Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1862

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: "كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّفِّ، رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ الْتَحَفَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا، وَكَبَّرَ، ثُمَّ ركع، فإذا رفع رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ ، رَفَعَ یَدَیْدِ، فَکَبَّرَ ، فَسَجَدَ ،ثُمَّ وَضعَ وَجْھَہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ قَالَ ابْنُ جُحَادَۃَ: فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلْحَسَنِ بْنِ اَبِیْ الْحَسَنِ فَقَالَ: ھِیَ صَلَّاۃُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَہٗ مَنْ فَعَلَہُ ، وَتَرَکَہُ مَنْ ترکہ۔(4:5)

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی جب آپ صف میں داخل ہوئے (یعنی نماز پڑھنا شروع کی) تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہی۔ آپ نے التحاف کے طور پر کپڑا لپیٹا تھا۔ آپ نے تھوڑا سا اپنا ہاتھ کپڑے کے اندر داخل کر لیا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا۔ پھر آپ نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو دونوں ہاتھ باہر نکال لیے اور ان کو بلند کیا اور تکبیر کہی پھر آپ رکوع میں چلے گئے۔ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ پھر آپ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔ ابن جحادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں۔میں نے اس بات کا تذکرہ حسن بن ابو الحسن سے کیا، تو وہ بولے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جس نے ایسا کرنا تھا اس نے ایسا کیا جس نے اس کو چھوڑنا تھا اس نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: محمد بن جحادہ نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ یہ دین داری کے حوالے سے اہلِ فضل ہیں تاہم اس راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا، کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ وائل بن علقمہ ہے، حالانکہ وہ علقمہ بن وائل ہے۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← وائل بن علقمة ← كنت غلاما لا أعقل صلاة أبي ← عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1862

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1863

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ». [5: 4]

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے، تو آپ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کانوں تک لے آتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جاتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے۔ (تو بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے)

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1863

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1864

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا1 افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الركوع، ولا يرفع بين السجدتين2. [5: 4]

سالم اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز کا آغاز کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کندھوں کے برابر لے آئے۔ جب آپ نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ نے رکوع سے سر اٹھایا ( تو بھی رفع یدین) کیا۔ آپ نے سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1864

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1865

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَزَارِيُّ، بِسَارِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً! قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ [ص:179] إِلَى الصَّلَاةِ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ، كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فِي صُلْبِهِ وَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ، ثُمَّ سَجَدَ وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، كَبَّرَ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي [ص:180] تَنْقَضِي فِيهَا أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى رِجْلِهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ». [5: 4]

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دس صحابہ کرام ، جن میں سے ایک حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا: میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے دریافت کیا آپ نہ تو پرانے صحابی ہیں اور نہ ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ایسا ہی ہے۔ دیگر صحابہ کرام نے فرمایا: پھر آپ پیش کیجئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے تھے) تو حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہیں کندھوں تک اٹھا لیتے تھے۔پھر آپ اللہ اکبر کہتے پھر آپ جب رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے اور سر کو اٹھاتے نہیں تھے اور بالکل جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے (یعنی رکوع سے اٹھتے تھے) اور یہ کہتے تھے " اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی" پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے پھر آپ سیدھے کھڑے ہوجاتے تھے پھر آپ سجدے میں جاتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے قبلہ کی طرف کر لیتے تھے پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے۔ اللہ اکبر کہتے تھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس کی ٹانگ پر تو رک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے پھر آپ سلام پھیر لیتے تھے۔

أعلمكم بصلاة رسول الله ← فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← أَبِي حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَزَارِيُّ، بِسَارِيَةَ،

Hadith 1865

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِيُ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:181] أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَحَدُ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ أَبُوهُ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَأَرِنَا، قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ «فَبَدَأَ يُكَبِّرُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ غَيْرَ مُقَنِّعٍ وَلَا مُصَوِّبٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ، فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَجَلَسَ، وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ الْأُخْرَى، فَكَبَّرَ، فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى، وَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» [ص:182] قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ فِي التَّشَهُّدِ: «أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ». [5: 4] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ»

حضرت عباس بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک محفل میں موجود تھے وہاں ان کے والد بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اس محفل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے جن کا تعلق انصار سے تھا۔ ان حضرات نے نماز کا تذکرہ کیا، تو حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: پھر آپ ہمیں دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ نماز ادا کرنے کیلئے کھڑے ہوئے۔ دیگر حضرات دیکھ رہے تھے انہوں نے شروع میں تکبیر کہی۔ دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے پھر انہوں نے رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے۔ اپنے سر کو بالکل جھکایا بھی نہیں اور اوپر بھی نہیں کیا پھر انہوں نے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اپنے دونوں پاؤں کے کنارے زمین پر رکھے وہ سجدے کی حالت میں تھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو تو رک کے طور پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر انہوں نے تکبیر کہتے ہوئے دوسر ا سجدہ کیا تکبیر کہی اور کھڑے ہوگئے لیکن انہوں نے تو رک نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور دوسری رکعت ادا کی۔ پھر انہوں نے آخری دو رکعات بھی اسی طرح ادا کی، پھر جب انہوں نے سلام پھیرا تو پہلے دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔ حسن بن حرنامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ عیسیٰ نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، اس حدیث میں تشہد کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں: انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانوں پر رکھا اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھا اور پھر انہوں نے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: محمد بن عمرو نے یہ روایت حضرت ابو حمیدساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے۔ا نہوں نے یہ روایت عباس بن سہل کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ ان کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ ← عِيسَى بن عبد الله بن مَالك ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبِي ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 1866

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1867

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ وَكَانَ أَسْوَدَ مِنْ رَأَيْتُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:183] عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيُقِيمُ كُلَّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَدِلًا لَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يَقْنَعْ بِهِ، يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ هَكَذَا، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا [ص:184] التَّسْلِيمُ أَخْرَجَ رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا» فَقَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [1: 21] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهَا الْإِنْسَانُ سِتُّ مِائَةِ سُنَّةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَرَجْنَاهَا بِفُصُولِهَا فِي كِتَابِ صِفَةِ الصَّلَاةِ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ نَظْمِهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «عَبْدُ الْحَمِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدُ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ، قَدْ سَبَرْتَ أَخْبَارَهُ، فَلَمْ أَرَهُ انْفَرَدَ بِحَدِيثٍ مُنْكَرٍ لَمْ يُشَارِكْ فِيهِ، وَقَدْ وَافَقَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعِيسَى بْنُ [ص:185] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ»

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام جن میں ابو قتادہ بھی تھے ۔ ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔ ان حضرات نے دریافت کیا وہ کیسے۔ اللہ کی قسم! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں اور نہ پرانے صحابی ہیں۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جی ہاں دیگر صحابہ کرام نے کہا پھر آپ پیش کیجیے، تو حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے تو تکبیر کہتے تھے پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے کندھوں تک اٹھالیتے تھے۔ پھر آپ اس طرح قیام کرتے تھے۔ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ہوتی تھی پھر آپ تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے۔ پھر وہ رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے۔ آپ اعتدال کی حالت میں رہتے آپ اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر لے آتے تھے (اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ) ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی تھی۔ پھر آپ زمین کی طرف آتے تھے۔ آپ اپنے دونوں بازوں اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے تھے پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور ایک ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے۔ پھر آپ سجدہ کرتے تھے۔ پھر آپ تکبیر کہتے تھے اور بائیں ٹانگ کے بل بیٹھ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آجاتی تھی۔ پھر آپ کھڑے ہوتے تھے اور دوسری رکعت میں بھی ایسے کرتے تھے۔ پھر آپ جب دورکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔ دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ جس طرح نماز کے آغاز میں کیے تھے۔ پھر آپ بقیہ نماز بھی اس طرح ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کر لیتے تھے اس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تھا تو آپ اپنے دونوں پاؤں نکال لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تو رک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے۔تو دیگر صحابہ کرام نے کہاآپ نے سچ کہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: چار رکعات میں چھ سو چیزیں سنت ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، ہم نے انہیں ان کی فصول کے ہمراہ کتاب "نماز کا طریقہ" میں ذکر کیا ہے۔ اب اس کتاب میں اس نوع کی ترتیب کے ذریعے میں نے اس کتاب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عبد الحمید نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ میں نے ان کے حالات کی تحقیق کی ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ یہ کسی منکر روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہوں جس میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ فلیح بن سلیمان اور عیسیٰ بن عبد اللہ، محمد بن عمرو کے حوالے سے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت نقل کرنے میں عبد الحمید کے موافق ہیں۔

أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ وَكَانَ أَسْوَدَ مِنْ رَأَيْتُ،

Hadith 1867

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1868

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَهُمَا إِلَى مَنْكِبَيْهِ1. [5: 44]

سالم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب آپ نماز شروع کرتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے۔ جب رکوع میں جاتے تھے۔ رفع یدین کرتے تھے جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تھے (یعنی جب رکوع سے کھڑے ہوجاتے تھے) تو رفع یدین کرتے تھے۔ جب آپ دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔

اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَهُمَا إِلَى مَنْكِبَيْهِ1. ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 1868

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1869

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ القرش وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوْ بْنِ عَطَاءٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَّعَ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَبُوْ حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ اَنَا اَحْفَظُکُمْ لِصَلَاۃِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَیْتُہُ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَ طَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ اسْتَوَی فَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضٍ وَاسْتَقْبَلَ بِاَطْرَافِ رِجْلَیْہِ اِلَی الْقِبْلَۃِ وَاِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَۃِ الْاٰخِرَۃِ قَدَّمَ رجلہ الیسری وجلس علی مقعدتہ۔(44:5)

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں۔ وہ صحابہ کرام کے ہمراہ بیٹھے تھے، تو حضرت ابو حمید ساعدی نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ یاد رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ تکبیر کہتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے جب رکوع میں جاتے تو دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے۔ آپ اپنی پشت کو سیدھا رکھتے تھے۔ جب آپ سر اٹھاتے تھے، تو سیدھا کھڑے ہوجاتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو دونوں بازوں بچھاتے بھی نہیں تھے اور اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنی دونوں پاؤں کا رخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے جب آپ آخری رکعت میں بیٹھتے تھے، تو بائیں ٹانگ کو باہر نکال لیتے تھے اور تشریف گاہ پر بیٹھتے تھے۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ القرش ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Hadith 1869

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr