Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1838

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ، فِي إحدى الركعتين بـ: [التين والزيتون] 2. [5: 34]

حضرت برائ بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالےسے یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ سفر کر رہے تھے، آپ نے عشاء کی نماز میں دو رکعت میں سے ایک رکعت میں سورہ متین کی تلاوت کی تھی۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1838

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ مُعَاذًا أَنْ يَقْرَأَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} ، {وَاللَّيْلِ إِذَا یَغْشَاھَا)، و (سِبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی )، (وَالضُّحَی) وَنَحْوَھَا مِنَ السُّوَرِ۔(34:5)

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ عشاء کی نماز میں سورۃ شمس اور سورہ لیل سورت اعلیٰ سورۃ ضحیٰ جیسی سورتوں کی تلاوت کریں۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1839

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1840

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَرَجَعَ مُعَاذٌ، فَأَمَّهُمْ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، انْحَرَفَ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى وَحْدَهُ، فَقَالُوا: نَافَقْتَ. قَالَ: لَا، وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَیَؤَمُّنَا ، وَاِنَّکَ اَخَّرْتَ الصَّلَاۃَ الْبَارِحَۃَ ، فَجَاءَ فَاَمَّنَا ، فَقَرَاَ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، وَاِنِّیْ تَاَخَّرْتُ عَنْہُ ، فَصَلَّیْتُ وَحْدِی ، یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاِنَّا نَحْنُ اَصْحَابُ نَوَاضِحَ ، وَاِنَّا نَعْمَلُ بِاَیْدِیْنَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا مُعَاذُ اَفَتَّانٌ اَنْتَ ؟ اقرأ بھم سورۃ:( وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشیٰ) ، و( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی) ، (وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ )۔(34:5)

عمر و بن دینار اور ابو زبیر حضرت جابر بن عبد اللہ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے مقابلے میں زیادہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے۔ پھر وہ اپنے محلے میں جاکر لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ذرا تاخیر سے ادا کی۔ (حضرت معاذ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی)۔ حضرت معاذ واپس گئے اور ان لوگوں کو نماز پڑھانے لگے۔ انہوں نے سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کردی۔ وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے جب یہ بات دیکھی تو وہ مسجد کے کونے میں گیا اور وہاں تنہا نماز ادا کی۔ (اور چلا گیا) ان لوگوں نے اس سے کہا: تم منافق ہوگئے ہو تو اس نے کہا جی نہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا حضرت معاذ آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں پھر وہ واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں۔ گزشتہ رات آپ نے نماز تاخیر سے ادا کی تھی۔ حضرت معاذ آئے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی تو انہوں نے سورت البقرہ کی تلاوت شروع کردی۔ میں پیچھے ہٹا اور تنہا نماز ادا کرلی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اونٹوں کے ذریعے پانی بھر کر لانے والے اپنے ہاتھوں کے ذریعے خود کام کرنے والے لوگ ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ کیا تم آزمائش کا شکار کرنا چاہتے ہو تم ان لوگوں کو (نماز پڑھاتے ہوئے) سورۃ لیل سورۃ اعلیٰ اور سورہ بروج کی تلاوت کیا کرو۔

أَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1840

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1841

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عَاصِمٍ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: وَلَا اَعْلَمُ اِلَّا جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یقرأ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ:(قُلْ یَااَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ) ، و( قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ) ، وَیَقْرَاُ فِی الْعِشَاءِ الْاٰخِرَۃِ ، لیلۃ الجمعۃ ، والمنافقین۔(4:5)

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شب جمعہ میں مغرب کی نماز میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کی جبکہ عشاء کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقین کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

وَلَا اَعْلَمُ اِلَّا جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ ← أَبِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، ← أَبِي ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عَاصِمٍ بِبُخَارَى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1841

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1842

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: تَبِعْتُ2 رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ رَاكِبٌ، فَجَعَلْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي إِمَّا مِنْ سُورَةِ هُودٍ، وَإِمَّا مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ، ولا أبلغ عنده، من أن تَقْرَاَ:( قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) ، فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ لَا تَفُوتَکَ فِیْ صَلَاۃٍ فَافْعَلْ۔(2:1)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا آپ اس وقت سوار تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے قدم شریف پر رکھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے تلاوت سکھا دیجئے یا سورہ ہود کی یا سورۃ یوسف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عقبہ بن عامر! تم ایسی کسی سورت کی تلاوت نہیں کرو گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورت فلق سے زیادہ محبوب اور اس کی بارگاہ میں زیادہ پہنچنے والی ہو۔ اگر تم سے ہوسکے تو تم ہر نماز میں اسے پڑھا کرو۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اسلم بن عمر ان کی کنیت ابو عمران ہے، یہ اہل مصر میں سے ہیں اور وہاں کے تابعین میں سے ہیں۔

تَبِعْتُ2 رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَجَعَلْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ، فَقُلْتُ: ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَسْلَمَ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1842

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1843

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، اسْتَقْبَلَ النَّاسَ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ آنِفًا مِنْكُمْ أَحَدٌ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "لَأَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ! " 2. [2: 2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ آپ نے اس میں بلند آواز میں قرات کی جب آپ نے نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف رخ کیا۔ ارشاد فرمایا: کیا ابھی تم میں سے کسی نے تلاوت کی۔ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت میں) میرے لیے رکاوٹ آرہی ہے"۔

نَعَمْ ← "هَلْ قَرَأَ آنِفًا مِنْكُمْ أَحَدٌ"؟ ← صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، اسْتَقْبَلَ النَّاسَ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← ابْنِ أُكيمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1843

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1844

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بوجهه، فقال: "أتقرؤون فِي صَلَاتِكُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ"؟ فَسَكَتُوا. فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ، أَوْ قَائِلُونَ: إنا لنفعل. قال: "فلا تَفْعَلوْا ، وَلْیَقْرَاْ اَحَدُکُمْ ، بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فِیْ نَفْسِہِ۔(2:2) قَوْلُہٗ: فَلَا تَفْعَلُوْا لَفْظَۃُ زَجْرٍ مُرَادُھَا ابْتِدَاءُ اٗمر مُسْتَاْنَفٍ ، اِذِ الْعَرَبَ تَفْعَلُ ذَلِکَ فِیْ لُغَتِھَا کثیرا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرات کرتے ہو۔ جب امام تلاوت کر رہا ہو؟ لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نےعرض کی: یا شاید لوگوں نے عرض کی: ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ تم میں سے کوئی ایک (یعنی ہر ایک) اپنے دل میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر لیا کرے"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1844

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1845

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ قَرَأَ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟ » فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا، فَقَالَ: «قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا». [2: 78]

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے سورہ اعلیٰ کی تلاوت کی ہے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

"قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا". ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ← أَيُّكُمْ قَرَأَ بـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1845

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1846

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ -شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ- فَقَالَ: "أَيُّكُمْ قَرَأَ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} "؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا، فَقَالَ: "قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بعضكم خالجنيها"1. [2: 78]

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی یہ شک ابو عوانہ نامی راوی کو ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کس شخص نے سورت اعلیٰ کی تلاوت کی ہے؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے (تلاوت میں) رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

"قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا". ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ← "أَيُّكُمْ قَرَأَ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} ← قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ -شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ- ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1846

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1847

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِـ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی) ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ: ( اَیُّکُمُ الَّذِیْ قرأ ، أو أیکم القاریء ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: قد عرفت أن بعضکم خالجنیھا۔(78:2)

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، ایک شخص نے آپ کے پیچھے سورہ اعلیٰ کی تلاوت شروع کردی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: تم میں سے وہ کون شخص ہے جس نے تلاوت کی ہے؟ یا شاید فرمایا: تم میں سے کون تلاوت کرنے والا ہے؟ ایک شخص نے عرض کی:میں ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: مجھے اندازہ ہوگیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لئے رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1847

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1848

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ - وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلَاۃَ الصُّبْحِ ، فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَاءَۃُ ، فَلَمَّا انصرف قال إنی لأراکم تقرؤون وَرَاءَ اِمَامِکُمْ ؟ قَالَ: قُلْنَا: اَجَلْ وَاللہِ رَسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذا ، قال: فلا تفعلوا إلا بِاُمِّ الْکِتَابِ ، فَاِنَّہٗ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَاْ بِھَا۔(78:2)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ کیلئے قرات کرنا دشوار ہوا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا: میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو۔ راوی بیان کرتا ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! ہم تیزی سے تلاوت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " تم ایسا نہ کرو" یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، اس ے مراد ابتدائی طور پر ازسر نو کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں جب تاکید کے طور پر کسی چیز کا حکم دینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو پہلے ممانعت کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حکم ہوتا ہے جو وہ مراد لیتے ہیں۔

«فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا». ← قُلْنَا: اَجَلْ وَاللہِ رَسول اللہ ھٰذا ← "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ- وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1848

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عن ابن شهاب، عن بن أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا"؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ"؟ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِینَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو پڑھ کر فارغ ہوئے جن میں آپ نے بلند آواز میں قرات کی تھی۔ پھر آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی نے ابھی تلاوت کی ہے۔ ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کیا وجہ ہے، قرآن ( کی تلاوت) کے حوالے سے مجھ سے مقابلہ کیا جا رہا ہے" پھر لوگ ان نمازوں میں قرات کرنے سے رک گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔ اس وقت جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابن اکیمہ کا نام عمروبن مسلم بن عمار بن اکیمہ ہے، یہ دو بھائی ہیں: عمر و بن مسلم اور عمر بن مسلم، جہاں تک عمر و بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تابعی ہیں، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع کیا ہے اور زہری نے ان سے سماع کیا ہے۔ جہاں تک عمر بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تبع تابعی ہیں۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک اور محمد بن عمرو نے روایات نقل کی ہیں۔ یہ دونوں "ثقہ" ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1849

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr