صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2381
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا مَا كَانَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالُوا: الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَقَدْ جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مُرْتَدِفِينَ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي أَرْضِ خَلَاءٍ، فَتَرَكْنَا الْحِمَارَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، ثُمَّ جِئْنَا حَتَّى دَخَلْنَا بَيْنَهُمْ فَمَا بَالَى بِذَلِكَ» (1) . [4: 50]
ابوصہباء بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس موجود تھے ہم نے اس بات کا ذکر کیا‘ کون سی چیز نماز کو توڑ دیتی ہے‘ تو لوگوں نے کہا: گدھا اور عورت (نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں ) تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بتایا: میں اور بنوعبدالمطلب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص گدھے پر آگے پیچھے سوار ہو کر آئے۔ نبی اکرمﷺاس وقت کھلے میدان میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم نے گدھے کو لوگوں کے سامنے چھوڑ دیا‘ پھر ہم آئے اور صف میں شامل ہو گئے‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَقَدْ جِئْتُ ← الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، ← كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا مَا كَانَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، ← أَبِي الصَّهْبَاءِ، ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2381
