صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1098
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حدثنا بن جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ1 أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ لِلْعَتَمَةِ إِمَّا إِمَامًا وَإِمَّا خَلْوًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَالَ عُمَرُ رضي الله تعالى عَنْهُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ تَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يصلوا هكذا" 2. 34:3
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کی نماز ادا کرنے میں تا خیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر وہ بیدار ہو گئے ، تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی : نماز، نماز، تو نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ( حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ) گویا کہ یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: " اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں ہدایت کرتا کہ وہ اسے اسی طرح ادا کریں ( یعنی عشا کی نماز کو اسی وقت میں ادا کیا کریں )
بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 1098
