Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1778

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ». [5: 4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرات سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ قرات اور تکبیر کے درمیان کیا پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ پڑھتا ہوں) "اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان فاصلہ کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے سے میل کو صاف کیا جاتا ہے اے اللہ! میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1778

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1779

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ قَالَ: اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ: مِنْ ھمزہ ونفخہ (ونفثہ)۔(12:5) قَالَ: عَمْرٌو ھَمْزُہُ الْمُوتَۃُ وَنَفْخُہُ :الْکِبْرُ وَنَفْثُہُ :الشعر

۔ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کا آغاز کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ! میں شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے ٹہو کا دینے، پھونگ مارنے اور پھونکنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں اس کے ٹہو کا دینے سے مراد مرگی ہے اور پھونک مارنے سے مراد تکبر ہے اور اس کے پھونکنے سے مراد شعر کہنا ہے۔

عَمْرٌو ھَمْزُہُ الْمُوتَۃُ وَنَفْخُہُ :الْکِبْرُ وَنَفْثُہُ :الشعر ← اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ: مِنْ ھمزہ ونفخہ (ونفثہ)۔(12:5) ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1779

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1780

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عاصم العنزي1، عن بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذا دخل الصلاة قال: "الله أكبر كبيرا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا- ثَلَاثًا - سُبْحَانَ اللَّهِ بَكْرَةً وَأَصِيلًا- ثَلَاثًا - أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ: مِنْ نَفْخِهِ وَهَمْزِهِ وَنَفْثِهِ" 2 قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُهُ الكبر، وهمزه الموتة، ونفثه: الشعر. [5: 12]

۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے۔ یہ کہتے تھے۔ "اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ وہ بڑائی والا ہے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کیلئے مخصوص ہے، جو زیادہ ہو"۔ یہ کلمات آپ تین مرتبہ کہتے تھے۔ پھر تین مرتبہ یہ کہتے تھے "میں صبح اور شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں"۔ پھر آپ یہ کہتے تھے میں مردودشیطان سے اس کے پھونک مارنے سے اس کے پھونکنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں"۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں: نفخ سے مراد تکبر ہے۔ ہمز سے مراد مرگی ہے اور نفث سے مراد شعر کہنا ہے

أَبِيهِ ← بن جبير بن مطعم ← عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1780

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1781

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ أَبُو يَزِيدَ الْعَدْلُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ رَقَبَۃَ بْنِ مُسْقَلَۃَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کُلُّ الصَّلَاۃِ یُقْرَاُ فِیْھَا فَمَا اَسْمَعَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَسْمَعْنَا کُمْ وَمَا أخفی منا أخفینا منکم۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہر نماز میں قرات کی جاتی ہے، تو جس نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرات سنا دیا کرتے تھے (یعنی بلند آواز میں قرات کیا کرتے تھے) تو ہم اس میں تمہیں قرات سنا دیتے تھے اور جس نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مخفی رکھتے تھے (یعنی پست آواز میں قرات کرتے تھے) ہم ان میں تم سے مخفی رکھتے ہیں۔ اس بات کے بیان کا تذکرہ، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان "اس میں سے جو میسر ہو اس کی تلاوت کرو" اس سے مراد سورۃ فاتحہ (کی تلاوت کرنا) ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس بات کا نگران مقرر کیا ہے، کہ وہ اس چیز کی وضاحت کریں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ أَبُو يَزِيدَ الْعَدْلُ

Hadith 1781

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1782

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حدثنا بن عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلَاۃَ لمن لا یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔(21:1)

حضرت محمود بن ربیع حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ "اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو (نماز میں) سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا"۔

لَا صَلَاۃَ لمن لا یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔(21:1) ← عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن عُيَيْنَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1782

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1783

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، لِأَنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنُهُ». [1: 21]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہوتو اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کررہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے وہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس دفن کر دینا چاہئے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ مقتدی پر بھی نماز کے دوران سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ نمازی اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اور مناجات اس وقت ہو سکتی ہیں، جب لفظی طور پر کسی کو مخاطب کیا جائے، تسبیح یا تکبیر پڑھنے یا خاموش رہنے پر (مناجات کا اطلاق نہیں ہوتا)

شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنُهُ». ← يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ ← يَمِينِهِ، فَإِنَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 1783

