صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1060
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مولى عثمان اَنَّہٗ رَاَی عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوْءٍ ، فَاَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ مِنْ اِنَائِہِ فَغَسَلَھُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اَدْخَلَ یَمِیْنَہُ فِیْ الْوَضُوْءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا ، وَیَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَاْسِہٖ ،ثُمَّ غَسَلَ کُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَوَضَّاُ نَحْوَ وُضُوْئِی ھٰذَا ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَوَضَّاَ مِثْلَ وُضُوْئِ ھٰذَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فِیْھِمَا نَفْسَہُ غُفِرَ لَہُ ما تقدمَ من ذنبہ ۔5:2
حمران بیان کرتے ہیں : میں نے ھجرت عثمان غنی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا۔ انہوں نے برتن میں سے دونون ہاتھوں پر پانی انڈیل کر تین مرتبہ دھویا پھر اپنا دایان ہاتھ وضو کے پانی میں داخل کر کے کلی کی اور ناک مین پانی ڈالا پھر ناک صاف کیا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں بازووں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ہو پاوں کو تین مرتبہ دھویا پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: " جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر اٹھ کر دو رکعات ادا کرے اور اس دوران اپنے خیالوں میں گم نہ ہو تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتین ہے۔"
عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،
Hadith 1060
