صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1122
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَقُولُ: "قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ2 لَهُ مَسًّا" 3. 23:1
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ آپ یہ فرمایا کرتے تھے: " مٹی میں سے یمامی کو آگے کرو ، کیونکہ مس کرنے کے اعتبار سے یہ سب سے زیادہ عمدہ ہے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )حضرت طلق بن علی کی روایت جو ہم نے نقل کی ہے یہ منسوخ حدیث ہے۔ حضرت طلق بن علی نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں ہجرت کے پہلے سال آئے تھے۔ جب مسلمان مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ منورہ میں کر رہے تھے۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے شرم گاہ کو چھونے پر وضو لازم ہونے کی حدیث نقل کی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ نے سن ۷ ہجری میں اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے ، حضرت ابو ہریرہ ؓ کی نقل کردہ روایت حضرت طلق بن علی کی روایت کردہ روایت سے سات سال بعد کی ہے۔
"قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ2 لَهُ مَسًّا" ← بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ ← أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1122