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1784

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصهما لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقرؤوا يقول العبد: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} يَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي وَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ} {صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ) فَھؤ لاء لعبدی ولعبدی ماسأل ۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا وہ نماز نامکمل ہوتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے وہ پوری نہیں ہوتی"۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے کہا: اے ابو ہریرہ ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے میری کلائی پر چبھوتے ہوئے فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں نے نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے اور اس کا نصف حصہ میرے بندے کیلئے۔ میرا بندہ جو مانگتا ہے وہ اسے ملے گا"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم لوگ تلاوت شروع کرو۔ بندہ کہتا ہے، تمام جہانوں کے پروردگار اللہ کے لئے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے، بندہ کہتا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے۔ بندہ کہتا ہے وہ روز جزاء کا مالک ہے۔ اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ بندہ کہتا ہے بیشک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ اس نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔ بندہ کہتا ہے: "تو ہمیں صراب مستقیم پر ثابت قدم رکھ، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا۔ نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے"۔ تو یہ چیزیں میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 1784

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1785

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا مؤمل بن هشام اليشكري حدثنا إسماعيل بن عُلَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ- وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ الله هذا قال: "فلا تفعلوا إلا بأم الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بها" 1. [1: 21]

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ کیلئے قرات کرنا مشکل ہوا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے تم اپنے امام کے پیچھے بھی قرات کرتے ہو۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو تم سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو، اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس روایت کاتذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "تم ایسا نہ کرو البتہ سورۃ فاتحہ (کا حکم مختلف ہے)" اس سے آپ کی مراد یہ نہیں ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ کی قرات سے منع کر دیں

قُلْنَا: أَجَلْ ← "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ- وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مؤمل بن هشام اليشكري ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1785

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1786

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قال: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فصاعدا" 1. [1: 21] قال أبو حاتم رضى الله تعالى عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَكْحُولٍ: "فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ"، لَفْظَةُ زَجَرَ مُرَادٌ بِهَا2 ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ وَقَوْلُهُ: "فَصَاعِدًا" تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ دون أصحابه3.

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ "اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور مزید (کسی سورۃ) کی تلاوت نہیں کرتا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) مکحول کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "تم ایسا نہ کرو، البتہ سورہ فاتحہ (کا حکم مختلف ہے)" یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن مراد ابتداء میں نئے سرے سے حکم دینا ہے۔ روایت کے لفظ "فصاعدا" کو زہری کے حوالے سے روایت کرنے میں معمر منفرد ہے، زہری کے دیگر شاگردوں نے یہ لفظ نقل نہیں کیا

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 1786

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1787

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَبُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ، أَحْسَبُهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ صَلَاتَكَ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ»، قَالَ: فَرَجَعَ، فَصَلَّى نَحْوًا مِمَّا صَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ صَلَاتَكَ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ: «إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، فَإِذَا رَكَعْتَ، فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَامْدُدْ ظَهْرَكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ، فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، [ص:89] فَإِذَا سَجَدْتَ، فَمَكِّنْ سُجُودَكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ، فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ». قَالَ جَعْفَرٌ: لَفْظُ الْخَبَرِ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو [1: 21]

حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں ایک شخص آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تھے اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نماز ادا کی۔ پھر وہ (نماز پڑھنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تم اپنی نماز کو دوبارہ ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ راوی کہتے ہیں وہ شخص دوبارہ گیا اس نے پہلے کی طرح نماز ادا کی۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نماز کو دہراؤ کیونکہ تم نے اپنی نماز ادا نہیں کی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قبلہ کی طرف رخ کرو تو تکبیر کہو پھر تم سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرو پھر تم جو چاہو اس کی قرات کرو۔ پھر جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پشت کو سیدھا رکھو جب تم اپنا سر اٹھاؤ تو اپنی پشت کو قائم کرو۔ یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جوڑ پر آجائے۔ جب تم سجدے میں جاؤ تو جما کر سجدہ کرو اور جب تم اپنے سر کو اٹھاؤ تو اپنے بائیں زانو کے بل بیٹھ جاؤ۔ پھر تم ہر رکعت میں ایسے کرو"۔

رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ، أَحْسَبُهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبِي، وَبُنْدَارٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Hadith 1787

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1788

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الْأَصَمُّ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ صَلَاۃٍ لَّا یُقْرَاُ فِیْھَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَھِیَ خِدَاجٌ کُلُّ صَلَاۃٍ لَا یُقْرَاُ فِیْھَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَھِیَ خِدَاجٌ کُلٌّ صَلَاۃٍ لَا یُقْرَاُ فِیْھَا بِفَاتِحَۃِ الکتاب فھی خداج۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ نامکمل ہوتی ہے۔ ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ نامکمل ہوتی ہے۔ ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ نامکمل ہوتی ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الْأَصَمُّ الْحَافِظُ

Hadith 1788

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1789

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ: «اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ». [21: 1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَمْ يَقُلْ فِي خَبَرِ الْعَلَاءِ هَذَا: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ» إِلَّا شُعْبَةُ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَقَالَ: «هَذِهِ الْأَخْبَارُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ شَرَائِطِ الْأَخْبَارِ أَنَّ خِطَابَ الْكِتَابِ قَدْ يَسْتَقِلَّ بِنَفْسِهِ فِي حَالَةٍ دُونَ حَالَةٍ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَطَّابُ فِيهِ، وَقَدْ لَا يَسْتَقِلَّ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى كَيْفِيَّةِ اللَّفْظِ الْمُجْمَلِ الَّذِي هُوَ مُطْلَقُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ، دُونَ أَنْ تُبَيِّنَهَا السُّنَنُ، وَسُنَنُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا مُسْتَقِلَّةٌ بِأَنْفُسِهَا، لَا حَاجَةَ بِهَا إِلَى الْكِتَابِ، الْمُبَيِّنَةُ لِمُجْمَلِ الْكِتَابِ، وَالْمُفُسِّرَةُ لِمُبْهَمِهِ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ} [النحل: 44] فَأَخْبَرَ جَلَّ وَعَلَا أَنَّ الْمُفَسِّرَ لِقَوْلِهِ: {أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43]، وَمَا أَشَبْهَهَا مِنْ مُجْمَلِ الْأَلْفَاظِ فِي الْكِتَابِ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُحَالٌ، أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ الْمُفَسَّرُ لَهُ الْحَاجَةُ إِلَى الشَّيْءِ الْمُجْمَلِ، وَإِنَّمَا الْحَاجَةُ تَكُونُ لِلْمُجْمَلِ إِلَى الْمُفَسَّرِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ يَجِبُ عَرْضُهَا عَلَى الْكِتَابِ، فَأَتَى بِمَا لَا يُوَافِقُهُ الْخَبَرُ، وَيَدْفَعُ صِحَّتَهُ النَّظَرُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " وہ نماز جائز نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے"۔ (راوی بیان کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہا اگر میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم اپنے دل میں (سورۃ فاتحہ) پڑھ لو۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) علاء کی نقل کردہ اس روایت میں "نماز درست نہیں ہوتی" کے الفاظ صرف شعبہ نے نقل کیے ہیں، اور ان سے صرف وہب بن جریر اور محمد بن کثیر نے نقل کیے ہیں۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں: یہ اس نوعیت کی روایات ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے کتاب "شرائط الاخبار" میں یہ بات ذکر کی ہے، کتاب اللہ کا حکم بعض اوقات ایک حالت میں مستقل ہوتا ہے جبکہ دوسری حالت میں مستقل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس کو اس کے عموم پر استعمال کیا جاتا ہے جس بارے میں حکم آیا ہے۔ اور بعض حالتوں میں یہ مستقل نہیں بھی ہوتا، یہاں تک کہ اسے مجمل لفظ پر محمول کیا جاتا ہے، جو کتاب میں مطلق خطاب ہوتا ہے، علاوہ ازیں کہ سنت اس کی وضاحت کردے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں اپنے وجود کے اعتبار سے مستقل ہیں، اس (کی وضاحت کے لیے) کتاب اللہ کی ضرورت نہیں ہے، سنتیں ، کتاب اللہ کے مجمل حکم بیان کرتی ہیں اور اس کے مبہم حکم کی وضاحت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: "اور ہم نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کے لیے اس بات کی وضاحت کرو جوان کی طر ف نازل کیا گیا ہے۔" تو یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ اس کے اس فرمان "تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور کتاب اللہ میں موجود اس جیسے مجمل الفاظ والے احکام کی وضاحت اللہ کے رسول نے کرنی ہے، تو یہ بات نا ممکن ہے کہ ایک چیز تفسیر بیان کرنے والی ہو اور اسے کسی مجمل چیز کی ضرورت ہو، کیونکہ ضرورت تو مجمل چیز کو وضاحت کرنے والی چیز کی ہوتی ہے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ یہ بات لازم ہے، سنت کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے، تو اس شخص نے (اپنے اصول کی بنیاد پر) وہ چیز پیش کی، خبر جس کے موافقت نہیں کرتی، اور غوروفکر اس کے صحیح ہونے کو پرے کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1789

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr