Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1290

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزْجَانِيُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دباغ جلود الميتة طهورها" 2.

۔عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "مرد کی کھال کی دباغت اسے پاک کر دیت ہے"۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the skins of the dead · Hadith 1290

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1291

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنْمٌ بِأُحُدٍ، فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَيَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا»، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ». [3: 46]

۔ عبد اللہ بن مالک اپنی والدہ سیدہ عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری بکریاں احد پہاڑ کے پاس موجود تھیں۔ ان میں سے ایک مرگئی تھیں، سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھے فرمایا تم اس کی کھال کےکر نفع حاصل کرلو وہ خاتون بیان کرتی ہیں (میں نے دریافت کیا:) کیا یہ جائز ہے؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا: جی ہاں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ افراد کے پاس سے گزرے جو اپنی بکری کو یوں کھینچ رہے تھے جیسے گدگے کو کھینچا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم لوگ اس کی کھال کیوں نہیں حاصل کرلیتے۔ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی اور قرظ کے پتے اسے پاک کر دیں گے۔

کَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the skins of the dead · Hadith 1291

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1292

أخبرنا بن قتيبة قال حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ في بئر في دارهم 1.

حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں موجود کنویں سے ڈول میں پانی لے کر اس کے ذریعے کلی کی تھی۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1292

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1293

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَضَعُ الْإِنَاءَ عَلَى فِي وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَآخُذُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ فيضع فاه على موضع في 1.

۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتی ہیں: میں حیض کی حالت میں برتن اپنے منہ کے ساتھ لگاتی تھی، پھر میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا دیتی تھی، تو آپ اپنا منہ بارک اسی جگہ پر رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔ میں حیض کی حالت میں ہڈی (والا گوشت) لے کر (اسے کھا کے) پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا دیتی تھی، تو آپ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا تھا۔

حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ فيضع فاه على موضع في ← حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ لِلنَّبِيِّ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَآخُذُ الْعَرْقَ ← كُنْتُ أَضَعُ الْإِنَاءَ عَلَى فِي ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1293

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1294

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ1 حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" 2.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےا رشاد فرمایا ہے: "جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے، تو تم اسے سات مرتبہ دھو دو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ1 ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1294

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1295

أَخْبَرَنَا بن قتيبة حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَهُورُ2 إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الكلب أن يغسل سبع مرات" 3.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "کسی بھی شخص کے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ جب کہ کتے نے اس میں منہ ڈال دیا ہو، یہ ہے، اسے سات مرتبہ دھو لیا جائے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1295

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1296

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُهْرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ1 سَبْعَ مرات" 2

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ پانی کو بہا دے پھر اسے سات مرتبہ دھو لے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1296

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1297

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أن يغسل سبع مرات أولاهن بالتراب" 1.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "کسی شخص کے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ جبکہ کتے نے اس میں منہ ڈال دیا ہو یہ ہے، اس کو سات مرتبہ دھو لیا جائے جس میں سے پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ دھویا جائے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1297

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1298

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فاغسلوه سبع مرات وعفروا الثامنة بالتراب" 1.

حضرت عبد اللہ بن مغفل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھولو اور آٹھویں مرتبہ اسے مٹی کے ذریعے مانجھ لو"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1298

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَسْآرِ · حديث 1299

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدَةَ بنت عبيد بن : رِفَاعَۃَ عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَّکَانَتْ تَحْتَّ (ابْنِ) اَبِیْ قَتَادَۃَ اَنَّ اَبَا قَتَادَۃَ دَخَلَ عَلَیْھَا فَسَکَبَتْ لَہٗ وُضُوْءً افَجَاءَتْ ھِرَّۃٌ تَشْرَبُ فَاَصْغَی اَبُو قَتَادَۃَ الْاِنَاءِ فَشَرِبَتْ کَبْشَۃُ فَرَآنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْہِ فَقَالَ اَتَعْجَبِینَ یَا ابْنَۃَ اَخِی فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّھَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ اِنَّمَا ھِیَ مِنَ الطَّوَّافِینَ علیکم والطوافات۔

۔سیدہ کبثہ بنت کعب رضی اللہ عنہا جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہے: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے۔ انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا۔ ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف کر دیا۔ اس بلی نے پانی پی لیا سیدہ کبثہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ میں ان کی طرف غور سے دیکھ رہی تھی، تو انہوں نے دریافت کیا: اے میری بھتیجی! کیا تم حیران ہو رہی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "یہ (یعنی بلی) ناپاک نہیں ہے یہ تمہارے ہاں گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہے"

كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ ← كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Captivity section · Hadith 1299

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1300

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ فَأَقَامَ مَعَهُ النَّاسُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وليس معهم ماء فجاء أبو بكر، و1 رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعُنُ بِیَدِہِ فِیْ خَاصِرَتِی فَلَا یَمْنَعُنِیْ مِنَ التَّحْرُّکِ اِلَّا مَکَانُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَنْزَلَ اللہَ اٰیَۃَ التَّیَمُّمِ ، (فَتَیَمَّمُوْا) ۔ قَالَ اُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَّھُوَ اَحَدُ النُّقَبَاءِ مَا ھٰذَا بِاَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا اٰلَ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَبَعَثْنَا الْبَعِیْرَ الَّذِیْ کُنـْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔

۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ہم ایک سفر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ جب ہم "بیداء" کے مقام پر پہنچے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) " ذات الجیش" کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے۔ آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کیا آپ نے دیکھا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہمراہ لوگوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کے پاس) آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانوں پر رکھ کر سو رہے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اللہ کے رسول کو اور لوگوں کو رکنے پر مجبور کیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا وہ اپنے ہاتھ کے ہاتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نےحرکت اس لئے نہیں کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میرے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم سے متعلق آیت نازل کردی تو لوگوں نے تیمم کرلیا۔ اس وقت اسید بن حضیر، جو نقیبوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے یہ کہا: اے ابو بکر کی آل! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1300

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1301

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: [ص:120] حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، قَالَ: فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [ص:121] «لَا ضَيْرَ - أَوْ لَا يَضِيرُ - ارْتَحِلُوا» فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ»، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا، فَقَالَ: «اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ»، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي إِذًا، فَجَاءَا [ص:122] بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ قَالَ: فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ» قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا» قَالَ: فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رَزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ سَقَانَا» قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، الَّذِي قَدْ كَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ [ص:123] وَسَلَّمَ، حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا: وَاللَّهِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَام. [1: 30]

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آلیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابو رجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کئے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے۔ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہٰیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آرہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو راوی بیان کرتے ہیں: وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے پھر آپ سواری سے نیچے اترے پھر آپ نے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لئے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے یہ تمہارے لئے کافی ہوگی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: تم دونوں جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو (یہ دونوں حضرات روانہ ہوگئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے، جسے بے دین کہا جاتا ہے ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزےکے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا، اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گی کہ تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا جس نے چاہا اس نے پلانے کے لئے حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی کا برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی۔ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے سے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان جمع کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں اور دستو جمع کرلیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لئے بہت سا اناج جمع ہوگیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں تم کہاں رہ گئی تھی۔ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے مجھے وہ لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے،وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی۔ اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکیں پر حملے کئے لیکں اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1301

chevron_left Previous
1…212223…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr