Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1850

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي [مَعْشَرٍ] شَيْخٌ بِكُفْرِ تُوثَا3، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرسعني4، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ ، عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّھْرِیِّ ، عَنْ سَعِیْدَ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَال : صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلَاۃَ ، فَجَھَرَ فِیْھَا ، فَقَرَاَ اُنَاسٌ مَعَہُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ قَرَاَ مِنْکُمْ اَحَدٌ ؟ قَالُوْا: نَعَمْ ، یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِنِّیْ لَاَقُوْلُ مَالِیْ اُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ: فَاتَّعَظَ المسلمون بذلک ، فلم یکونوا یقرؤون۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی اس میں بلند آواز میں قرات کی۔ کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں تلاوت کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی ایک نے تلاوت کی ہے، تو لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور (اس کے بعد لوگ آپ کی اقتداء میں) تلاوت نہیں کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي شَيْخٌ بِكُفْرِ تُوثَا3، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1850

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1851

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: "صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: "هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا"؟ قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أنازع القرآن" 1. قال الزهري: فانتهى المسلون، فلم يكونوا يقرؤون معه. [1: 21] قال أبو حاتم رضي الله تعالى عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ مَشْهُورٌ لِلزُّهْرِيِّ، مِنْ رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَهِمَ فِيهِ الْأَوْزَاعِيُّ -إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ- فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَعَلِمَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ وَهِمَ، فَقَالَ: عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا. وَأَمَّا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ؛ أَرَادَ بِهِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اتِّبَاعًا مِّنْھُمْ لِزَجْرِہٖ ، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ وَالْاِمَامُ یَجْھَرُ بِالْقِرَاءَۃِ فِیْ قَوْلِہِ: مَالِیْ أنازع القرآن۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ آپ نے بلند آواز میں قرات کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا کہ ابھی تم میں سے کسی ایک نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ زہری بیان کرتے ہیں: مسلمان اس سے باز آگئے اور وہ لوگ آپ کی اقتداء میں تلاوت نہیں کیا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم بیان کرتے ہیں: یہ روایت زہری سے منقول ہونے کے حوالے سے مشہور ہے جو ان کے اصحاب نے ابن اکیمہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی ہے، اس میں امام اوزاعی کو وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ انہون نے یہ کہا یہ زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب سے منقول ہے۔ ولید بن مسلم یہ بات جانتے تھے کہ انہیں وہم ہوا ہے، اس لئے انہوں نے یہ کہا: یہ اس شخص کے حوالے سے منقول ہے جس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسے سنا ہے۔ انہوں نے سعید کا تذکرہ نہیں کیا۔ جہاں تک زہری کے اس قول کا تعلق ہے لوگ قرات کرنے سے باز آگئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت نہیں کی۔ امام جب بلند آواز میں قرات کر رہا ہو، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے: " کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ تنازعہ کیا جا رہا ہے"۔

نَعَمْ ← "هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا"؟ ← "صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مَنْ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1851

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1852

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بأصحابه، فلما قضى صلاته، أقبل علهيم بوجهه، فقال: "أتقرؤون فِي صَلَاتِكُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ"؟ فَسَكَتُوا، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ، قَالَ: "فَلَا تَفْعَلُوا، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ" 1. [1: 21] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رضي الله تعالى عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رسول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعَہُ مِنْ اَنَسِ بن مالک ، فالطریقان جمیعا محفوظان۔

کیا وجہ ہے قرآن میں میرے ساتھ تنازعہ کیا جا رہا ہے" اس سے مراد آواز بلند کرنا ہے، آپ کے پیچھے قرات کرنا (مراد) نہیں ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور دریافت کی: کیا تم لوگ اپنی نماز میں امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو جبکہ امام قرات کر رہا وہ؟ تو لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے عرض کی: یا شاید لوگوں نے جی ہاں ہم ایسا کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو تم میں سے ہر شخص دل میں سورۃ فاتحہ پڑھ لے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو قلابہ نے یہ روایت محمد بن ابو عائشہ سے سنی ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے منقول ہے، انہوں نے یہ روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی سنی ہے، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1852

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1853

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سفيان عن بن جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أسمعناكم، وما أخفى علينا، أخفينا عنكم2. [1: 21]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہر نماز میں قرات ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس میں ہمیں سنا دیتے تھے۔ ہم تمہیں سنا دیتے ہیں جس میں آپ ہم سےپوشیدہ رکھتے تھے۔ ہم تم سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1853

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1854

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ، كَانَتِ الصَّلَاةُ تُقَامُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضُيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَجِيءُ فَيَتَوَضَّأُ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظهر1. [4: 1]

قزعہ بیان کرتے ہیں میں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے بھلائی نہیں ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نماز کی اقامت کہہ لی جاتی تھی پھر ہم سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کرنے کیلئے بقیع (کے میدان) کی طرف چلا جاتا تھا۔ پھر وہ واپس آتا تھا۔ وضو کر لیتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں پالیتا تھا۔

صَلَاةِ النَّبِيِّ ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← قَزَعَةَ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1854

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1855

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یُطِیلُ فِیْ اَوَّلِ الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْفَجْرِ وَالظُّھْرِ۔ وَقَالَ: کُنَّا نَریٰ اَنَّہٗ یفعل ذلک لیتدارک الناس۔(1:4)

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور ظہر کی پہلی دو رکعات طویل ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم یہ سمجھتے ہیں: آپ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ لوگ (باجماعت نماز میں) شریک ہوجائیں۔

کُنَّا نَریٰ اَنَّہٗ یفعل ذلک لیتدارک الناس۔(1:4) ← کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یُطِیلُ فِیْ اَوَّلِ الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْفَجْرِ وَالظُّھْرِ۔ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1855

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1856

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَفَّ الناس صلاة في تمام2. یُرِیدُ اَخَفَّ النَّاسِ صَلَاۃً فِیْمَا اعْتَادَھَا النَّاسُ فِیْ ذَلِکَ الزَّمَانِ، عَلٰی حَسْبِ عَادَۃِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ صَلَاتِہِ۔ وَاَمَّا خَبَرُ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: فَیَخْرُجُ أحدنا إلی البقیع لیقضی حاجتہ ، ثم یجیء فَیَتَوَضَّاُ ، فَیَجِدُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الرَّکْعَۃِ الْاُوْلٰی مِنَ الظُّھْرِ اِنَّمَا کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَیَتَلا حَقَ النَّاسُ فَیَشْھَدُونَ الصَّلَاۃَ ، وَلَا یَفْعَلُ ذَلِکَ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ ، اِنَّمَا کَانَ یَفْعَلُہٗ فِی الرَّکْعَۃِ الْاُوْلٰی فَقَطْ ، وَفِیْہِ کَالدَّلِیْلِ عَلٰی اَنَّ المدرک للرکوع مدرک للتکبیرۃ الأولٰی۔(1:4)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل لیکن سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانے میں لوگوں کی عام عادت کےحوالے سے مختصر نماز ادا کرتے تھے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت کے مطابق ہوتی تھیں۔ جہاں تک حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے وہ کہتے ہیں: ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لئے بقیع کی طر چلا جاتا اور پھر وہ آکر وجو کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں پا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ لوگ بھی آکر نماز میں شامل ہوجائیں، آپ ہر رکعت میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صرف پہلی رکعت میں ایسا کرتے تھے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے، رکوع کو پانے والا تکبیر اولیٰ کو پانے والا شمار ہوگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1856

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1857

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقرأ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَيُطِيلُ في الأولى، ويقصر في الثانیۃ ۔(1:4)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی دو رکعت میں تلاوت کرتے تھے۔ آپ پہلی رکعت کو طویل ادا کرتے تھے اور دوسری کو (نسبتاً) مختصر ادا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1857

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1858

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظهر والعصر، فحزرنا قيامه في الركعتين الوليين قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ2. [4: 1] قَالَ أبو حاتم رضي الله تعالى عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ: "فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ، آيَةً" يُضَادُّ فِي الظاهر قَوْلَ اَبِیْ قَتَادَۃَ: وَیُطِیلُ فِی الْاُوْلٰی ، وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ، وَلَیْسَ بِحَمْدِ اللہِ وَمَنِّہِ کَذَلِکَ ، لِاَنَّ الرَّکْعَۃَ الْاُوْلٰی کَانَ یَقْرَاُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْھَا ثَلَاثِیْنَ آیَۃً بِالتَّرْسِیلِ وَالتَّرْتِیْلِ وَالتَّرْجِیعِ ، وَالرَّکْعَۃَ الثَّانِیَۃَ کَانَ یَقْرَاُ فِیْھَا مِثْلُ قِرَاءَ تِہِ فِی الْاُوْلٰی بِلَا تَرْسِیلِ وَلَا تَرْجِیع ، فَتَکُوْنُ القِرَاءَ تَانِ وَاحِدَۃٌ ، وَالْاُوْلٰی اَطْوَلُ مِنَ الثَّانِیَۃِ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم ے یہ اندازہ لگایا، ظہر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ کا قیام 30 آیات کی تلاوت جتنا ہوتاتھا اور آخری دو رکعات میں آپ کے قیام کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ کے قیام کے بارے میں ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعات جتنا ہوتا تھا اور عصر کی نماز کی آخری دو رکعات کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے اندازہ لگایا، پہلی دو رکعات میں آپ کا قیام تیس آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا، یہ روایت بظاہر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کے برخلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے اور دوسری رکعت مختصر ادا کرتے تھے۔ حالانکہ الحمد اللہ! ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ پہلی رکعت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیس آیات ٹھہر ٹھہر کر تر تیل اور ترجیع کے ہمراہ پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں اتنی ہی آیات ترتیل اور ترجیع کے بغیر پڑھتے تھے، تو قرات ایک جتنی ہوتی تھی لیکن پہلی رکعت دوسری سے طویل ہوتی تھی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1858

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1859

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يَشْكُونَ سَعْدًا، حَتَّى قَالُوا لَهُ: إِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: عَهْدِي بِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّلَاةِ، فَدَعَاهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَمَّا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ صَلَّيْتُ بِهِمْ، أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ. فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَسْأَلُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، فَطِيفَ بِهِ فِي مَسَاجِدِ الْكُوفَةِ، فَلَمْ يُقَلْ لَهُ إِلَّا خَيْرًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي عَبْسٍ1، فَإِذَا رَجُلٌ يُدْعَى أَبَا سَعْدَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لَا ينفر في السرية، ولا يقسم بالسوية، وَلَ یَعْدِلُ فِی الْقَضِیَّۃِ قَالَ: فَغَضِبَ سَعْدٌ ، وَقَالَ: اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ کَاذِبًا فَاَطِلُ عُمْرَہُ ، وَشَدِّدْ فَقْرَہُ وَاعْرِضْ عَلَیْہِ الْفِتَنَ قَالَ: فَزَعَمَ بن عُمَیْرٍ اَنَّہٗ رَآہُ قَدق سَقَطَ حَاجِبَاہُ عَلٰی عَیْنَیْہِ ، قَدِ افْتَقَرَ ، وَافْتُتِنَ ، فَلَمْ یَجِدْ شِیْئًا یُسْاَلُ کَیْفَ اَنْتَ اَبَا سَعْدَۃَ ؟ فَیَقُوْلُ: شَیْخٌ کبیر مفتون ، أجیب فی دعوۃ سعد۔(1:4)

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا: حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے کہ کچھ عرصہ پہلے تک تو وہ بہت عمدہ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور ان کو اس بارے میں بتایا تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تعلق ہے میں ان لوگوں کو وہ نماز (یعنی اس طریقے کے مطابق نماز) پڑھاتا ہوں میں پہلی دو رکعت طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات نسبتاً مختصر ادا کرتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ہمراہ ایسے شخص کو بھیجا جو ان کے بارے میں کوفہ میں دریافت کرے۔ اس نے انہیں ساتھ لے کر کوفہ کی تمام مساجد کا چکر لگایا ہر شخص نے ان کے بارے میں بھلائی کی بات کہی۔ یہاں تک کہ جب وہ بنو عبس کی مسجد کے قریب پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جس کا نام ابو سعدہ تھا تو وہ بولا اللہ جانتا ہے یہ کسی جنگی مہم کیلئے نہیں نکلتے اور (مال غنیمت کو) برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام نہیں لیتے۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں آگئے اور بولے: اے اللہ! اگر یہ شخص جھوٹا تو ہے ، تو اس کی عمر کولمبا کردے اور اس کی عربت کو شدید کردے اور اس پر آزمائش ڈال دے۔ راوی کہتے ہیں: عمیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ انہوں نے اس شخص کو دیکھا کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی بھنویں اس کی آنکھوں پر آرہی ہیں وہ انتہائی غریب تھا اور آزمائش میں مبتلا ہو گیا تھا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملتی تھی۔ اس سے دریافت کیا گیا: اے ابو سعدہ! کیا حال ہے، تو وہ کہتا تھا ایک عمر رسیدہ بوڑھا شخص جو آزمائش کا شکار ہے۔ میرے بارے میں حضرت سعد کی بددعا قبول ہوگئی ہے۔

كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1859

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1860

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ1 إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حِينَ قَامَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ، وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ رَكَعَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى، [وَجَعَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى] 2 وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا: يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بعد ذٰلِکَ ، فِیْ زَمَانٍ فِیْہِ بَرْدٌ ، فَرَاَیْتُ النَّاسَ عَلَیْھِمْ جُلُّ الثِّیَابِ تَتَحَرَّکُ اَیْدِیِھِمْ تَحْتَ الثِّیَابِ۔(4:5)

حضرت وائل بن حجرحضری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے یہ سوچا میں ضرور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے ہیں۔ میں نے آپ کا جائزہ لیا جب آپ کھڑے ہوئے آپ نے تکبیر کہی آپ نے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ انہیں کانوں کے برابر لے آئے۔ آپ نے اپنا دایاں دست مبارک اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹے اور کلائی پر رکھا۔ پھر آپ نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ نے اپنے دونو ہاتھوں کو اتنا بلند کیا۔ (جتنا آغاز میں کیا تھا) پھر آپ رکوع میں چلے گئے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اتنا ہی دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔ پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیاں کانوں کے مقابل میں رکھی تھی۔ پھر آپ بیٹھ گئے۔ آپ نے اپنے بائیں زانو کو بچھالیا اور آپ نے بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو اور دائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر ایک انگلی کو بلند کیا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دیتے ہوئے اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ میں آپ کی خدمت میں سردیوں کے موسم میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں نے سردیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ کپڑوں کے اندر ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں (یعنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کر رہے تھے)

أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1860

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1861

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ». [1: 21]

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ یہ کہتے تھے: "اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیےمخصوص ہے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1861

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr