Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1072

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الليل يشوص فاه بالسواك"1. 1:5

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرم ﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ، إِذَا قَامَ مِنَ الليل يشوص فاه بالسواك"1. ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٍ وَحُصَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1072

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1073

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ، وَطَرَفُ السواك على لسانه، وهو يقول عأعأ1. 1:5

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت مسواک کر رہے تھے مسواک کا کنارہ آپ کی زبان پر تھا ۔ آپ عا عا کی آواز نکال رہے تھے۔

عأعأ1. ← دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يَسْتَنُّ، وَطَرَفُ السواك على لسانه، وهو ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 1073

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1074

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا بن مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ بيته يبدأ بالسواك1. 47:5

۱۰۷۴۔سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہین ؛ نبی اکرم ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← سُفْيَانَ، ← بن مَهْدِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ،

Hadith 1074

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1075

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ1، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ2. 47:5

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو آپ اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے تھے۔"

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٍ وَحُصَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1075

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1076

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مرة، وجمع بين المضمضة والاستنشاق3. 1:4

حضرت عب داللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ، کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کر لیا ( یعنی ایک ہی چلو کے ساتھ یہ دونوں کام کئے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1076

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1077

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ، فَغَسَلَ يَدَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، مِنْ ثَلَاثِ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ، إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإناء فغسل ذِرَاعَیْہِ مَرَّتَیْنِ ، اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ، ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہٗ فِی الاناء رجلیہ إلی الکعبین۔5:12

عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ میں اس وقت عمرو بن ابو حسن کے پاس موجود تھا ۔ انہوں نے حجرت عبد اللہ بن زید سے وضو کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہون نے وضو کے پانی کا برتن منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر انڈیلا انہوں نے اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ برتن مین داخل کر کے کلی کیاور ناک میں پانی ڈالا انہوں نے ایسا تین مرتبہ کیا اور تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر کیا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویاپھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے دونوں بازووں کو کہنیوں تک دو مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے سر کا مسح کیا ۔ وہ ہاتھ آگے سے پیچھے لے کر گئےپھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے پھر انہوں نے اپنا پہاتھ برتن میں داخل کیا اور دونوں پاوں ٹخنوں تک دھو لئے

شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1077

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1078

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حدثنا بن إدريس، عن بن عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَةً، [فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً] ، فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَبَاطِنِ أُذُنَيْهِ وَظَاهِرِهِمَا، وَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً1 فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رجله اليسرى2. 12:5

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے ایک چلو میں پانی لیااور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنے چہرے کو دھویا پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنے دائین بازو کو دھویا پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے سر کا اوراپنے کان کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا پھر آپ نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کیں پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں پاوں کو دھویا پھر چلو میں پانی لیا اور بائیں پاوں کو دھویا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن عَجْلَانَ ← بن إدريس، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Hadith 1078

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1079

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ، [ص:361] قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامٍ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، [ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى] * كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، قَالَ: فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَغَرَفَ بِكَفِّهِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طَهُورُهُ». [5: 12]

عبد خیر بیان کرتے ہیں : حضرت علی ؓ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میدان میں تشریف لائے۔ آپ میدان میں تشریف فرما ہوئے پھر آپ نے لڑکے سے کہا میرے لئے وضو کا پانی لے کر آو۔ وہ لڑکا آپ کے پاس پانی کا برتن اور طشت لے کر آیا۔ عبد خیر بیان کرتے ہیں ۔ ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں ؛ حضرت علی ؓ اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن پکڑا اور اس کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئےہر مرتبہ میں انہوں نے برتن میں ہاتھ داخل نہیں کیا ، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھو لئے پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے ناک صاف کیا ۔ انہوں نے یہ عمل تین مرتبہ کیا ، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دائئیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر بائین بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا یہاں تک کہ اسے ڈبو دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس میں موجود پانی سمیت نکالا اور اپنے بائیں ہاتھ پر مسح کیا ۔ انہوں نے اپنے سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے دائیں پاوں پر پانی ڈالاپھر اسے بائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں پاوں پر تین مرتبہ پانی ڈالااور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا ۔ اس میں سے ایک چلو لیا اور اسے پی لیاپھر یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ کے وضو کا طریقہ ہے، جو شخص اللہ کے نبی کے وضو کے طریقے کو دیکھنا چاہتا ہو تو یہ آپ کے وضو کا طریقہ ہے۔

عبد خير ← خالد بن علقمة الهمداني ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1079

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1080

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ بَيْتِي، وَقَدْ بَالَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْنَاهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وضوء رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ: فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ الْمَاءَ فَصَكَّ بِهِ وَجْهَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ وضوئه1. 2:5

عبید اللہ خولانی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ میرے ہاں تشریف لائے وہ پیشاب کر چکے تھے۔ انہوں نے وضو کیلئے پانی منگوایا ہم ایک بڑے برتن میں آپ کے پاس پانی لے کر آئے جس میں ایک مد پانی آجاتا ہے، اسے آپ کے سامنے رکھا گیا ، تو حضرت علی ب نے دریافت کیا : کیا میں تمہارے سامنے نبی اکرم ﷺ کی طرح وضو کر کے نہ دکھاوں ۔ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( ضرور ایسا کریں) راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت علی ؓ نے دونوں ہاتھ دھوئے ۔ انہوں نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا ناک کو صاف کیا پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر اسے اپنے چہرے پر چھپکا مار کر ( دھویا ) یہاں تک کہ انہوں نے پورا وضو کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← بن عُلَيَّةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1080

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1081

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: رَاَیْتُ عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ تَوَضَّاَ ، فَخَلَّلَ لِحْیَتَہٗ ثَلَاثًا ، وَقَالَ: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَہُ ۔5؛2

ابو وائل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے اپنی داڑھی کا تین مرتبہ خلال کیا پھر یہ بات بیان کی ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔"

ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ فَعَلَہُ ← رَاَیْتُ عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ تَوَضَّاَ فَخَلَّلَ لِحْیَتَہٗ ثَلَاثًا ← أَبِي وَائِلٍ ← عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1081

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1082

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہٖ قَالَ : رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَوَجَّاُ فَجَعَلَ یَدْلُکُ ذراعیہ ۔5:2

عباد بن تمیم اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ اپنے دونوں بازو مل رہے تھے۔

رَاَیْتُ النَّبِیَّ یَتَوَجَّاُ فَجَعَلَ یَدْلُکُ ذراعیہ ← عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1082

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1083

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كريب، قال: حدثنا بن أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ مَاءً فتوضأ، فجعل يدلك ذراعيه2. 2:5

عباد بن تمیم اپنے چچا حضرت عبد اللہ بن زید ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی لایا گیا ۔ آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں بازووں کو ملا۔

عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شُعْبَةُ، ← بن أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 1083

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr