صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1862
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: "كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّفِّ، رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ الْتَحَفَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا، وَكَبَّرَ، ثُمَّ ركع، فإذا رفع رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ ، رَفَعَ یَدَیْدِ، فَکَبَّرَ ، فَسَجَدَ ،ثُمَّ وَضعَ وَجْھَہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ قَالَ ابْنُ جُحَادَۃَ: فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلْحَسَنِ بْنِ اَبِیْ الْحَسَنِ فَقَالَ: ھِیَ صَلَّاۃُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَہٗ مَنْ فَعَلَہُ ، وَتَرَکَہُ مَنْ ترکہ۔(4:5)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی جب آپ صف میں داخل ہوئے (یعنی نماز پڑھنا شروع کی) تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہی۔ آپ نے التحاف کے طور پر کپڑا لپیٹا تھا۔ آپ نے تھوڑا سا اپنا ہاتھ کپڑے کے اندر داخل کر لیا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا۔ پھر آپ نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو دونوں ہاتھ باہر نکال لیے اور ان کو بلند کیا اور تکبیر کہی پھر آپ رکوع میں چلے گئے۔ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ پھر آپ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔ ابن جحادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں۔میں نے اس بات کا تذکرہ حسن بن ابو الحسن سے کیا، تو وہ بولے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جس نے ایسا کرنا تھا اس نے ایسا کیا جس نے اس کو چھوڑنا تھا اس نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: محمد بن جحادہ نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ یہ دین داری کے حوالے سے اہلِ فضل ہیں تاہم اس راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا، کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ وائل بن علقمہ ہے، حالانکہ وہ علقمہ بن وائل ہے۔
وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← وائل بن علقمة ← كنت غلاما لا أعقل صلاة أبي ← عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 1862
