Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1386

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحِیمٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ : قَدِمَ اَعْرَابٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِیْنَۃَ ، فَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّشْرَبُوْا مِنْ اَلْبَانِھَا وَاَبْوَ الِھَا ، فَشَرِبُوْا حَتّٰی صَحُّوا فَقَتَلُوْارُ عَاتَھَا وَاسْتَاقُوا الْاِبِلَ ، فَبَعَثَ نَبِیُّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ طَلَبِھِمْ ، فَاُتِیَ بِھِمْ ، فَقَطَعَ اَیْدِیھِمْ وَاَرْجُلَھُمْ وَسَمَرَ اَیْیُنَھُمْ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لِاَنَسٍ: وَھُوَ یُحَدِّثُہُ بِکُفْرٍ اَوْ بِذَنْبٍ ؟ قَالَ بِکُفْرٍ ۔(35:2)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب وہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہوگئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چروا ہے کو قتل کردیا، اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاس میں لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1387

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ [ص:230] الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا». [4: 40]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ [ص:230] الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1387

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1388

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ وَفْدَ عُرَيْنَةَ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي لِقَاحِهِ (2) ، فَقَالَ: «اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا، وَأَبْوَالِهَا» ، فَشَرِبُوا، حَتَّى صَحُّوا، وَسَمِنُوا، فَقَتَلُوا رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ (3) ، وَارْتَدُّوا، «فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الرَّمْضَاءِ» (1) . [4: 40]

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ کی آب وہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کی طرف بھیج دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم ان کا دودھ اور ان کا پیشاب پیو ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہوگئے اور موٹے تازے ہوگئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ وہ لوگ مرتد ہوگئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے۔ ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر پھینکوا دیا۔

قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1388

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1389

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، وَنَشْرَبُ مِنْهَا، قَالَ: «لَا تَشْرَبْ» قُلْتُ: أَفَنَشْفِي بِهَا الْمَرْضَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا ذَلِكَ دَاءٌ، وَلَيْسَ بِشِفَاءٍ» (1) . [4: 40]

۔ حضرت طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے علاقے میں انگور ہوتے ہیں۔ ہم انہیں نچوڑ کر اس پی لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ پیو میں نے عرض کی: کیا ہم اس کے ذریعے اپنے بیماروں کو دوا دے سکتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بیماری ہے شفا نہیں ہے۔

قُلْتُ ← طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1389

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1390

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ، وَقَالَ: إِنَّا نَصْنَعُهَا، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا دَوَاءٌ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ» (2) . [2: 35]

۔ حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں۔ حضرت سوید بن طارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے عرض کی: ہم اسے تیار کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کردیا۔انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ دوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ یہ بیماری ہے۔

ذَلِكَ، فَقَالَ: ← نَصْنَعُهَا، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ← الْخَمْرِ، وَقَالَ: ← أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1390

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1391

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي كُوزٍ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَغْلِي، فَقَالَ «مَا هَذَا؟» فَقَالَتْ (1) : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْنَا لَهَا هَذَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ» (2) . [2: 35]

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میری ایک بیٹی بیمار ہوگئی میں نے اس کے لئے ایک کوزے میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو اس میں جوش آچکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: میری ایک بیٹی ہے ہم نے اس کے لئے نبیذ تیار کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حرام میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔

حسان بن مخارق ← الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1391

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1392

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ، فَقَالَ: «إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ، وَإِنْ كَانَ ذَائِبًا فَلَا تَقْرَبُوهُ» (1) . [3: 65]

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں مر جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو اس چوہے، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک کر (باقی رہ جانے والے) گھی کو کھالو اور اگر وہ گھی پگھلا ہوا تھا، تو پھر تم اسے استعمال نہ کرو۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1392

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1393

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ، فَقَالَ: «إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ» يَعْنِي ذَائِبًا (2) . [3: 65]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی میں گر جانے والے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو تم اس چوہے، اور اس کے اردگرد کے گھی کو پھینک دو اور اگر وہ مائع تھا، تو تم کے قریب نہ جاؤ (راوی کہتے ہیں) یعنی اگر وہ پگھلا ہوا تھا۔

الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1393

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1394

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ، فَتَمُوتُ، قَالَ: «إِنْ كَانَ جَامِدًا أَلْقَاهَا وَمَا حَوْلَهَا وَأَكَلَهُ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا لَمْ يَقْرَبْهُ» (1) . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ (2) : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ، أَنَّ مَعْمَرًا ، کَانَ یَذْکُرُ اَیْضًا ، عَنِ الزُّھْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِاللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَیْمُوْنَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہُ ۔(65:3)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کی گیا جو گھی میں گر کر مرجاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو تم اس چوہے، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک دو اور باقی رہ جانے والے گھی کو کھالو اور اگر وہ مائع تھا، تو تم اس کے قریب نہ جاؤ

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَیْدِاللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ، أَنَّ مَعْمَرًا کَانَ یَذْکُرُ اَیْضًا ← «إِنْ كَانَ جَامِدًا أَلْقَاهَا وَمَا حَوْلَهَا وَأَكَلَهُ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا لَمْ يَقْرَبْهُ» ← الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ، فَتَمُوتُ، ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1394

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَةِ · حديث 1395

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: «اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ» (1) . [1: 50]

سیدہ اُم قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے اس خون کے بارے میں دریافت کیا جو کپڑے پر لگ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھولو اور ہڈی کے ذریعے اسے کھرچ لو۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ " تم اس کو پانی کے ذریعے دھولو"۔ فرض حکم ہے، جبکہ بیری کے پتوں کا ذکر اور ہڈی کے ذریعے کھرچنے کا ذکر استحباب اور رہنمائی کے طور پر حکم ہے۔

دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: «اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ» ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the purification of uncleanness · Hadith 1395

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَةِ · حديث 1396

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ، فَقَالَ: «حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ، وَصَلِّي فِيهِ». [1: 51] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِالْحَتِّ وَالرَّشِ أَمْرَ نَدْبٍ لَا حَتْمٍ، وَالْأَمْرُ بِالْقَرْصِ بِالْمَاءِ مُقِرُّونَ بِشَرْطِهِ، وَهُوَ إِزَالَةُ الْعَيْنِ، فَإِزَالَةُ الْعَيْنِ فَرْضٌ، وَالْقَرْصُ بِالْمَاءِ نَفْلٌ إِذَا قَدَرَ عَلَى إِزَالَتِهِ بِغَيْرِ قَرْصٍ، وَالْأَمْرُ بِالصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ بَعْدَ غَسْلِهِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ لَا حَتْمٍ»

سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا (یعنی جو کپڑے پر لگ جاتا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے کھرچ کر پانی کے ذریعے مل وہ پھر اس پہ پانی چھڑکو پھر اس پہ (کپڑے) میں نماز ادا کرلو۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) کھرچنے اور پانی چھڑکنے کا حکم استحباب کے طور پر ہے، لازم نہیں ہے اور پانی کے ہمراہ اسے ملنے کا حکم اس شرط کے ساتھ ملا ہوا ہے اور وہ اس نجاست کے وجود کوزائل کرنا ہے، تو اس نجاست کے وجود کوزائل کرنا فرض ہوگا اور پانی کے ذریعے اسے ملنا نفل ہوگا، جب ملے بغیر اس نجاست کو زائل کرنا ممکن ہو اور اس کپڑے کو دھو لینے کے بعد اس کپڑے میں نماز ادا کرنے کا حکم اباحت کے طور پر ہے۔ لازم قرار دینے کے طور پر نہیں ہے۔

«حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ، وَصَلِّي فِيهِ». ← دَمِ الْحَيْضِ، ← جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the purification of uncleanness · Hadith 1396

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَةِ · حديث 1397

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَقَالَ: «لِتَحُتَّهُ، ثُمَّ تَقْرُصْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ فَتُصَلِّيَ فِيهِ» (1) . [1: 51]

سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے کپڑے کے بارے میں دریافت کیا گیا جس پر حیض کا خون لگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کو چاہئے کہ وہ پانی کے ذریعے اسے دھو کر پھر اس پر پانی چھڑک دے اور اس (کپڑے) میں نماز ادا کرلے۔

«لِتَحُتَّهُ، ثُمَّ تَقْرُصْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ فَتُصَلِّيَ فِيهِ» ← الثوب يصيبه الدم من الحيضة ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّھَا ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the purification of uncleanness · Hadith 1397

chevron_left Previous
1…293031…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr