Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1422

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَقْعُدِ الرَّجُلَانِ عَلَى الْغَائِطِ يَتَحَدَّثَانِ، يَرَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَوْرَةَ صَاحِبِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» (2) . [2: 3]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دو آدمی اس طرح بیٹھ کر قضائے حاجت نہ کریں کہ وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ سِنَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1422

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1423

أَخْبَرَنَا أَبُو جَابِرِ زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبُلْ قَائِمًا» (1) . [2: 108] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَخَافُ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ نَافِعٍ هَذَا الْخَبَرَ»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تم کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ روایت ابن جریح نے نافع سے نہیں سنی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو جَابِرِ زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِالْمَوْصِلِ،

Hadith 1423

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ» (1) . [2: 108]

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کر لیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا

Hadith 1424

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1425

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:274] أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «عَدَمُ السَّبَبِ فِي هَذَا الْفِعْلِ هُوَ عَدَمُ الْإِمْكَانِ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى السُّبَاطَةَ وَهِيَ الْمَزْبَلَةُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْإِمْكَانُ، لِأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا قَعَدَ يَبُولُ عَلَى شَيْءٍ مُرْتَفِعٍ عَنْهُ رُبَّمَا تَفَشَّى الْبَوْلُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَمَنْ أَجْلِ عَدَمِ إِمْكَانِهِ مِنَ الْقُعُودِ لِحَاجَةٍ بَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا»

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے۔ آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا پھر اپ نے پانی منگوایا اور وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرلیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس فعل میں سبب کا نہ ہونا۔ امکان کا نہ ہونا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے جو گندگی تھی۔ آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا لیکن (وہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا) بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ جب آدمی کسی ایسی جگہ بیٹھ کر پیشاب کرتا ہے، جو کچھ بلند ہوتو پیشاب پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور آدمی کی طرف واپس آسکتا ہے، تو قضائے حاجت کیلئے بیٹھنے کیلئے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا تھا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Hadith 1425

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1426

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيدَانٍ، ثُمَّ يُوضَعُ تَحْتَ سَرِيرِهِ».

حکیمہ بنت امیمہ، اپنی والدہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی سے بنے ہوئے پیالے میں پیشاب کیا کرتے تھے۔ اسے آپ کی چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا تھا۔

أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ: ← حَدَّثَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ← أَبُو حَاتِمٍ

Hadith 1426

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1427

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ، فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی صِرْتُ عِنْدَ عَقِبِہٖ وَصَبَبْتُ عَلَیْہِ الْمَاءَ ، فَتَوَضَّاَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ۔(2:4)

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ میں آپ کے قریب ہوا یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا۔ میں نے آپ پر پانی انڈیلا تو آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کرلیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1427

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1428

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ، فَدَعَانِي فَقَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ (2) . [4: 2]

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جار ہا تھا آپ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ نے وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا میں ایک طرف ہٹنے لگا تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا قریب ہوجاؤ میں قریب ہوا اور آپ کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا پھر آپ نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرلیا۔

كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ، فَدَعَانِي ← حُذَيْفَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 1428

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1429

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ قَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، قَالَ: فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ» (1) . [4: 2]

ابو وائل بیان کرتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیشاب کے معاملے میں نہایت سختی کیا کرتے تھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے: بنی اسرائیل میں سے اگر کسی شخص کی کھال پر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ قینچی کے ذریعے اسے کاٹ دیا کرتا تھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش تھی کہ تمہارے صاحب (یعنی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اس معاملے میں اتنی سختی نہ کرتے، کیونکہ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے پیچھے کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہوتا ہے۔ آپ نے پیشاب کیا راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ کے لئے پردہ کیا، تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ میں آگے آیا اور پیچھے آکر کھڑا ہوگیا، یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوگئے۔

كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1429

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1430

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَكَذِّبْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا» (1) . [4: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا خَبَرٌ قَدْ يُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْحَدِيثِ أَنَّهُ مُضَادٌّ لِخَبَرِ حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكرْنَاهُ، لَيْسَ كَذَلِكَ، لِأَنَّ حُذَيْفَةَ رَأَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ قَائِمًا عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، وَهِيَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ أَبَنَّا السَّبَبَ فِي فِعْلِهِ ذَلِكَ، وَعَائِشَةُ لَمْ تَكُنْ مَعَهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، إِنَّمَا كَانَتْ تَرَاهُ فِي الْبُيُوتِ يَبُولُ قَاعِدًا، فَحَكَتْ مَا رَأَتْ، وَأَخْبَرَ حُذَيْفَةُ بِمَا عَايَنَ، وَقَوْلُ عَائِشَةَ فَكَذِّبْهُ، أَرَادَتْ: فَخَطِّئْهُ، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الْخَطَأَ كَذِبًا» .

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر پیشاب کیا کرتے تھے، تو تم اسے جھوٹا قرار دو کیوں کہ میں نے آپ کو ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ یہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت کی متضاد ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حضرت حزیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوار کے پاس کچرے کے ڈھیر کے پاس پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ مدینہ منورہ کے کنارے کی بات ہے اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا سبب بیان کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے وہ چیز بیان کی ہے، جو انہوں نے دیکھی ہے مگر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ بات بیان کی ہے، جو انہوں نے دیکھی ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ فرمان کہ "تم اس شخص کو جھوٹا قرار دو"۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم اسے غلط قرار دو کیونکہ بعض اوقات عرب لفظ غلطی کیلئے لفظ لذب استعمال کرتے ہیں۔

رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا". ← "مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَكَذِّبْهُ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← شَرِيکٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1430

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1431

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَا يَسْتَنْجِ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ» ، وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثَةِ وَالرِّمَّةِ (1) . [2: 3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ہے: "میں تمہارے لئے باپ کی جگہ ہوں میں تمہاری تعلیم وتربیت کرتا ہوں جب تم قضائے حاجت کے لئے آؤ تو قبلہ کی طرف رُخ یا پیٹھ نہ کرو اور کوئی شخص دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کرے"۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھروں کے ذریعے استنجا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور آپ مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1431

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1432

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةَ الْجِنِّ، فَقَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ (1) . قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِھَا قَوْمٌ ، فَلَمَّا اَصْبَحْنَا اِذَا ھُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَءَ ، قَالَ ، فُقُلْنَا: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْنَاکَ فَطَلَبْنَاکَ ، فَلَمْ نَجِدْکَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِھَا قَوْمٌ ، فَقَالَ: اَتَانِیْ دَاعِی الْجِنِّ ، فَذَھَبْتُ مَعَہُ فَقَرَاْتُ عَلَیْھِمُ الْقُرْآنَ ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا ، فَاَرَانَا نِیرَانَھُمْ ، وَسَلُوْہُ الزَّادَ ، فَقَالَ: لَکُمْ کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللہِ عَلَیْہِ ، یَقَعُ فِیْ اَیْدِیکُمْ اَوْفَرَ مَا یَکُوْنُ لَحْمًا ، وَکُلَّ بَعْرِ ، فَاِنَّہٗ زَادُ اِخْوَانِکُمْ مِنْ الْجِنِّ ۔(3:2)

امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو علقمہ نے بتایا میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا جنوں سے ملاقات کی رات آپ میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو انہوں نے بتایا جی نہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات موجود تھے۔ ہم نے آپ کو غیر موجود پایا ہم نے گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں آپ کو تلاش کیا ہم نے یہ سوچا شاید آپ کو چپکے سے یادوھو کے کے ساتھ شہید کردیا گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہماری وہ رات ایسے تھی جیسے کسی قوم نے سب سے زیادہ بری رات بسر کی ہو۔ جب صبح کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی طرف سے تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا۔ ہم نے آپ کو تلاش کیا آپ ہمیں نہیں ملے، تو ہم نے اس طرح رات بسر کی جس طرح کسی قوم نے انتہائی بری حالت میں بسر کی ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔ راوی بیان کرےت ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور آپ نے ہمیں ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زادراہ کی درخواست کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا ذکر کر دیا جائے وہ تمہارے ہاتھوں میں جب آئے گی اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہوگا، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارا ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم سے) فرمایا: تم لوگ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجا نہ کرو، کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ،

Hadith 1432

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1433

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَطَّانُ، بِتِنِّيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ» (1) . [2: 3]

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، آدمی اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو چھوئے۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ» ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَطَّانُ، بِتِنِّيسَ،

Hadith 1433

chevron_left Previous
1…31323334
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr