حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں۔ " میرا ان کی نماز جنازہ ادا کرنا رحمت ہے۔" حالانکہ علت وہ نہیں ہے، جو غلط فہمی کا شکار ان افراد کو غلط فہمی ہوئی کہ اس سنت کا نبی اکرم ﷺ کے لئے مباح ہونا آپ کی خصوصیت ہے یا آپ کی اُمت کے لئے نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم ﷺ لوگوں کو اس بات سے منع کر دیتے کہ وہ آپ کے پیچھے صفیں قائم کریں اور آپ کی اقتداء میں قبر پر نماز جنازہ ادا کریں تو نبی اکرم ﷺ کا اپنے پیچھے قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے والے پر انکار نہ کرنا اس بات کا واضح بیان موجود ہے لیکن یہ اس شخص کے لئے بیان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور سیدھے راستے کی توفیق عطا کی ہو کہ یہ ایک مباح فعل ہے، جو نبی اکرمﷺ کے لئے بھی مباح ہے۔ آپ کی اُمت کے لئے بھی مباح ہے۔ ایسا نہیں ہے: یہ نبی اکرم ﷺ کے لئے مباح اور آپ کی اُمت کے لئے نہ ہو۔

عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ← هُشَيْمٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3087

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3088

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ على قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ قُلْتُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قال: ابن عباس1. [1:4]

امام شعبی بیان کرتے ہیں:مجھے اس شخصیت نے یہ بات بتائی ہے، جس نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی نبی اکرم ﷺ نے اپنے پیچھے ان لوگوں کی صفیں بنوائیں تھیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: آپ کو کس نے یہ بتایا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔

الشَّعْبِيِّ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3088

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3089

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ بن عَبَّاسٍ قَالَ: انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَا معه1. [1:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ قبر کے پاس تشر یف لائے آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ہم نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔

انْتَهَى النَّبِيُّ إِلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَا معه1. ← بْنِ عَبَّاسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 3089

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3090

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوَلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ1. [2:4] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ صلاة المصطفى صلى الله عليه وسلم على الْقَبْرِ إِنَّمَا كَانَتْ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ وَالْمَنْبُوذُ نَاحِيَةٌ فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ عَلَى الْقَبْرِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ جَدِيدًا فِي نَاحِيَةٍ لَمْ تُنْبَشْ أَوْ فِي وَسَطِ قُبُورٍ لَمْ تُنْبَشْ فَأَمَّا الْقُبُورُ الَّتِي نُبِشَتْ وَقُلِبَ تُرَابُهَا صَارَ تُرَابُهَا نَجِسًا لَا تَجُوزُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّجَاسَةِ إِلَّا أَنْ يَقُومَ الْإِنْسَانُ عَلَى شَيْءٍ نَظِيفٍ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى الْقَبْرِ الْمَنْبَوشِ دون المنبوذ الذي لم ينبش.

): حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ ادا کی ہم نے بھی آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز جنازہ اد ا کی۔ ( مام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے: نبی اکرم ﷺ کا قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا ایک ایسی قبر کے بارے میں تھا جو ایک گوشے میں تھی۔ لفظ منبوذ کا مطلب گوشہ ہے تو یہ ا لفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے جبکہ وہ نئی اور کسی ایسے گوشے میں ہو جسے اکھاڑا نا گیا ہو یا قبروں کے درمیان میں ہو جسے اکھاڑا نہ گیا ہو جہاں تک ان قبروں کا تعلق ہے، جنہیں اکھاڑدیا جاتا ہے ان کی مٹی کو الٹ پلٹ دیا جاتا ہے، تو ان کی مٹی نجس ہو جاتی ہے اور نجاست والی چیز پر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر آدمی کسی پاک و صاف چیز پر کھڑا ہو اور پھر قبر پر نماز جنازہ ادا کرے وہ قبر جو اکھیڑ دی گئی ہے (تو اس کا حکم مختلف ہے) اوریہ حکم اس کے علاوہ ہے، جو کسی گوشے میں ہوتی ہے اور اکھیڑی نہیں ہوتی۔

أتى رسول الله على قبر منبوذ فصلى عليه، وصلينا معه. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Hadith 3090

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3091

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الشعبي عن بن عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ بَعْدَمَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ قَامَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانَ قَدْ سَأَلَ عَنْهُ قَالُوا: فُلَانٌ دُفِنَ الْبَارِحَةَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ1. [1:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی جسے رات کے وقت دفن کر دیا گیا تھا نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کھڑے ہو با ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے بتایا: فلاں شخص کو گزشتہ رات دفن کیا گیا تھا، تو ان لوگوں نے اس کی (قبرپر ) نماز جنازہ ادا کی۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3091

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3092

3092۔ (سند حدیث) : اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدِ بْنِ اَبِیْ عَوْنٍ الرَّیَّانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنیعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنْ عَمِّہِ یَزیدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَکَانَ اَکْبَرَ مِنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَکَانَ قَدْ شَھِدَ بَدْرًا ، وَزَیْدٌ لَمْ یَشُھَدْ بَدْرًا ، قَالَ: (متن حدیث ): خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْبَقِیعِ ، فَرَاَی قَبْرًا جَدِیدًا ، فَصَفَفْنَا خَلْفَہٗ : وَکَبَّرَ عَلَیْہِ اَرْبَعًا

حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہہ جو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہہ سے عمر سے بڑے ہیں اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، حالانکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل نہیں ہے (حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہہ) بیا ن کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ بقیع کی طرف گئے وہاں آپ ﷺ نے ایک نئی قبر ملاحظہ فرمائی ہم نے آپ ﷺ کےپیچھے صفیں بنا لیں نبی اکرم ﷺ نے اس ( کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے) چار مرتبہ تکبیریں کہیں۔

عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عباد بْنِ حُنَيْفٍ، ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، ← (سند حدیث)

Hadith 3092

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr