Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1108

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عن بن شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، في الإناء الواحد1. 10:5

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتی تھیں ۔

عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، في الإناء الواحد1. ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Hadith 1108

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1109

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم، كَانَ يُصَلِّي، وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ ابْنَتِهِ، فَكَانَ إِذَا قَامَ، حَمَلَهَا، وَإِذَا سَجَدَ وضعها1. 10:5

حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ نے حضرتط امامہ ؓ کو اٹھا یا ہوتا تھا جو نبی اکرم ﷺ کی نواسی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ جب کھڑے ہوتے تھے تو انہیں اٹھا لیتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تھے ، تو انہیں ایک طرف ( یعنی کھڑا کر دیتے تھے)۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1109

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1110

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ1 أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جُلُوسٌ2 إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ، حَتَّى قضى صلاته يفعل ذلك بها3.

عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت ابو قتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پا س تشریف لائےآپ ﷺ نے حجرت امامہ بنت اببو العاص کو آٹھا ہو اتھا اس بچی کی والدہ حضرت زینب ؓ تھیں جو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی تھیں وہ ابھی کم سن بچی تھی نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی ، تو بچی آپ کیے کندھے پر تھی۔ جب آپ رکوع میں گئے تو آپ نے اسے ایک طرف ( کھڑا ) کر دیا جب آپ کھرے ہوئے ، تو آپ نے دوبارہ اسے کندھے پر بتھا لیا ، یہاں تک کہ اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی ۔

أَبَا قَتَادَةَ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ،

Hadith 1110

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1111

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو الطاهر، قال: حدثنا بن وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنْ كُنْتُ لَأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِنَاءٍ واحد، تختلف أيدينا فيه وتلتقي1. 1:4

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں میں اور نبی اکرم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے ۔ ہمارے ہاتھ اس برتن میں الگ ہوتے تھے اور اس میں ملتے تھے۔

وَرَسُولُ اللَّهِ، مِنْ إِنَاءٍ واحد، تختلف أيدينا فيه وتلتقي1. ← عَائِشَةَ تَقُولُ إِنْ كُنْتُ لَأَغْتَسِلُ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1111

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1112

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ». [1: 23] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ نَحْتَجَّ بِخَبَرٍ رَوَاهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَذَوُوهُ فِي شَيْءٍ مِنْ كُتُبِنَا، لَأَنَّا لَا نَسْتَحِلُّ الِاحْتِجَاجَ بِغَيْرِ الصَّحِيحِ مِنْ سَائِرِ الْأَخْبَارِ، وَإِنْ وَافَقَ ذَلِكَ مَذْهَبَنَا، وَلَا نَعْتَمِدُ مِنَ الْمَذَاهِبِ إِلَّا عَلَى الْمُنْتَزَعِ مِنَ الْآثَارِ، وَإِنْ خَالَفَ ذَلِكَ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا، وَأَمَّا خَبَرُ بُسْرَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، فَإِنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ بُسْرَةَ، فَلَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ مَرْوَانُ شُرْطِيًّا لَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا، ثُمَّ آتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِمِثْلِ مَا قَالَتْ بُسْرَةُ، فَسَمِعَهُ عُرْوَةُ ثَانِيًا عَنِ الشُّرْطِيِّ، عَنْ بُسْرَةَ، ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى بُسْرَةَ فَسَمِعَ مِنْهَا، فَالْخَبَرُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ مُتَّصِلٌ لَيْسَ بِمُنْقَطِعٍ، وَصَارَ مَرْوَانُ وَالشُّرْطِيُّ كَأَنَّهُمَا عَارِيَتَانِ يَسْقُطَانِ مِنَ الْإِسْنَادِ.

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں مروان بن حکم کے پاس گیا ہم نے اس بات کا ذکر شروع کیا کون سی صورتوں میں وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔، تو مروان نے بتایا سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب کوئی شخص اپنی شرکگاہ کو چھو لے تو اسے وضو کرنا چاہئے" (امام ابن حبان رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : ) ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، ہم اپنی کتابوں میں کوئی ایسی بات نقل کریں جسے مروان بن حکم اور ان جیسے افراد نے نقل کیا ہو، وجہ یہ ہے ہم اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ روایات میں سے غیر مستند روایات سے استدلال کیا جائے ۔ حتی کہ وہ ہمارے موقف کے موافق ہی کیوں نہ ہو اور مذاہب میں سے ہم صرف انہیں روایات پر عمل کریں گے جو مستند ہو ں۔ اگرچہ وہ ہمارے ائمہ کے قول کے خلاف ہوں ۔ جہاں تک سیدہ بسرہ ؓ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے تو عروہ بن زبیر نے یہ روایت مروان بن حکم کے حوالے سے سیدہ بسرہ ؓ سے سنی ہے ، لیکن انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ مروان نے اپنے ایک سپاہی کو سیدہ بسرہ ؓ کی خدمت میں بھیجا اور اس نے ان سے سوال کیا ۔ پھر ان لوگوں کے پاس گیا اور انہیں اس چیز کے بارے میں بتایا جو سیدہ بسرہ ؓ نے بیان کی ہے۔ تو عروہ نے دوسری دفعہ یہ روایت سپاہی کے حوالے سے بسرہ ؓ سے سن لی لیکن پھر انہوں نے اس پر بھی قناعت نہیں کی ، یہاں تک کہ وہ خود سیدہ بسرہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے اس حدیث کو سنا تو یہ روایت عروہ کے حوالے سے سیدہ بسرہ ؓ سے منقول ہے۔ یہ متصل ہے یہ منقطع نہیں ہے۔ مروان اور اس کا سپاہی دو عاریت کے طور پر راوی ہون گے جسے ان کی سند سے ساقط کر دیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 1112

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1113

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بن مسرح الحراني أبو بدر بسر غامرطا مِنْ دِيَارِ مُضَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ حَدَّثَہٗ عَنْ بُسْرَۃً بِنْتِ صَفْوَانَ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا مَسَّ اَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ، فَلْیَتَوَضَّاْ قَالَ: فَاَنْکَرَ ذٰلِکَ عُرْوَۃُ ، قسأل بسرۃ، فصدقتہ۔1:23

سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو اسے وضو کرنا چاہئے۔" راوی بیان کرتے ہیں عروہ نے اس بات کا انکار کیا ہے ، پھر انہوں نے سیدہ بسرہ ؓ سے دریافت کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ۔

بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ← أبيه أن مروان بن الحكم ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبِي

Hadith 1113

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1114

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ عَنْ بُسْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّاْ قال عروۃ : فسألت بسرۃ ، فصدقتہ ۔1:23

سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں ، جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو اسے وضو کرنا چاہئے۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے سیدہ بسرہ ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔

بُسْرَةَ ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← بن أبي فديك ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1114

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1115

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُسْرَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ" 2. 23:1 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَوْ كَانَ الْمُرَادُ مِنْهُ غَسْلَ الْيَدَيْنِ كَمَا قَالَ بَعْضُ النَّاسِ، لَمَّا قَالَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ" إِذِ الْإِعَادَةُ لَا تَكُونُ إِلَّا لِلْوُضُوءِ الَّذِي هُوَ للصلاة.

بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے وہ وضو کرے۔" (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : ) اگر اس سے مراد دونوں ہاتھ دھونا ہوتا جس طرح بعض لوگون نے یہ بات کہی ہے، تو نبی اکرم ﷺ یہ نا فرماتے : " دوبارہ وضو کر لے " کیونکہ دوبارہ صرف وہی وضو ہو سکتا ہے جو نماز کے لئے کیا جائے۔

بُسْرَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1115

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1116

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُرَيْشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ المقرىء، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ عَنْ بُسْرَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "من مس ذكره، فليتوضأ وضوءه للصلاة" 1. 23:1

سیدہ بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے وہ نماز کے وضو والا وضو کرے۔"

بُسْرَةَ ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ المقرىء، ← أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُرَيْشٍ،

Hadith 1116

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1117

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ. وَالْمَرْأَةُ مثل ذلك" 2. 23:1

سیدہ بسرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے ، تو اسے وضو کرنا چاہئے اور عورت بھی اسی طرح کرے۔"

"إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ. وَالْمَرْأَةُ مثل ذلك" ← النَّبِيِّ ← بُسْرَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1117

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1118

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نعيم القارىء، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "إذا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا ستر ولا حجاب، فليتوضأ" 2. 23:1 قَالَ أَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: احْتِجَاجُنَا فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ بِنَافِعِ بْنِ اَبِیْ نُعَیْمٍ دُوْنَ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ النَّوْفَلِیِّ لِاَنَّ یَزِیْدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ تَبَرَّاَنَا من عھدتہ فی کتاب الضعفاء

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " جب کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کی طرف بڑھائے اور ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ حائل نہ ہو ، تو اس شخص کو وضو کرنا چاہپئے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں ہمارا استدلال نافع بن ابو نعیم کی نقل کردہ روایت سے ہے یزید بن عبدالملک کی روایت کردہ روایت سے نہیں ہے، کیونکہ یزید بن عبد الملک کے مستند ہونے سے ہم بری الذمہ ہیں ۔ جیسا کہ یہ بات کتاب الضعفا میں بیان کی گئی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نعيم القارىء، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Hadith 1118

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1119

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: "هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ أَوْ بضعة منه" 2. 23:1

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ وفد کی صورت میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک شخص آیا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ ( شرم گاہ) اس کے جسم کے گوشت کا لوتھڑا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ایک ٹکڑا ہے۔

"هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ أَوْ بضعة منه" ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ ← خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ، فَجَاءَ رَجُلٌ ← أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 1119

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr