Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1060

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مولى عثمان اَنَّہٗ رَاَی عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوْءٍ ، فَاَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ مِنْ اِنَائِہِ فَغَسَلَھُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اَدْخَلَ یَمِیْنَہُ فِیْ الْوَضُوْءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا ، وَیَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَاْسِہٖ ،ثُمَّ غَسَلَ کُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَوَضَّاُ نَحْوَ وُضُوْئِی ھٰذَا ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَوَضَّاَ مِثْلَ وُضُوْئِ ھٰذَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فِیْھِمَا نَفْسَہُ غُفِرَ لَہُ ما تقدمَ من ذنبہ ۔5:2

حمران بیان کرتے ہیں : میں نے ھجرت عثمان غنی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا۔ انہوں نے برتن میں سے دونون ہاتھوں پر پانی انڈیل کر تین مرتبہ دھویا پھر اپنا دایان ہاتھ وضو کے پانی میں داخل کر کے کلی کی اور ناک مین پانی ڈالا پھر ناک صاف کیا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں بازووں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ہو پاوں کو تین مرتبہ دھویا پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: " جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر اٹھ کر دو رکعات ادا کرے اور اس دوران اپنے خیالوں میں گم نہ ہو تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتین ہے۔"

عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Hadith 1060

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1061

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا2 ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَا یَدْرِی اَیْنَ کانتَ تطوف یدہ ۔2:43

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اس وقت تک پانی میں ہاتھ نہ ڈالے، جب تک انہیں تین دفعہ دھو نہ لے۔ کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي مَرْيَمَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1061

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1062

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يده" 2. 95:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہوا تو وہ اس وقت پانی میں ہاتھ نہ ڈالے ، جب تک انہیں دھو نہ لے، کیونکہ وہ اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا ہے۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1062

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1063

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إذا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلْيَغْسِلْ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يدري أين باتت يده" 1. 55:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی اکر م ْﷺ نے ارشاد فرمایاہے: " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، تو وہ اپنے دونوں ہاتھ وضو کرنے سے پہلے دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات کے وقت کہاں رہا؟۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1063

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1064

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسیٰ ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا اسْتَیْقَظَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَّنَامِہِ ، فَلَا یَغْجِسْ یَدَہٗ فِی الْاِنَاءِ حَتّٰی یَغْسِلَھَا ثلاث مرات۔1؛55

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو ، تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 1064

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1065

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يده منه" 2. 55:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ اس وقت تک نیند میں نہ ڈبوئے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے وہ یہ بات نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر ( رات کے وقت کہاں لگا تھا )۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Hadith 1065

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1066

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَکْثَرْتُ علیکم فی السواک ۔1:92

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " میں تمہیں مسواک کرنے کی بکچرت تاکید کرتا ہون ۔"

اَکْثَرْتُ علیکم فی السواک ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1066

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1067

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بن عبد المؤمن المقرىء، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، سَمِعْتُ أَبِي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" 2. 2:1 قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ : اَبُو عَتِیقٍ ھٰذَا اسْمُہُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ قُحَافَۃَ ، لَہُ مِنَ النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رُؤْیَۃٌ ، وَھٰؤُلَاءِ اَرْبَعَۃُ فِیْ نَسَقٍ وَّاحِدٍ ، لَھُمْ کُلُّھُمْ رُؤْیَۃٌ مِنَ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَبُو قُحَافَۃَ وَابْنُہُ اَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیْقُ ، وَایْنُہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ، وَابْنُہُ اَبُو عَتِیقٍ ، وَلَیْسَ ھٰذَا لِاَحَدٍ فِیْ ھٰذِہِ الأمۃ غیرھم۔

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے؛ " مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضامندی کا باعث ہے۔" (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) ابو عتیق نامی راوی کا نام محمد بن عبد الرحمٰن بن ابو بکر بن ابو قحافہ ہے۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہوئی ہے۔ یہ چار افراد ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں ( یعنی آپس میں باپ بیٹا اور دادا پوتا ہے) ان سب نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہوئی ہے۔ حضرت ابو قحافہ ان کے صاحبزادے حضرت ابو بکر صدیق ؓ ان کے صاحبزادے حضرت عبد الرحمٰن بن ابو بکر اور ان کے صاھبزادے ابو عتیق ( یعنی محمد بن عبدالرحمٰن ؓ ) اس امت میں ان حضرات کے علاوہ کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہے، ( یعنی یہ ان کی چار پشتیں صحابی ہوں )

عَائِشَةَ تُحَدِّثُ: ← أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← رَوْحُ بن عبد المؤمن المقرىء، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 1067

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1068

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كل صلاة" 3. 34:3

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1068

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1069

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سليمان بن بلال، عن بن عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ مع الوضوء بالسواك1 عند كل صلاة" 2. 34:3

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : " اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔"

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← بن عَجْلَانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 1069

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1070

أخبرنا بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "عليكم بِالسِّوَاکِ ، فَاِنَّہٗ مَطْھَرۃٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ عَزَّوجل ۔4:34

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم پر مسواک کرنا لازم ہے، کیونکہ یہ منہ کو صاف کرتی ہے، اور اپنے پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ، ← بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ،

Hadith 1070

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1071

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعِيَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي2، وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي2، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَكِلَاهُمَا سَأَلَا الْعَمَلَ، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّا لَا -أَوْ لَنْ- نَسْتَعِينَ3 عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، لَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ" فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَرْدَفَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ4. 11:4

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ اشعر قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی تھے۔ ان میں سے ایک میرے دائیں طرف تھا اور دوسرا میرے بائیں طرف تھا ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت مسواک کر رہے تھے۔ ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے کسی سرکاری ذمہ داری کی درخواست کی۔ میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کای ہے۔ انہوں نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ ان کے ذہن میں کیا ہے اور مجھے یہ بھی اندازہ نہیں ہوا کہ یہ کسی سرکاری ذمہ داری کا مطالبہ کریں گے۔ ( حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں ) گویا کہ میں اس وقت بھی یہ منظر دیکھ رہاہوں کہ نبی اکرم ﷺ کے ہونٹ کے نیچے مسواک تھی۔ جسے آپ چبا رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہم اپنے (ریاستی) کاموں میں ایسے شخص کو مامور نہیں کریں گے جو اس (عہدے) کا طلب گار ہو لہٰذا تم چلے جاو۔" پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یمن بھیج دیا ، اور پھر ان کے پیچھے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو بھجوایا۔

يَمِينِي وَالْآخَرُ ← أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنْ الأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1071

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr