صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1110
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ1 أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جُلُوسٌ2 إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ، حَتَّى قضى صلاته يفعل ذلك بها3.
عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت ابو قتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پا س تشریف لائےآپ ﷺ نے حجرت امامہ بنت اببو العاص کو آٹھا ہو اتھا اس بچی کی والدہ حضرت زینب ؓ تھیں جو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی تھیں وہ ابھی کم سن بچی تھی نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی ، تو بچی آپ کیے کندھے پر تھی۔ جب آپ رکوع میں گئے تو آپ نے اسے ایک طرف ( کھڑا ) کر دیا جب آپ کھرے ہوئے ، تو آپ نے دوبارہ اسے کندھے پر بتھا لیا ، یہاں تک کہ اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی ۔
أَبَا قَتَادَةَ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1110
