Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1120

أخبرنا بن قتيبة بعسقلان، حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ، أَخْبَرَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أحدنا يكون في الصلاة، فيحتك فيصيب يَدُهُ ذَكَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْكَ أو مضغة منك" 2. 23:1

قیس بن طلق بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی : ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے۔ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسو ل اللہ !ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کی حالت میں ہوتا ہے، اور اس کا ہاتھ اس کی شرم گاہ تک پہنچ جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شرم گاہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے ، راوی کو شک ہے شاید یہ لافاظ ہیں ؛ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔

كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: ← أَبِي ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة بعسقلان،

Hadith 1120

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1121

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: "لَا بأس به إنه لبعض جسدك" 1. 23:1

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ؛ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو نماز کی حالت میں اپنی شرم گاہ کو چھو لیتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اس میں کوئی حرج نہیں ، وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔

"لَا بأس به إنه لبعض جسدك" ← الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، ← أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ، ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ،

Hadith 1121

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1122

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَقُولُ: "قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ2 لَهُ مَسًّا" 3. 23:1

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ آپ یہ فرمایا کرتے تھے: " مٹی میں سے یمامی کو آگے کرو ، کیونکہ مس کرنے کے اعتبار سے یہ سب سے زیادہ عمدہ ہے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )حضرت طلق بن علی کی روایت جو ہم نے نقل کی ہے یہ منسوخ حدیث ہے۔ حضرت طلق بن علی نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں ہجرت کے پہلے سال آئے تھے۔ جب مسلمان مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ منورہ میں کر رہے تھے۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے شرم گاہ کو چھونے پر وضو لازم ہونے کی حدیث نقل کی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ نے سن ۷ ہجری میں اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے ، حضرت ابو ہریرہ ؓ کی نقل کردہ روایت حضرت طلق بن علی کی روایت کردہ روایت سے سات سال بعد کی ہے۔

"قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ2 لَهُ مَسًّا" ← بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ ← أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1122

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1123

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بَيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ2 مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ ، وَصَبَّ لَنَا فِیْ اِدَاوَۃٍ ، ثُمَّ قَالَ: اذْھَبُو بِھٰذَ الْمَاءِ فَاِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَکُمْ ، فَاکْسِرُوا بِیْعَتَکُمْ ،ثُمَّ النْضَحُوا مَکَانَھَا مِنْ ھٰذَا الْمَاءِ ، وَاتِّخِذُوْا مَکَانَھَا مَسْجِدًا فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، الْبَلَدُ بَعِیقدٌ ، وَالْمَاءُ یَنْشَنفُ ، قَالَ: فَاَمِدُّوہُ مِنَ الْمَاءِ ، فَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُہُ اِلَّا طِیبًا فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلٰی حَمْلِ الْاِدَاوَۃِ اَیُّنَا یَحْمِلُھَا ، فَجَعَلَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَوْبًا لِکُلِّ رَجُلٍ مِنَّا یَوْمًا وَّلَیْلَۃً ، فَخَرَجْنَا بِھَا حَتّٰی قِدِمْنَا بَلَدَنَا فَعَمِلْنَا لَّذِیْ اَمَرَنَا ، وَرَاھِبُ ذلک القوم رَجل من طیء ، فَنَادَیْنَا بِالصَّلَاۃِ ، فَقَالَ الرَّاھِبُ: دَعْوَۃُ حَقٍّ ، ثُمّ ھَرَبَ فَلَمْ یُرَبَعْدَ۔1:23

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم چھ افراد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پانچ افراد کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور ایک شخص کا تعلق بنو ضبیعہ بن ربیعہ سے تھا ۔ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ کے دست منبارک پر اسلام قبول کیا ور آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقہ میں ایک گرجا گھر ہے ہم نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی ہمیں عنایت کریں تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا ۔ آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا پھر کلی کی آپ نے ہمارے لئے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اس پانی کو لے جاو تم اپنے علاقہ میں جاو تو گرجا گھر کو توڑ دینا اور اس جگہ پر اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ مسجد بنا دینا ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا علاقہ بہت دور ہے۔ پانی خشت ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس میں پانی ملاتے رہنا ۔اس کے نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تو ہمارے درمیان اس بات میں اختلاف ہو گیا ۔ پانی کے اس برتن کو کون اٹھائے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہم میں ہر ایک شخص کی ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی ۔ ہم لوگ اسے لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اپنے علاقہ میں آئے۔ ہم نے وہی کام کیا جس کی ہمیں نبی اکرم ﷺ نے ہدایت کی تھی۔ اس قوم کا راہن طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جب ہم نے نماز کے لئے اذان دی تو راہب نے کہا : یہ حق کی دعوت ہے، پگھر وہ بھاگ گیا۔ اس کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔ ( اما م ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس روایت مین اس بات کا واضح بیان موجود ہے حضرت طلق بن علی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے بعد اپنے علاقہ میں واپس چلے گئے تھے ۔ یہ اس وقت کی بات جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد دوبارہ ان کے مدینہ منورہ میں آنے کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ۔ جو شخص ان کے دوبارہ مدینہ منورہ آنے کا دعوٰی کرتا ہے اس پر یہ بات لازم ہے، وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس میں اس بات کی حراحت موجود ہو اور یہ حدیث اسے مل نہیں سکتی۔

أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْحَنَفِيِّ ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1123

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1124

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :قَالَ : رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَتَوَ ضَّاُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ: اِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّاْ وَاِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّاْ وَاِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّاْ قَالَ: اَنْتَوَضَّاُ مِنْ لُحُومِ الْاِبِلِ ، قَالَ: نَعَمْ قِاکِ: اُصَلِّی فِیْ مَبَارِکِ الْاِبِلِ ؟ قَالَ: لَا۔3:54

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : یا رسول اللہ! کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر تم چاہو تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو تو وضو نہ کرو۔ اس شخص نے عرض کی : کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جہ ہاں۔اس نے دریافت کیا کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں۔

جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیِّ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1124

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1125

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ». [1: 100]

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ہدایت کی تھی اونٹوں کا گوشت کھا کر ہم وضو کر لیا کریں اور بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کیا کریں ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1125

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1126

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرِ بْنَ1 عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْإِبِلِ فَنَهَى عَنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَقَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تتوضأ "2. 100:1 قال أبو حاتم رضي الله تعالى عَنْهُ: أَبُو ثَوْرِ بْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: اسْمُهُ جَعْفَرٌ، وَكُنْيَةُ أَبِيهِ: أَبُو ثَوْرٍ، فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ هُوَ: أَبُو ثور بن عكرمة بن1 جابر بن سمرة، روى، عنه عثمان بن عَبْدِ اللہِ بْنِ مَوْھَبٍ ، وَاَشْعَتُ اَبِیْ الشَّعْثَاءِ ، وَسِمَاکُ بْنُ خُرْبٍ فَمَنْ لَمْ یُحْکِمُ صِنَاعَۃَ الْحَدِیثِ تَوَھَّمَ اَنَّھُمَا رَجُلَانِ مَجْھُولَانِ: فَتَففَھَّمُوا رحمکم اللہ کیلا تغالطوا فیہ۔

حضرت جابر بن سمرہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ سے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے اس بات کی اجازت دی، اور آپ سے اونٹوں کے باڑے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے اس سے منع کر دیا۔ آپ سے بکری کا گوشت کھا کرنے وضو کرنے کا بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو تو وضو نہ کرو۔

"إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تتوضأ ← الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ ← الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْإِبِلِ فَنَهَى عَنْهَا، وَسُئِلَ ← الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَسُئِلَ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ سُئِلَ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبَا ثَوْرِ بْنَ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1126

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1127

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ2. 1:4

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات کی ہدایت کی تھی کہ ہم اونؔٹوں کا گوشت کھا کر وضو کریں اور بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں ، اور اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نی کریں اور بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کریں۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1127

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1128

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ: أَنُصَلِّي فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "لَا". قِيلَ أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قِيلَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قِيلَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "لَا" 1. 110:1 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عنه: في سؤال السائل عن الوضوء مِنْ لُحُومِالْاِبِلِ ، وَعَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ اَعْطَانِھَا ، وَتَفْرِیقِ النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَیْنَ الْجَوَابَیْنِ: اَرَی الْبَیَانَ اَنَّہٗ اَرَادَ الْوُضُوْءَ الْمَفْرُوضَ لِلصَّلَاۃِ دُونَ غَسلِ الْیَدَیْنِ ، وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ غَسْلَ الْیَدَیْنِ مِنَ الْغَمْرِ لَاسْتَوَی فِیْہِ لُحُومُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ جَمِیعًا ، وَقَدْ کَانَ تَرْکُ الْوُضُوْءِ مِمَّا مَسَّتْہُ النَّارُ ، وَبَقِیَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَیْہِ مّدَّۃً ، ثُمَّ نُسِخُ ذٰلِکَ ، وَبَقِیَ لُحُومُ الْاِبِلِ مُسْتَثْنًی من جملۃ ما أبیح بعد الخطر الذی تقدم ذکرنالہ۔

حضرت براء ؓ بیا ن کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کریں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ عرض کی گئی کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ جی ہاں۔عرض کی گئی کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں ۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) سائل کے سوال میں اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کرنے اور اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کا تذکرہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دونوں جوابوں میں فرق کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ کی پراد یہ ہے ، وہ وضو جو فرض نماز کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد دونوں ہاتھ دھونا نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے بو کی وجہ سے دونوں ہاتھ دھونا مراد ہوتا ہے۔ تو اس بارے میں اونٹوں کے گوشت اور بکریون کے گوشت کا حکم برابر ہوتا ہے۔ پہلے یہ حکم تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر سے وضو ٹوٹ جاات ہے۔ یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اونٹوں کا گوشت کا حکم مستثنٰی طور پر باقی رہا ۔ جس کا استثنٰا ان چیزوں سے کیا گیا تھا ، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔

الْبَرَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1128

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1129

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَضَرٍ الْخَلْقَانِيُّ بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ عَلَى قِدْرٍ، فَانْتَشَلَ مِنْهَا عظما، فأكله ثم صلى ولم يتوضأ3. 1:4

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ہنڈیا کے پاس سے گزرے ، آپ نے اس میں سے ایک ہڈی والا گوشت کھایا پھر آپ نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ بیان کہ پھر ٓاپ نے اسے کھا لیا اس سے مراد وہ گوشت جو ہڈیوں پر لگا ہوا تھا ۔ ہدی کھانا مراد نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَضَرٍ الْخَلْقَانِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 1129

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1130

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرزاق، قال: أخبرنا بن جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ولم يتوضأ، ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ: أَيْنَ شَاتُكُمُ الْوَالِدُ؟ فَأَمَرَنِي بِهَا. فَاعْتَقَلْتُهَا فَحَلَبْتُ لَهُ، ثُمَّ صَنَعَ لَنَا طَعَامًا فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى قَبْلَ أن يتوضأ، ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ، فَوَضَعْتُ جَفْنَةً فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّيْنَا قَبْلَ أَنْ نتوضأ1. 1:4

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا آپ نے اسے کھا لیا پھر آپ نے وضو کا پانین منگوایا پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے باقی بچے ہوئے کھانے کو کھا لیا پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔ میں حضرت ابو بکر ؓ کے ہمراہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دریافت کیا : کیا کوئی چیز ہے، تو انہیں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہاری وہ بکری کہاں ہے جو بچہ دینے والی تھی، پھر آپ نے اس کے بارے میں مجھے حکم دیا میں نے اسے کھول لیا اور اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر آپ نے کھانا تیار کروایا، آپ نے اسے کھایا پھر آپ نے وضو کرنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی۔ میں حضرت عمر کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ایک پیالہ رکھا جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا ۔ ہم نے اسے کھا لیا پھر ہم نے از سر نو وضو کئے بغیر نماز ادا کی ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر ؓ سے منقول ہے

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1130

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1131

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ -أَوْ قَالَ: تَعَرَّقَ مِنْ ضِلَعٍ- ثم صلى ولم يتوضأ2. 20:5

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( جانور ) کے شانے کا گوشت کھایا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) پسلی کا گوشت کھایا آپ نے نماز ادا کی اور ازسر نو وضو نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1131

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr