Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1802

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا لَا يَجْهَرُونَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} 2. [34:5]

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 1802

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1803

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِّ الصِّلْحِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا لَمْ يَكُونُوا يَجْهَرُونَ بـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ، وَكَانُوا يَجْهَرُونَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} 1. [5: 34]

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھتے۔ یہ حضرات بلند آواز میں الحمد للہ رب العالمین پڑھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Hadith 1803

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1804

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} ، فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تقدم من ذنبہ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "جب امام غیر المغضوب علیھم ولاالضالین کہے، تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کا آمین کہنا فرشتے کے آمین کہنے کے ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجاتا ہے۔" (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان " تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو" اس کا مطلب یہ ہے، فرشتے ریاکاری، شہرت، خود پسندی وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہتے ہیں۔ ان کا آمین کہنا، خالص طور پر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ تو جب قرات کرنے والا شخص، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے، خود پسندی، ریا کاری، شہرت وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہے گا، تو اخلاص کے حوالے سے اس کا آمین کہنا، فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگا۔ تو اس صورت میں اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی۔

الْإِمَامُ فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ ← «إِذَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 1804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1805

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَوَضَعَ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى الْيَدِ الْيُسْرَى فَلَمَّا قَالَ: {وَلاَ الضَّالِّينَ} ، قَالَ: "آمِينَ" وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ1. [5: 4]

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں دست مبارک پر رکھا جب آپ نے ولا الضالین کہا تو آپ نے آمین کہا آپ نے (نماز کے آخر میں) اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف (یعنی دو مرتبہ) سلام پھیرا۔

يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ1. ← "آمِينَ" وَسَلَّمَ ← {وَلاَ الضَّالِّينَ} ← فَوَضَعَ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى الْيَدِ الْيُسْرَى فَلَمَّا ← وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1805

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1806

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ2 عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَۃِ اُمِّ الْقُرْآنِ رفع صوتہ وقال :آمین۔(4:5)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورۃ فاتحہ کی تلاوت سے فارغ ہوتے تھے۔ تو بلند آواز میں آمین کہتے تھے۔

آمين ← كان رسول الله إذا فرغ من قراءة أم القرآن رفع صوته ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ،

Hadith 1806

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1807

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَقَالَ: حَفِظْنَا سَكْتَةً فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ. قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ وَمَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: إِذَا دَخَلَ في صلاته وإذا فرغ من القراءة2. [5: 4]

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو موقعوں پر خاموش رہنا مجھے یاد ہے (راوی کہتے ہیں) میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا، تو وہ مجھے کہتے کہ مجھے تو صرف ایک مرتبہ خاموش رہنا یاد ہے پھر ہم نے اس بارے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ میں خط لکھا۔ تو انہوں نے جواب حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات صحیح طور پر یاد ہے۔ سعید نامی راوی بیان کرتے ہیں ہم نے قتادہ سے کہا یہ دو موقعوں پر خاموشی کون سی تھی۔انہوں نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تھےاور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرات کرکے فارغ ہوتے تھے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حسن نے حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی چیز کا سماع نہیں کیا ہے۔ انہوں نے یہ روایت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے، اور اس بارے میں ہمارا اعتماد حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سے منقول روایت) پر ہے حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سے منقول روایت ) پر نہیں ہے۔

إِذَا دَخَلَ في صلاته وإذا فرغ من القراءة2. ← سَعِيدٌ: فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ وَمَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ ← إِلَيَّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ. ← حَفِظْنَا سَكْتَةً فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← سَکْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1807

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1808

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ ابن الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سفيان عن مسعر بن كذام ويزيد أبي خالد عن إبراهيم ابن إسماعيل3 السكسكي, عن ابن اَبِیْ اَوْفٰی: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِیْ شَیْئًا یُجْزِئُنِیْ عَنِ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: قل سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَا اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ۔ قَالَ سُفْیَانُ: اُرَاہُ قَالَ: وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ۔(65:3)

حضرت ابن ابو اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی: یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جو میرے لیے قرآن کی تلاوت کی جگہ کافی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم یہ کہو۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰہ اللہ واللہ اکبر سفیان نامی راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یزید ابو خالد نامی راوی، یزید بن عبد الرحمان دالانی ابو خالد ہے۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی: اَنَّ رَجُلًا ← إبراهيم ابن إسماعيل3 السكسكي, ← مسعر بن كذام ويزيد أبي خالد ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ ابن الْحُبَابِ

Hadith 1808

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1809

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ مِسْعَرٍ عن إبراهيم السكسكي عن بن أَبِي أَوْفَى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أُحْسِنُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنْهُ فَقَالَ: "قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ". قَالَ: هَذَا لِرَبِّي فَمَا لِي؟ قَالَ: قُلِ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي وارحمني وارزقني وعافني"2. [1: 104]

حضرت ابن ابو اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میں قرآن کی ٹھیک طور پر تلاوت نہیں کر سکتا آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جو اس کی جگہ میرے لیے کافی ہو۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ پڑھو۔ سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر۔ اس شخص نے عرض کی: یہ تو میرے پروردگار کی (تعریف کے طور پر اس کے) لیے ہوا میرے لیے کیا ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھو۔ "اے اللہ تو میری مغفرت کر تو مجھے پر رحم کر مجھے رزق عطا کر اور تو مجھے عافیت نصیب کر۔"

قُلِ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي وارحمني وارزقني وعافني"2. ← هَذَا لِرَبِّي فَمَا لِي؟ ← "قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ". ← إِنِّي لَا أُحْسِنُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنْهُ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← بن أبي أوفى ← اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← مِسْعَرٍ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1809

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1810

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْفَهَانِيُّ بِالْكَرَخِ قال: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُمَیَّۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوَفِّقٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَۃَ بن مصرف عن ابن اَبِیْ اَوْفٰی قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ لَا اَسْتَطِیعُ اَنْ اَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَعَلِّمْنِیْ مَا یُجْزِئُنِیْ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: قُلْ: سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ۔ قَالَ: ھٰذا لِلہِ فَمَا لِی ؟ قَالَ: قُلْ: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لقد ملأ یدیہ خیرا۔(104:1)

حضرت ابن ابو اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قرآن کا علم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں جو قرآن کی جگہ کافی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ پڑھو۔ سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اس شخص نے کہا: یہ تو اللہ کے لیے ہے۔ میرے لیے کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھو۔ "اے میرے پروردگار تو میری مغفرت کردے مجھ پررحم کر مجھے ہدایت نصیب کر تو مجھے عافیت نصیب کر اور تو مجھے رزو عطا کر۔" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ بھلائی سے بھر لیے ہیں۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوَفِّقٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْفَهَانِيُّ بِالْكَرَخِ

Hadith 1810

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1811

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اَحَبَّ الْکَلَامِ اِلَی اللہِ اَرْبَعٌ :سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَا اِلٰہَ اللہ و اللہ اکبر۔

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین چار کلمات ہیں۔ سبحان اللہ والحمد للہ والا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر"

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1811

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1812

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا الله والله أكبر" 2.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ

Hadith 1812

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1813

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ، [ص:119] أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «هَذَا كَهَذِّ الشِّعْرِ، ، لَقَدْ عَرَفْنَا النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بِهِنَّ، فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ، سُورَتَيْنِ، سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ». [4: 1]

ابو وائل بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا بولا میں نے گزشتہ رات ایک رکعت میں مفصل سورت کی تلاوت کی تو حضرت عبد اللہ نے کہا: یہ تو شعر کو تیزی سے پڑھنے کی مانند ہوگیا ہمیں یاد ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جیسی سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے مفصل سے تعلق رکھنے والی بیس سورتوں کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ دو، دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔

إِنِّي ← أَنَّ رَجُلاً أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ ← أَبَا وَائِلٍ، ← عَمْرَو بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← الدَّوْرَقِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1813

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr