صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1314
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ عَطَاءً عَمَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَمَاتَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَھُمْ قَتَلُوْہُ قَتَلَھُمْ اللہُ ثَلَاثًا قَدْ جَعَلَ اللہُ الصَّعِیْدَ اَوِ التَّیَمُّمَ طَھُورًا۔ قَالَ شک ابن عباس ثم أثبتہ بعد
۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سردی کے موسم میں جنابت کا شکار ہوگیا۔ اس نے مسئلہ دریافت کیا، تو اسے غسل کرنے کی ہدایت کی گئی (غسل کرنے کی وجہ سے اس کا انتقال ہوگیا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں نے اس کو کیوں مروا دیا، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (اور پھر فرمایا) اللہ تعالیٰ نے مٹی کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیمم کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔ روایت کے الفاظ میں یہ شک حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے شک کے بغیر ذکر کیا۔
الْوَلِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِِي رَبَاحٍ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1314
