صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2279
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ1 قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و2حسن بْنُ عَلِيٍّ يُصَلِّي غَرَزَ ضَفِيرَتَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا3 أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ الْحَسَنُ إِلَيْهِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ" 4 يَقُولُ مقعد الشيطان يعني مغرز ضفرته5
سعید ابو سعید مقبری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے حضرت ابو رافعؓ کو دیکھا جو نبی اکرمﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ایک مرتبہ حضرت امام حسن بن علی ؓ نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بالوں کو گدی پر باندھا ہوا تھاتو حضرت ابو رافعؓ نے ان بالوں کو کھول دیا۔ حضرت امام حسنؓ غصے کے عالم میں ان کی طرف متوجہ ہوئے‘ تو حضرت ابو رافعؓ نے کہا: آپ اپنی نماز جاری رکھئے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ یہ شیطان کا حصہ ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ( یا حضرت ابو رافع نے یہ فرمایا ) یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں بال باندھے گئے تھے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) عمران بن موسیٰ نامی راوی عمران بن موسیٰ بن عمرو بن سعید العاص ہے۔ یہ ایوب بن موسیٰ کا بھائی ہے۔
أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،
Hadith 2279
