صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1374
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ، أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الَّتِي بَايَعَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِی لَمْ یَاْکلِ الطَّعَامَ ، فَاَخَذَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَجْلَسَہُ فِیْ حِجْرِہٖ ، فَبَالَ عَلٰی ثَوْبِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَاءً فَنَضَّحَہُ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔
سیدہ اُم قیس بنت محصن اسد یہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں اور ان مہاجر خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی وہ بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور گود میں بیٹھا لیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا اور اس جگہ پرچھڑک دیا۔ آپ نے اسے دھویا نہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں اس کے بعد یہ رواج چل پڑا کہ بچے کے پیشاب کو دھویا نہیں جاتا جب تک وہ کچھ کھانے کے قابل نہیں ہوتا جب وہ کھانے لگے گا، تو اس کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1374
