Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1084

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ1، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ -وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى2-: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بدأ بمقدم رأسه ثم ذَھَبَ بِھِمَا اِلٰی قَفَاہُ ، ثُمَّ رَدَّھُمَا حَتّٰی اِلَی الْمَکَانِ الَّذِیْ بَدَاَمِنْہُ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ وَقَالَ: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، تتوضأ۔

عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے کہا جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ۔ کیا آپ یہ کر کے دکھا سکتے ہیں نبی اکرم ﷺ کس طرح وضو کیا کرتے تھے۔ تو حضرت عبداللہ بن زید نے کہا : جی ہاں پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، پھر دونوں پاتھ دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے۔ پھر اپنے سر کا دونوں ہاتھوں کے ذریعے مسح کیا ۔ وہ ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے اور پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے۔ انہوں نے سر کے آگے والے حصہ سے آغاز کیا تھا پھر پیچھے گدی تک ہاتھ لے کر گئے پھر وہ اسے واپس اسی جگہ لے کر آئے جہاں سے آغاز کیا تھا پھر انہوں نے اپنے دونوں پاوں دھوئے اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے

أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1084

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1085

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَالْأُخْرَى مِثْلَهَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ یدہ ، وغسل رجیلہ حتی أنقاھما۔

حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہون نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ؓ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا ۔ آپ نے کلی کی ناک میں پانی ڈالاپھر اپنے چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھویا۔ اپنے دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا۔ دوسرے کو بھی اسی کی مانند دھویا۔ اپنے سر پر مسح ہاتھ پر موجود پانی کے علاوہ اضافی پانی لئے بغیر کیا اور اپنے دونوں پاوں دھوئے یہاں تک کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ: ← أَنَّهُ ← حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ، أَنَّ أَبَاهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1085

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1086

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا بن إدريس، عن بن عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَّابَتَيْنِ، وَخَالَفَ بِإِبْهَامَيْهِ إِلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ، فَمَسَحَ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ اليسرى2.

حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے وضو کرتے ہوئے چلو میں پانی لیا۔ آپ نے اپنے چہرے کو دھویا پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں بازو کو دھویاپھر چلو مین پانی لیا اور پانے بائیں بازو کو دھویا پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا ۔ ان کے اندرونی حصہ میں شہادت کی انگلی کے ذریعے مسح کیا ۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو باہر والے حصہ پر رکھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے اندرونی اور بیرونی حصہ کا مسح کیا ۔ پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں پاوں کو دھویا پھر چلو میں پانی لیا اور دائیں پاوں کو دھویا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن عَجْلَانَ ← بن إدريس، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1086

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1087

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: "أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إلا أن تكون صائما" 1. 95:1

عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ﷺ آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اچھی طرح وضو کرو ۔ دو انگلیوں کے درمیان خلال کرو ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو اگر تم روزے کی ( حالت میں ہو تو حکم مختلف ہے)

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1087

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1088

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ، وَهُمْ يَتَوَضَّؤُونَ عِنْدَ الْمَطْهَرَةِ2 فَيَقُولُ لَهُمْ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "وَيْلٌ للأعقاب من النار" 3. 95:1

محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ لوگون کے پاس تشریف لاتے تھے۔ وہ لوگ اس وقت وضو خانے میں وضو کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریعہ ان سے فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے تم لوگ اچھی طرح وضو کرو ، کیونکہ میں نے حضرت ابو القاسم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے

«وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ». ← اَبَا الْقَاسِمِ ← لَهُمْ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، فَإِنِّي ← كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ، وَهُمْ يَتَوَضَّؤُونَ عِنْدَ الْمَطْهَرَةِ2 ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1088

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1089

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا جُبَيْرٍ الْكِنْدِيَّ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، وَقَالَ: "تَوَضَّأْ يَا أَبَا جُبَيْرٍ" فَبَدَأَ بِفِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَبْدَاْ بِفِیکَ فَاِنَّ الْکَافِرَ یَبْدَاُ بِفِیْہٖ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِوَضُوْءٍ ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ حَتّٰی اَنْقَاھُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیَمْنَی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّا غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرَی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ برأسہ وغسل رجلیہ ۔2:43

عبد الرحمان بن جندب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ابو جبیر کندی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے وضو کا پانی لانے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا: اے ابو جبیر! تم جاو اور وضو کرو انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے آغاز کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم اپنے منہ کے ذریعے آغاز نہ کرو، کیونکہ کافر شخص اپنے منہ کے ذریعے آغاز کرتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ وضو کا پانی منگوایاآپ نے دونون ہاتھ دھوئے انہیں اچھی طرح صاف کیا پھر آپ نے کلی کی پھر ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر دائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا پھر بائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھو یا پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا پھر دونوں پاوں دھو لئے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 1089

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1090

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا لَبِسْتُمْ، وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ، فَابْدَؤُوا بِمَيَامِنِكُمْ" 2. 78:1

حضرت ابو ہریرہ ظ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو ، تو اپنے دائیں طرف والے حصہ سے آغاز کرو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 1090

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1091

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ: فِي طُهُورِهِ، وَتَنَعُّلِهِ، وَتَرَجُّلِهِ1. 47:5 قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ بِوَاسِطَ يقول: "يحب التيامن ما استطاع

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کو ، جہاں تک ہو سکے، وضو کرتے ہوئے، جوتا پہنتے ہوئے، کنگھی کرتے ہوئے دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں میں نے اشعث نامی راوی کو واسط میں یہ بیان کرتے سنا : " (نبی اکرم ﷺ)دائیں طرف کو پسند کیا کرتے تھےپھر انہوں نے تمام معاملات کا ذکر کیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے انہیں کوفہ میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم ْﷺ کو جہاں تک ہو سکے دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔"

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1091

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1092

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، يُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ1. 1:4

مطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ تین مرتبہ وضو کرتے تھے اور اس بات کی نسبت حضرت محمد ﷺ کی طرف کرتے تھے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1092

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1093

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ1. 2:5

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے " دو مرتبہ " وضو کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1093

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1094

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ2 بْنِ يُوسُفَ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زيد بن الحباب، عن بن ثَوْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عن الأعرج عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ توضأ مرتین مرتین۔ 4:1

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے "دو مرتبہ" وضو کیا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← بن ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ2 بْنِ يُوسُفَ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ،

Hadith 1094

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1095

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم، فتوضأ مرة مرة2. 1:4

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے وضو کے بارے میں تم سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ( بھی) وضو کیا۔

أَعْلَمُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ، فتوضأ مرة مرة2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1095

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr