Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1766

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ بن شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ1. [5: 27]

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ وہ ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے۔ پھر جب انہوں نے نماز مکمل کی تو انہوں نے فرمایا: میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں"۔

بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1766

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدِ ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَقُومِ بَيْنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أهل المسجد فقال: والذي نفسي بِیَدِہٖ اِنِّیْ لَاَشْبَھُکُمْ صَلَاۃً بِرُسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(27:5)

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مروان نے مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، تو جب وہ فرض نماز ادا کرنے کیلئے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع میں جانے لگے تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور پھر جب وہ سجدے میں جانے کیلئے جھکے تو انہوں نے تکبیر کہی وہ تشہد کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی تو انہوں نے اسی طرح کیا یہاں تک کہ اپنی نماز کو مکمل کرلیا۔ جب انہوں نے اپنی نماز کو مکمل کرکے سلام پھیرا تو انہوں نے اہل مسجد کی طرف رُخ پھیرا اور کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو۔ سالم بیان کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ البتہ وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے تھے۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1767

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1768

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ2 عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ3 عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ, عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْتَتِحُ الصَّلَاۃَ بِالتَّکْبِیرِ وَالْقِرَاءَۃِ (الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) ، وَکَانَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَذَا رَکَعَ لَمْ یُشْخِصْ بَصَرَہٗ وَلَمْ یُصَوِّبْہُ وَلٰکِنْ بَیْنَ ذَلِکَ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ لَمْ یَسْجُدْ حَتّٰی یَسْتَویَ قَائِمًا وَّاِذَا رَفَعَ رَاْوَہُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ یَسْجُدْ حَتّٰی یَسْتَوِیَ جَالِسًا وَّکَانَ یُوتِرُ رِجْلَہُ الْیُسْریٰ وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی وَکَانَ یَقُوْلُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ التَّحِیَّۃَ وَکَانَ یَنْھٰی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ وَکَانَ یَنْھٰی اَنْ یَّفْرِشَ اَحَدُنَا ذِرَاعَیْہِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَکَانَ یَخْتِمُ الصلاۃ بالتسلیم۔(4:5)

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور سورۃ فاتحہ کی قرات کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جاتے تھے، تو آپ اپنی نگاہ کو بالکل جھکا کر بھی نہیں رکھتے تھے اور اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے بلکہ اس کے درمیان کی صورت اختیار کرتے تھے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو اس وقت تک سجدے میں نہیں جاتے تھے جب تک پہلے سیدھے کھڑے نہیں ہوجاتے تھے۔ جب اپ سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو دوسری مرتبہ سجدے میں اس وقت تک نہیں جاتے تھے۔ جب تک بالکل سیدھے ہوکر بیٹھ نہیں جاتے تھے۔ آپ شیطان کے پیچھے جانے سے منع کرتے تھے اور آپ اس بات سے بھی منع کرتے تھے، کوئی شخص درندوں کی طرح اپنی کلائیاں بچھائے اور آپ سلام پھیر کر نماز کو ختم کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1768

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1769

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَ: حدثنا يحيى بن اليمان عن بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْشُرُ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلَاةِ نشرا1. [5: 4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يحيى بن اليمان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 1769

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1770

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُؤَخِّرَ سُحُورَنَا، وَنُعَجِّلَ [ص:68] فِطْرَنَا، وَأَنْ نُمْسِكَ بِأَيْمَانِنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي صَلَاتِنَا». [3: 68] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ»

حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "ہم انبیاء کے گروہ کو یہ حکم دیا گیا ہے، ہم اپنی سحری کو مؤخر کریں اور افطاری جلدی کریں اور نماز کے دوران اپنے دائیں ہاتھوں کے ذریعے بائیں ہاتھوں کو پکڑ لیں"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابن وہب نے یہ روایت عمر بن حارث اور طلحہ بن عمرو سے سنی ہے، جو عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّهُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1770

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، [ص:69] عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِينِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ». [5: 4]

حضرت علی ابن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے ، تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ "میں نے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے اور مسلمان ہوتے ہوئے اپن رُخ اس ذات کی طرف کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں"۔ بیشک میری نماز میری ذات، میری موت، میری قربانی، میری زندگی اللہ کیلئے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہیں، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں۔ تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کردے۔ ذنوب کی مغفرت صرف توہی کرتا ہے اور اچھے اخلاق کی طرف تو میری رہنمائی کردے کیونکہ اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کردے برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ سعادت تیری طرف سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے وہ شخص ہدایت یافتہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے میں تیری مدد سے ہواور تیری طرف رجوع کرتا ہو تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، [ص:69] ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يُوسُفُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 1771

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1772

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عن بن جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ1 اللَّهُ تعالى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْمَلِکْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ اَنْتَ رَبِّیْ وَاَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ وَاھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ لَا یَھْدِیْ لِاَحْسَنِھَا اِلَّا اَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَھَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَھَا اِلَّا اَنْتَ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ بَیَدَیْکَ وَالْمَھْدِیُّ مَنْ ھَدَیْتَ اَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔(12:5)

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے ، تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ "میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میر موت اللہ کیلئے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھےاسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ تو ہر عیب سے پاک ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کردے۔ ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، تو اچھے اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر اچھے اخلاق کی طرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کردے۔ برے اخلاق کو صرف تو ہی دور کر سکتا ہے میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے حاصل ہوتی ہے۔ بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے۔ ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے۔ میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں، توبہ کرتاہوں"۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← بن جُرَيْجٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Hadith 1772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1773

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ2 بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ: وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبآِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اللّٰھُمَّ اَنْتَ الْمَلِکُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ رَبِّیْ وَاَنَا عَبْدُکَ کُلُّہُ فِیْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ اِلَیْکَ اَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ أستغفرک وأتوب إلیک۔(12:5)

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو آپ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آپ یہ پڑھتے تھے: "میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری ذات میری موت قربانی زندگی اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے حمد تیرے لیے مخصوص ہے تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے ذنوب کی مغفرت کردے۔ ذنوب کی مغفرت صرف توہی کرتا ہے۔ میں حاضر ہوں اور سعادت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ تمام بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے اور برائی تیرے طرف نہیں جا سکتی اور میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں، توبہ کرتا ہوں"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "برائی تیری طرف نہیں جا سکتی" اس سے مراد یہ ہے: برائی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے تیرا قرب حاصل کیا جائے۔ تو یہاں "جس کے ذریعے قرب حاصل کیا جائے" محذوف ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1773

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1774

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ». [5: 33]

۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز ادا کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ "میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری زندگی، میری موت قربانی زندگی اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں۔ اے اللہ! ہم تیرے لیے مخصوص ہیں۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے اور حمد تیرے لیےمخصوص ہیں، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کی دے۔ ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کردے بے شک برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ سعادت تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے۔ ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے۔ میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں تو برکت والا بلند و برتر ہے اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں، توبہ کرتا ہوں"۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Hadith 1774

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1775

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَبَّرَ سَکَتَ بین التکبیر والقراءۃ فقلت بأبی وَاُمِّی اَرَاَیْتَ سَکَتَاتِکَ بَیْنَ التَّکْبِیرِ وَالْقِرَاءَۃِ اَخْبَرَنِیْ مَا تَقُوْلُ فِیْھَا ؟ قَالَ: اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللّٰھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایَ بالماء والثلج والبرد۔(33:5)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے، تو تکبیر اور قرات کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے میں نےعرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ تکبیر اور قرات کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں مجھے بتائیے کہ اس دوران آپ کیا پڑھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میں یہ پڑھتا ہوں) "اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کردے۔ جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! تو میری خطاؤں کو پانی اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ

Hadith 1775

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1776

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ [ص:196] عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لَهُ: وَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَرْكَعُ، وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يَرْفَعُهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ قَعْدَةُ السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ» قَالُوا جَمِيعًا: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. [5: 2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرات کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ تکبیر اور قرات کے درمیان جو خاموش ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پڑھتا ہوں۔

أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 1776

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1777

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ قَالَ: اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَبَّرَ فِی الصَّلَاۃِ سَکَتَ ھُنَیْھَۃً قَبْلَ اَنْ یَّقْرَاَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاَبِیْ وَاُمِّی اَرَاَیْتَ سُکُوتَکَ بَیْنَ التَّکْبِیرِ وَالْقِرَاءَ مَا ھُوَ ؟ قَالَ: اَقُوْلُ: اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللّٰھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خطایای بالماء والثلج والبرد۔(12:5)

سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمل کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے ان کو ترک کردیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوئے تھے، تو آپ دونوں ہاتھ بلند کرکے اٹھاتے تھے اور آپ قرات کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے جس میں آپ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگتے تھے اور آپ نماز کے دوران ہر دفعہ رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1777

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr