صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْجُمُعَةِ · حديث 1230
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ2 مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيُّ سَاعَةٍ هَذِهِ قَالَ إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ قَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ علمت أن رسول الله صلى الله عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
سائم بن عبد اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب اندر آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بلند آواز میں دریافت کیا یہ کون سا وقت ہے۔ انہوں نے جواب دیا: میں آج مصروف تھا میں اپنے گھر اس وقت گیا جب میں نے اذان کی آواز سنی پھر میں نے وضو کے علاوہ کچھ نہیں کیا (یعنی فوراً یہاں آگیا ہوں) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے: (صرف) وضو کرنا بھی (غلطی) ہے۔ آپ یہ بات جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ ) کے دن (غسل ) کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں اس بات کی صحیح دلیل موجود ہے کہ جو شخص جمعہ میں شرکت کیلئے آتا ہے اس پر غسل کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں آئے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بتایا، انہوں نے صرف وضو کیا ہے اور وہ مسجد میں آگئے ہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کسی صحابی نے بھی انہیں، جمعہ کیلئے غسل کرکے آنے کو نہیں کہا تو صحابہ اکرام کا اس بات پر اجماع کر لینا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعے کیلئے غسل کرنے کا حکم دینا استحباب کے طور پر ہے لازمی طور پر نہیں ہے۔
سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The Friday Laundering Door · Hadith 1230
