Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3069

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ بن أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ثُمَّ يُكَبِّرُ خَمْسًا ، فَسَاَلْنَاہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ :کَبَّرَھَا اَوْ کَبَّرَھُنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہہ ہمارے جنازوں (کی نمازوں میں) چار تکبیریں کہا کرتے تھے پھر وہ پانچ تکبیریں کہنے لگے ہم نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ (یعنی پانچوں تکبیر) راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں یہ (پانچ تکبیریں) بھی کہی ہیں۔

ذٰلِکَ فَقَالَ :کَبَّرَھَا اَوْ کَبَّرَھُنَّ رَسُوْلُ اللہِ ← كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ثُمَّ يُكَبِّرُ خَمْسًا فَسَاَلْنَاہُ ← بن أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3069

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3070

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیرٍ ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ فِی الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ: اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا ، وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیرِنَا ، وَذَکْرِنَا وَاُنْثَانَا ، اللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہِ مِنَّا فَاَحْیِہِ عَلَی الْاِیمَانِ ، وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الْاِسْلَامِ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ " اے اللہ ! ہمارے زندوں کی، مردوں کی، موجود لوگوں کی، غیر موجود لوگوں کی، کم سن افراد کی ، بڑی عمر کے لوگوں کی، ہمارے مردوں کی، ہماری خواتین کی مغفرت کر دے اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندگی دے اسے ایمان پرزندہ رکھنا اور جسے ہم میں سے موت دے اسے اسلا م پر موت دینا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3070

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3071

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ1 عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ2 اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قال: صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلٰی جَنَازَۃٍ فَقَرَاَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، وَجَھَرَ حَتّٰی اَسْمَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ اَخَذْتُ بِیَدِہِ فَسَاَلْتُہٗ عَنْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ : سُنَّۃٌ وَحَقٌّ

طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی، تو انہوں نے اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور اسے بلند آواز میں پڑھا، یہاں تک کہ ہم تک آواز آئی جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے اور حق ہے۔

طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3071

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3072

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ اَبِیْ مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمَ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ اَبِیْ ، عَنْ طَلْھَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ: شَھِدْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فَقَرَاَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَہٗ : اَتَقْرَاُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، یَا ابْنَ اَخِی سُنَّۃٌ وَحَقٌّ

طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا انہوں نے ایک نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! اے میرے بھتیجے! یہ سنت اور حق ہے۔

طَلْھَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ

Hadith 3072

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3073

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ1 قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَاغْفِرْ لَهُ ولا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده" 1. [12:5]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب آپ ﷺ نماز جنازہ ادا کرتے تھے ، تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ "اے اللہ! (یہ مرحو م) تیرا بندہ ہے تیرے بندے کا بیٹا ہے یہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، تو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اگر یہ اچھا ہے، تو اس کی اچھائی میں اضافہ کر دے اور اگر یہ برا ہے، تو اس کی مغفرت کر دے اور ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں آزمائش کا شکار نہ کرنا۔"

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3073

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3074

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ فَقَالَ: "اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَأَعِذْهُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ أَنْتَ أَهْلُ 1 الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أنت الغفور الرحيم" 2.

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ ﷺ نے ایک شخص کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے یہ دعا مانگی۔ "ا ے اللہ ! بیشک فلاں بن فلاں (یعنی یہ مرحوم) تیرے ذمے اور تیرے جوار رحمت میں ہے، تو تو اسے قبر کی آزمائش سے اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھنا، تو (ذمے کو ) پورا کرنے کا زیادہ اہل ہے اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے، تو اس پر رحم کر، بیشک تو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔"

النَّبِيِّ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،

Hadith 3074

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3075

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتَ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ مَنْزِلِهِ وَأَوْسَعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجَتِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" حَتَّى تَمَنَّيْتُ أن أكون ذلك الميت1. قَالَ ابْنُ وَھْبٍ : وَحَدَّثَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبِیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَ ھٰذَا الْحَدِیثِ

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکر مﷺ نے ایک نماز جنازہ ادا کی ، تو میں نے آپ ﷺ کی دعا کر یا دکر لی آپﷺ نے یہ پڑھا۔ "اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے، تو اس پر رحم کر، تو اس سے درگزر کر، تو اس کے ٹھکانے کو اچھا کر دے، تو اس کی قبر کو کشادہ کر دے، تو اسے پانی ، اولوں اوربرف کے ذریعے دھو دے، تو اسے گناہوں سے یوں صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے، تو اس کے گھر کی جگہ اسے ایک ایسا گھر عطا کر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو اور ایسے اہل خانہ عطا کر دے جو اس کے اہل خانہ سے زیادہ بہتر ہوں اور ایسی بیوی عطا کر دے جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو اور اسے جنت میں داخل کر دے اوراسے جہنم سے محفوظ رکھنا اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔" (راوی بیان کرتے ہیں:)، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزع کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا۔ ابن وہب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، سَمِعَهُ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 3075

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3076

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْدَانَ بِحَرَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سلمة عن بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَی الْمَیِّبِ فَاَخْلِصُوا لَہُ الدُّعَاءَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب تم میت کی نماز جنازہ ادا کرو، تو صر ف اسی کے لیے دعا مانگو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← بن إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْدَانَ بِحَرَّانَ

Hadith 3076

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3077

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حدثنا أبي عن بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَلْمَانَ الْأَغَرِ مَوْلَى جُهَيْنَةَ كُلُّهُمْ حَدِّثُونِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الجنازة فأخلصوا لها الدعاء" 1. [105:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب تم نماز جنازہ ادا کرو، تو صرف میت کے لیے دعا مانگو۔"

"إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْجَنَازَةِ فَأَخْلِصُوا لَهَا الدُّعَاءَ" ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَلْمَانَ الْأَغَرِ مَوْلَى جُهَيْنَةَ كُلُّهُمْ حَدِّثُونِي ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3077

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3078

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حرملة بن يحيى قال: حدثنا بن وهب قال: أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال: "من شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ قِيلَ يا رسول وما القيراطان قال مثل جبلين عظيمين" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص جنازے میں شریک ہوں، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے، تو اس شخص کو ایک قیراط ثوا ب ملتا ہے اور جو شخص اس کے دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہے اسے دو قیراط ثوا ب ملتا ہے عرض کی گئی: یا رسول اللہﷺ ! دو قیراط کتنے ہوتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں جتنے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 3078

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3079

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا المقرىء قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أنه كان قاعدا مع بن عُمَرَ فَاطَّلَعَ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أبو هريرة اِنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً مِنْ بَیْتِھَا حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلَیْھَا ، ثُمَّ تَبِعَھَا حَتّٰی یَدْفِنَھَا کَانَ لَہٗ قِیرَاطَانِ کُلُّ قِیرَاطٍ مِثْلُ اُحُدٍ ، وَمَنْ رَجَعَ عَنْھَا بَعْدَمَا یُصَلِّیْ وَلَمْ یَتْبَعْھَا کَانَ لَہٗ قِیرَاطٌ مِثْلُ اُحُدٍ۔ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : اذْھَبْ اِلٰی عَائِشَۃَ فَسَلْھَا عَنْ قَوْلِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ثُمَّ ارْجِعُ اِلَیَّ فَاَخْبَرَنِیْ بِمَا قَالَتْ : قَالَ : وَاَخَذَ ابْنُ عُمَر قَبْضَۃً مِنْ حَصَاۃٍ فَجَعَلَ یُقَلِّبُھَا بِیَدِہِ حَتّٰی رَجَعَ الرَّسُوْلُ فَقَالَ : قَالَتْ : صَدَقَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ، فَرَمَی ابْنُ عُمَرَ الْحَصَی اِلَی الْاَرْضِ مِنْ یَّدِہِ وَقَالَ لَقَدْ فَرَّطْنَا فِیْ قَرَارِیطَ کَثِیْرَۃٍ

داود بن عامر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران گھر کا مالک سامنے آیا اور بولا:اے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کیا آپ نے سنا نہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ کیا بیان کرتے ہیں: وہ یہ کہتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص میت کے گھر سے جنازے کے ساتھ جائے، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے پھر وہ اس کے ساتھ رہے، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے، تو اس شخص کو دو قیراط ثواب ملتا ہے جن میں سے ہر ایک قیراط احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے اور جو شخص نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد واپس آ جائے اور جنازے کے ساتھ نہ رہے ، تو اسے ایک قیراط جتنا ثواب ملتا ہے، جو احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاو اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ کے اس قول کے بارے میں دریافت کر و اور پھر میرے پاس آ کر مجھے بتانا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا جواب دیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مٹھی میں کنکریاں لیں اور انہیں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگے، یہاں تک کہ قاصد واپس آیا اور اس نے بتایا: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نے ٹھیک کہا ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کنکریاں اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف پھینکیں اور بولے: پھر تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیئے۔"

أَبُو صَخْرٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3079

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3080

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلْفٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ عَنْ عوف عن بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ثُمَّ يَقْعُدُ حَتَّى يُوضَعَ فِي قَبْرِهِ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ وَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ وَهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَلَهُ قِيرَاطٌ" 1. [2:1] قَالَ أبو حاتم رضى الله تعالى عَنْهُ:قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَهُمَا مثل أحد" يريد به أحدهما.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے مسلمان کے جنازے کے ساتھ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے پھر وہ بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس (میت کو ) قبر میں رکھ دیا جائے اور جب وہ شخص واپس آتا ہے، تو اسے دو قیراط اجر ملتا ہے یہ دونوں قیراط احد پہاڑ جتنے ہوتے ہیں اور جو شخص میت کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جائے اسے ایک قیراط ملتا ہے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان و ہ دونوں اُحد کی مانند ہوتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے: ان دونوں میں سے ایک اُحد (پہاڑ جتنا ) ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ خَلْفٍ الْوَاسِطِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3080

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr