Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1144

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ ، عَنْ مَّالِکٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّالنَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَکَلَ کتف شاۃ، ثم صلی ولم یتوضاْ۔4:19

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا پھر آپ نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّالنَّبِیِّ اَکَلَ کتف شاۃ، ثم صلی ولم یتوضاْ۔4:19 ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1144

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1145

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَبَسَطَتْ لَهُ عِنْدَ صَوْرٍ، وَرَشَّتْ حَوْلَهُ، وَذَبَحَتْ شَاةً فَصَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا، فَأَكَلَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّى، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ فَضَلَتْ عِنْدَنَا مِنْ شَاتِنَا فَضْلَةٌ، فَهَلْ لَكَ فِي الْعَشَاءِ؟ قَالَ: "نَعَمْ". فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى العصر ولم يتوضأ2. 20:5

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک انصاری خاتون کے ہاں تشریف لے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس نے کھجوروں کے ایک جھنڈ کے سائے کے قریب آپ کے لئے دستر خوان بچھایااور اس کے ارد گرد پانی چھڑک دیا ۔ اس نے ایک بکری ذبح کی تھی نبی اکرم ﷺ نے اس وا گوشت کھایا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایا پھر نبی اکرم ﷺ نے کھجوروں کے جھنڈ کے نیچے قیلولہ کیا پھر آپ بیدار ہوئے ، تو آپ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کی ۔اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس کھانے میں سے کچھ بچا ہوا ہے، تو کیا آپ اسے مزید کھانا پسند کریں گے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ، تو آپ نے اسے کھایا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایاپھر آپ نے از سر نو وضو کئے بغیر نماز ادا کی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1145

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1146

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ، عَنْ اِبْرَاھِیمَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَارِظٍ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ اَکَلَ اَثْوَارَ قِطٍ فَتَوَضَّاَ ، ثُمَّ قَالَ: اَتَدْرُوْنَ لِمَ تَوَضَّاْتُ؟ اِنِّیْ اَکَلْتُ اَثْوَارَ اَقِطٍ ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: تَوَضَّاْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔5:20

ابراہیم بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ ؓ نے پنیر کے ٹکڑے کھائے اور وضو کیا پھر انہون نے یہ بات بتائی کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں نے کیاں وضو کیا ہے ؟ میں مے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "تم لوگ آگ پر پکی ہوئی چیزوں کو کھانے کے بعد وضو کیا کرو ۔" عمر بن عبد العزیز شکر کھانے کے بعد وضو کیا کرتے تھے۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← بن عُلَيَّةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1146

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1147

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عن بن شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَسَأَلَهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "تَوَضَّأْ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ" 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ وَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَإِنَّمَا هُوَ إبراهيم بن عبد الله بن قارظ2.

عبد اللہ بن ابراہیم بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے ہوئے پایا انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بتایا کہ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے۔اس وجہ سے میں وضو کر رہا ہوں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : " آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرو۔" ( امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) یہ روایت ابن کو قتیبہ نے اس طرح سنائی ہے ، اور انہوں نے راوی کا نام عبد اللہ بن ابراہیم بیان کیا ہے جبکہ اس کا انم ابراہیم بن عبد اللہ ہے ۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اسی طرح یہ روایت ابن قتیبہ نے ہمیں بیان کی ہےوہ ہمیں یہ کہتا ہے۔ راوی کانام عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ ہے حالانکہ اس کا نام ابراہیم بن عبد اللہ بن قارظ ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، ← أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَسَأَلَهُ، ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ← بن شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يُونُسُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 1147

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1148

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَوَضَّاْ مِمَّا مَسَّتِ النار۔1:100

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرو ۔"

تَوَضَّاْ مِمَّا مَسَّتِ النار۔1:100 ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1148

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1149

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ2 بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ، فَشُوِيَ لَهُ بَطْنُهَا، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قام يصلي ولم يتوضأ3.

حضرت ابو رافع ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بکری پیش کی گئی اس کا پیٹ آپ کے لئے بھون لیا گیا نبی اکرم ﷺ نے اسے کھایا پھر اٹھ کر نماز ادا کی اور ا ٓپ نے از سر نو وضو نہیں کیا ۔

أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← شرحبيل بن سعد الأنصاري ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 1149

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1150

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الخليل بنسا، قالا: حدثنا بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْتَزُّ مِنْ عَرْقٍ يَأْكُلُ، فَأَتَى الْمُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، فَأَلْقَى الْعَرْقَ وَالسِّكِّينَ مِنْ يَدِهِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ1. 19:4 قَالَ إِسْحَاقُ: عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَذْكُرِ الضَّمْرِيَّ، وَقَالَ: "يَحْتَزُّ مِنْ عَرْقٍ فَأَتَاهُ الْإِذْنُ بِالصَّلَاةِ". وَقَالَ: "من يده وصلى ولم يتوضأ".

حضرت امرو بن عمیہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے گوشت کھایا پھر موذن نماز کے لئے بلانے آیا تو نبی اکرم ﷺ نے ہڈی کو چھری کو ایک طرف رکھا دیا جو آپ دست اقدس میں موجود تھی ، اور آپ نے از سر نو وضو نہیں کیا ۔ اسحاق نامی راوی نے اپنی سند کے ساتھ فضل بن عمرو کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ انہوں نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری ؓ کا نام ذکر نہیں کیا اور انہوں نے یہ الفاظ ذکر کئے ہیں : " آپ ہڈی کا گوشت نوچ کر کھارہے تھے پھر نماز کے لئے بلاوا آگیا۔" اس راوی نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں " آپ نے اپنے ہاتھ میں سے ( چھری ) کو رکھ دیا اور نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔"

عمرو بن أُمية ← الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← بن عمار ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الخليل بنسا، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1150

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1151

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّہٗ رَاَی النَبِیَّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّاَ مِنْ ثَوْرِ اَقِطٍ ثُمَّ رَآہُ اَکَلَ کَتِفَ شَاۃٍ فَصَلّٰی وَلَمْ یتوضأ۔1:100

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے پنیر کے ٹکڑے کھانے کے بعد وضو کیا پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے بکری کے شانے کا گوشت کھایااور نماز ادا کر لی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1151

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1152

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حدثنا حماد بن يزيد، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى رَوْحَةٍ2 مِنْ خَيْبَرَ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِطَعَامٍ فَلَمْ يُوجَدْ إِلَّا سَوِيقٌ، قَالَ: فَأَكَلْنَاهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى الله عليه وسلم، وصلى ولم يتوضأ3. 19:4

حضرت سوید بن نعمان ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ آرہے تھے یہاں تک کہ جب ہم خیبر کے ایک مقام روحا پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے کھانا منگوایا تو کھانے میں صرف ستو دستیاب ہوئے۔راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے انہیں کھا لیا نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا پھر نبی اکرم ﷺ نے کلی کی اور نماز ادا کر لی۔ آپ نے از سر نو وضو نہیں کیا۔

سُوَيْد بْنِ النُّعْمَانِ ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 1152

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1153

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بَدْرٍ1 بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ بن عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أكل عرقا عرقا مِنْ شَاۃٍ، ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ یَتَمَضْمَضْ ، وَلَمْ یمس ماء۔4:1

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے بکری کا گوشت کھایا پھر آپ نے نماز ادا کی ۔ آپ نے کلی نہیں کی اور پانی کو نہیں چھوا ( یعنی از سر نو وضو نہیں کیا )

بْنِ عَبَّاسٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بَدْرٍ1 بِحَرَّانَ،

Hadith 1153

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1154

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ". قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "نَعَمْ تَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ". قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإبل؟ قال: "لا" 2. 20:5

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : یا رسول اللہ! کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر تم چاہو تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو تو وضو نہ کرو۔ اس شخص نے عرض کی : کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں۔اس نے دریافت کیا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں۔

جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیِّ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1154

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1155

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَامَ خَیْبَرَ ، حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِالصَّھْبَاءِ وَھِیَ مِنْ اَدْنَی خَیْبَرَ نَزَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلّٰی الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِالْاَزْوَادِ فَلَمْ یُؤْتَ اِلَّا بِالسَّوِیْقِ ، فَاَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَثُرِّیَ ، فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَکَلْنَا مَعَہُ ، ثُمَّ قَامَ اِلَی الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا وَلَمْ یَتَوَضَّاْ۔5:20

حضرت سوید بن نعمان ؓ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ فتح خیبر کو موقع پر روانہ ہوئے ۔ راوی کہتے ہیں جب ہم صہبا کے مقام پر پہنچے ، یہ خیبر کے قریب ایک جگہ ہے وہان نبی اکرم ﷺ نے پڑاو کیا اور عصر کی نماز ادا کی پھر آپ نے کھانے لانے کا حکم دیا تو صرف ستو پیش کئے گئے۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تھت انہیں پانی میں گھول دیا گیا پھرنبی اکرم ﷺ نے انہیں کھا لیا ۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھا لیا پھر نبی اکرم ﷺ مغرب کی نماز ادا کرنے کے لئے کھرے ہوئے ، تو آپ نے کلی کی ہم نے بھی کلی کی نبی اکرم ﷺ نے از سر نو وضو نہیں کیا ۔

بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1155

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr