Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ كِتَابُ الْعِتْقِ · حديث 4307

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا أَبُو الْحَسَنِ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بِأَرِيحَا، فَمَرَّ بِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، فَأَجْلَسَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيَّ، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا حَدَّثَنِي بِهِ هَذَا الشَّيْخُ - يَعْنِي وَاثِلَةَ - قُلْتُ: مَا حَدَّثَكَ؟، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَاحِبًا لَنَا قَدْ أَوْجَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقُوا عَنْهُ رَقَبَةً، يُعْتِقُ [ص:146] اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ»، «اسْمُ أَبِي عَبْلَةَ: شِمْرُ بْنُ يَقْظَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ»

ابراہیم ابن ابو عبلہ بیان کرتے ہیں: میں اریحا (کے مقام پر) بیٹھا ہوا تھا میرے پاس سے حضرت واثلہ بن اسقع گزرے انہوں نے عبداللہ بن دیلمی کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی انہوں نے انہیں وہاں بٹھایا پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے: میں اس بات پر بڑا حیران ہوا ہوں جو اس شیخ نے یعنی حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے میں نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے، تو اس نے بتایا: (انہوں نے یہ بات بیان کی ہے) غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے ایک ساتھی نے واجب کر لی ہے (یعنی کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کردو۔ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر ایک عضو کے عوض میں اس شخص کے عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔ ابو عبلہ کا نام شمر بن یقظان بن عامر بن عبداللہ ہے۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← عبد الله بن سالمٍ الأشعري، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا أَبُو الْحَسَنِ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The Manumission Book · Hadith 4307

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ كِتَابُ الْعِتْقِ · حديث 4308

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ صَالِحَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَابِلًا صَاحِبَ الْعَبَاءِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایک مومن گردن (یعنی غلام یا کنیز) کو آزاد کر تا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک عضو کے عوض میں (آزاد کرنے والے) کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے“۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَنَّ نَابِلًا صَاحِبَ الْعَبَاءِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ صَالِحَ بْنَ عُبَيْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The Manumission Book · Hadith 4308

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ كِتَابُ الْعِتْقِ · حديث 4309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ، بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:148] حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا مِنَ النَّارِ» قَالَ الشَّيْخُ: «أَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ»

حضرت ابو نجیح سلیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ طائف کا محاصرہ کیا ہواتھا میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو بھی مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ایک ہڈی کے عوض میں آزاد کرنے والے کی ہر ایک ہڈی کو جہنم سے محفوظ کر دیتا ہے اور جو بھی مسلمان عورت کو آزاد کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض میں آزاد کرنے والی کی ہر ہڈی کو جہنم سے محفوظ کر دیتا ہے“۔

أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The Manumission Book · Hadith 4309

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ كِتَابُ الْعِتْقِ · حديث 4310

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: [ص:149] حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ»، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا»، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: «تُعِينُ ضَعِيفًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ، قَالَ: «تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ»

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی کون سی گردن زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں یہ نہ کروں (یعنی اگر میں یہ نہ کر سکوں، تو پھر مجھے کیا کرنا چاہئے) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم کمزور کی مدد کرو، معذور کے لیے کام کر دو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اگر مجھ سے یہ بھی نہ ہو سکے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو، کیونکہ یہ تمہاری طرف سے تمہاری ذات کے لیے صدقہ شمار ہو گا۔

النَّاسِ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ» ← «تَكُفُّ شَرَّكَ ← قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ، ← «تُعِينُ ضَعِيفًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»، ← قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ، ← «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا»، ← قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، ← «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ»، ← قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي مُرَاوِحٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← [ص:149] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The Manumission Book · Hadith 4310

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ كِتَابُ الْعِتْقِ · حديث 4311

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَهُمَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أَعْتَقْتِيهِمَا فَابْدَئِي بِالْغُلَامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے، ان کا ایک غلام اور ایک کنیز تھے جو شادی شدہ تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تم ان دونوں کو آزا د کرنا چاہتی ہو، تو کنیز سے پہلے غلام کو آزاد کرنا۔

عَائِشَةَ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَهُمَا، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The Manumission Book · Hadith 4311

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ · حديث 4312

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الشَّهِيدُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: میرے سامنے وہ تین افراد پیش کیے گئے جو جنت میں پہلے داخل ہوں گے ان میں سے ایک شہید ہو گا ایک وہ غلام ہو گا، جو اپنے پروردگار کی اچھی عبادت کرتا رہا اور اپنے آقا کا خیر خواہ رہا اور ایک وہ پاک دامن شخص ہو گا، جو بال بچے دار ہو اور مانگنے سے بچتا ہو۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › Chapter of the company of the Mamluks · Hadith 4312

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ · حديث 4313

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، عَنْ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ، وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ إِلَّا مَا يُطِيقُ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ، وَلَا تُعَذِّبُوا عِبَادَ اللَّهِ خَلْقًا أَمْثَالَكُمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غلام کو خوراک اور کپڑا دیا جائے گا اور اسے اسی بات کا پابند کیا جائے گا، جس کی اس میں طاقت ہو اگر تم اسے کسی کام کا پابند کرتے ہو، تو خود بھی ان کی مدد کرو اور اللہ کے بندوں کو عذاب نہ دو، کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح مخلوق ہیں “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلَانَ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › Chapter of the company of the Mamluks · Hadith 4313

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ · حديث 4314

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا خَفَّفْتَ عَنْ خَادِمِكَ مِنْ عَمَلِهِ كَانَ لَكَ أَجْرًا فِي مَوَازِينِكَ»

حضرت عمرو بن حریت رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم اپنے خادم کے کام میں جتنی تخفیف کرو گے تو یہ تمہارے میزان میں اجر بن جائے گی“۔

عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← أَبُو هَانِئٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › Chapter of the company of the Mamluks · Hadith 4314

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ إِعْتَاقِ الشَّرِيكِ · حديث 4315

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا مَمْلُوكٍ كَانَ بَيْنَ شُرَكَاءَ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ، فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ فِي مَالِ الَّذِي أَعْتَقَ قِيمَةَ عَدْلٍ فَيُعْتَقُ إِنْ بَلَغَ ذَلِكَ مَالُهُ» *

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی غلام لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو جس نے اس کے حصے کو آزاد کیا ہے اس کے مال میں سے اس غلام کی مناسب سی قیمت لگائی جائے گی اور پھر اس غلام کو مکمل آزاد کر دیا جائے گا اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس اتنا مال موجود ہو (جو غلام کی قیمت جتنا ہو) “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The door to the release of the partner · Hadith 4315

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ إِعْتَاقِ الشَّرِيكِ · حديث 4316

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، وَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وَأَعْتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال موجود ہو، جو غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو، تو اس غلام کی مناسب طور پر قیمت لگائی جائے گی اور وہ شخص اپنے شراکت داروں کو ان کا حصہ دیدے گا اور وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ اس غلام کا صرف اتنا ہی حصہ آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The door to the release of the partner · Hadith 4316

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ إِعْتَاقِ الشَّرِيكِ · حديث 4317

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ، بِصَيْدَا، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ فِيهِ شَرِيكٌ، وَلَهُ وَفَاءٌ فَهُوَ حُرٌّ، وَيَضْمَنُ نَصِيبَ شُرَكَائِهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ لِمَا أَسَاءَ مُشَارَكَتَهُمْ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ شَيْءٌ»، «أَبُو مُعَيْدٍ هَذَا اسْمُهُ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الرُّعَيْنِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الشَّامِ وَفُقَهَائِهِمْ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی غلام کو آزاد کر تا ہے اور اس غلام میں اس کے (دوسرے) حصے دار بھی ہوں اور اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ وہ اس غلام کی پوری قیمت ادا کر سکتا ہو ، تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا اور وہ شخص اپنے شراکت داروں کا حصہ مناسب قیمت کے حساب سے ادا کر دے گا اس وجہ سے کہ اس نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ زیادتی کی ہےاور غلام پر کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی“۔ ابومعید نامی راوی کا نام حفص بن غلان رعینی ہے یہ اہل شام سے تعلق رکھنے والے ثقہ اور فقہیہ شخص ہیں۔

جَابِرٍ ← ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءٍ، ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو مُعَيْدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The door to the release of the partner · Hadith 4317

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ بَابُ إِعْتَاقِ الشَّرِيكِ · حديث 4318

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، [ص:157] وَيَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٌ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اگر وہ خوشحال ہو گا، تو اس غلام کی قیمت وہ ادا کرے گا اور اگر وہ تنگ دست ہو گا، تو پھر غلام کو تنگی کا شکار کیے بغیر اس سے مزدوری کروائی جائے گی (اور دوسرے شخص کے حصے کی قیمیت ادا کر دی جائے گی) “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، [ص:157] وَيَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The door to the release of the partner · Hadith 4318

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr