Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2255

وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: [ص:31] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ( اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔

«صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← [ص:149] ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2255

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2256

وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتْيِ الْعَشِيِّ - قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: سَمَّاهَا لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَنَسِيتُ أَنَا - فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَاتَّكَأَ عَلَى خَشَبَةٍ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، قَالَ: وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ - قَالَ النَّضْرُ: يَعْنِي أَوَائِلَ النَّاسِ - فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ؟ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدِهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ، وَلَمْ أَنَسَ»، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى مَا كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَهُ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ قَالَ: فَرُبَّمَا سَأَلُوا مُحَمَّدًا: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: «ثُمَّ سَلَّمَ». لَفْظُ الْخَبَرِ لِلنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ ابن سیرین نامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہؓ نے ہمارے سامنے ( اس نماز کا ) نام لیا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں ( حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں ) نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا‘ پھر آپ مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیا۔ آپ نے غضب کے عالم میں اس لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جلدباز لوگ ( مسجد سے ) نکل گئے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے۔ نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی موجود تھے لیکن انہیں نبی اکرمﷺ سے بات کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے۔ انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: نہ تو نماز مختصر ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں پھر نبی اکرمﷺ نے حاضرین سے دریافت کیا: کیا اسی طرح ہے‘ جسے ذوالیدین کہہ رہا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں‘ تو نبی اکرمﷺ نے وہ نماز ادا کی جو آپ نے چھوڑ دی تھی‘ پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں جتنا یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا‘ پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہی۔ پھر آپ نے تکبیر کہی اور اسی کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا‘ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں: ( ہمارے استاد سے ) بعض لوگ یہ کہتے تھے ( روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) پھر انہوں نے سلام پھیر دیا‘ تو وہ یہ فرماتے تھے۔ مجھے حضرت عمران بن حصینؓ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے‘ انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں ’’ پھر نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرا‘‘۔ روایت کے یہ الفاظ نضر بن شمیل کے ابن عون کے حوالے سے نقل کردہ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2256

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2257

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ1 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا قَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي ويبكي حتى أصبح2 [4: 1]

حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں۔ غزوہ بدر کے موقع پر مقداد کے علاوہ ہم میں سے اور کوئی گھڑسوار نہیں تھا اور مجھے یاد ہے‘ ہم میں سے ہر شخص کھڑا ہوا تھا۔ ( یہاں روایت کا لفظ غلط نقل ہوا ہے اصل لفظ یہ ہے‘ ہم میں سے ہر شخص سویا ہوا تھا ) صرف نبی اکرمﷺ ( جاگتے رہے تھے ) آپ ایک درخت کے نیچے نماز ادا کرتے رہے اور روتے رہے‘ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔

عَلِيٍّ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2257

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2258

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَدَخَلَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي1 فقال: "كان يشير بيده2" [4: 1]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ بنوعمروبن عوف کی مسجد میں تشریف لائے ( راوی کہتے ہیں ) یعنی مسجد قبا میں تشریف لائے‘ تو کچھ انصار مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت صہیبؓ سے دریافت کیا۔ یہ اس وقت نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے‘ نبی اکرمﷺ کو جب نماز کے دوران سلام کیا گیا تو پھر آپ نے کیا کیا تھا تو حضرت صہیب نے بتایا: آپ نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اشارے ( کے ذریعے جواب دیا تھا )

ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2258

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2259

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ1 بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حُھَیْبٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَرَدَّ عَلَیَّ اِشَارَۃً ، وَلَا اَعْلَمُ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ: بِاِصْبَعِہٖ ۔ّ(8:5)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ حضرت صہیبؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے پاس سے گزرا آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا‘ تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا: راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔’’ آپ نے انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔‘‘

حُھَیْبٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2259

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2260

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ نَعَمْ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فلما أكثر الناس التصفيق التفت اَبُوْ بَکْرٍ ، فَرَاَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَشَارَ اِلَیْہِ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَنِ اثْبُتْ مَاکَانَکَ ، فَرَفَعَ اَبُوْ بَکْرٍ یَدَیْہِ ، فَحَمِدَ اللہَ تَعَالٰی عَلٰی مَا اَمَرَہُ بِہٖ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِکَ ، ثُمَّ اسْتَاْخَرَ اَبُوْ بَکْرٍ حَتّٰی اسْتَویٰ فِی الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا اَبَا بَکْرٍ ، مَا مَنَعَکَ اَنْ تَلْبَتَ اِذْ اَمَرْتُکَ ؟ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: مَا کَانَ لِا بْنِ اَبِیْ قُحَافَۃَ اَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا لِی رَاَیْتُکُمْ اَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیقَ ؟ مَنْ نَا بَہُ شَیْءٌ فِیْ صَلَاتِہٖ فَلْیُسَبِّحْ ، فَاِنَّہٗ اِنْ سَبَّحَ الْتُفِتَ اِلَیْہِ ، وَاِنِّمَا التَصْفِیْقُ لِلنِّسَاءِ ۔(78:1)

حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ بنو عمروبن عوف کے ہاں تشریف لے کے گئے تاکہ ان کے درمیان صلح کروائیں۔ اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا۔ حضرت بلالؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں آئےاور بولے: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے۔ تو میں اقامت کہوں؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ٹھیک ہے‘ پھر حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے لگے۔ اسی دوران نبی اکرمﷺ تشریف لے آئے۔ لوگ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ آئے اور صف میں آکر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ حضرت ابوبکرؓ نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے جب لوگوں نے زیادو تالیاں بجائی اور حضرت ابوبکرؓ نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرمﷺ نظر آئے۔ ( نبی اکرمﷺ نے انہیں اشارہ کیا )‘ تم اپنی جگہ پر رہو لیکن حضرت ابوبکرؓ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور اللہ کے رسول نے انہیں جو‘ یہ حکم دیا تھا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ گئے‘ یہاں تک کہ صف میں آکر کھڑے ہو گئے نبی اکرمﷺ آگے بڑھے آپ نے نماز پڑھانا شروع کی جب آپ نے نماز مکمل کر لی‘ تو آپ نے دریافت کیا: اے ابوبکر جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تم اپنی جگہ پر ٹھہرے کیوں نہیں تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹےکی یہ مجال نہیں ہے‘ وہ اللہ کے رسول کے آگے نماز ادا کرے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:کیا وجہ ہے‘ میں نے تمہیں دیکھا‘ تم نے بکثرت تالیاں بجائی تھیں جس شخص کو نماز کے دوران ( امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) کوئی ضرورت پیش آجائے اسے سبحان اللہ کہنا چاہئے اگر وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ مبذول ہو جائے گی ( نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کےلئے) تالی بجانے کا حکم خواتین کےلئے ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2260

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2261

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خلف بن هشام البزاز حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَقَدْ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَالَ لِبِلَالٍ "إِنْ حَضَرَتِ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَذَّنَ بِلَالٌ وَأَقَامَ وَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ تَقَدَّمْ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ الصُّفُوفَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ صَفَّحُوا قَالَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ1 لَا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْضِ فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً2 فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْضِ ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبِهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ صَلَاتَهُمْ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ "يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَكُنْ لابن اَبِیْ قُحَافَۃَ اَنْ یَّؤُمَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: اِذَا نَا بَکُمْ فِیْ صَلَاتِکُمْ شَیْءٌ ، فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ ۔ (78:1)

حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: بنوعمروبن عوف کے درمیان لڑائی ہو گئی۔ نبی اکرمﷺ ان کے درمیان صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ نے حضرت بلالؓ سے ارشاد فرمایا: اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں نہ آپاؤں‘ تو ابوبکر سے کہنا لوگوں کو نماز پڑھا دے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا‘ تو حضرت بلالؓ نے اذان دی اور اقامت کہی اور بولے: اے ابوبکر آپ آگےبڑھئے‘ تو حضرت ابوبکرؓ آگے بڑھے اسی دوران نبی اکرمﷺ صفوں کو چیرتے ہوئے تشریف لے آئے جب لوگوں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو انہوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوبکرؓ جب نماز شروع کرتے تھے‘ تو ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے جب انہوں نے دیکھا‘ مسلسل تالیاں بج رہی ہیں تو انہوں نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرمﷺ اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نظر آئے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اشارہ کیا‘ تم نماز جاری رکھو لیکن حضرت ابوبکرؓ ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پیچھے آگے جب نبی اکرمﷺ نے یہ بات ملاحضہ کی تو آپ آگے بڑھے۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر کیا وجہ ہے‘ جب میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا تھا تو تم نے نمازکو جاری کیوں نہیں رکھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے‘ وہ اللہ کے رسول کی امامت کرے پھر نبی اکرمﷺ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: جب تمہیں نماز کے دوران ( امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) ضرورت پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اور خواتین کو تالی بجانی چاہئے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام البزاز ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2261

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2262

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنساء" 2 [1: 92]

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ( امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کےلئے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔‘‘

"التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنساء" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْفٌ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Hadith 2262

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2263

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء" 1 [4: 10]

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ( نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کےلئے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2263

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2264

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ: "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصلاة" 1 [4: 1] ذِكْرُ الْأَمْرِ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَبْصُقَ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى لَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَا تِلْقَاءَ وَجْهِهِ

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نماز کے دوران اشارہ کر لیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2264

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2265

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَهَذَا رِدَاؤُكَ إِلَى [ص:43] جَنْبِكَ؟! فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ أَحْمَقُ مِثْلُكَ فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ، فَيَصْنَعُ بِمِثْلِهِ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟ » قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟ » فَقُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا - وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ - أَرُونِي عَبِيرًا»، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتَيْهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ، وَلَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ قَالَ جَابِرٌ: «فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ». [1: 78]

عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں ان کی مسجد میں حاضر ہوئے۔ وہ اس وقت ایک کپڑے کو اشتمال کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہو ا ان کے اور قبلہ کے درمیان آکر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔ آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں حالانکہ آپ کی بڑی چادر آپ کے پہلو میں موجود ہے‘ تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میرے سینے پر مارا اور بولے: میں یہ چاہتا تھا‘ تم جیسا احمق آدمی میرے پاس آکر مجھے دیکھے‘ میں کیا کر رہا ہوں اور پھر وہ اس کی مانند عمل کرے۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ہماری اس مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے دست اقدس میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسجد کی قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ اس کی طرف گئے اور اسے چھڑی کے ذریعے کھرچ دیا‘ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم گھبرا گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے‘ تو وہ اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے اور اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے۔ اسے اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے اور اگر بلغم تیزی سے آرہا ہو‘ تو وہ اپنے کپڑے میں اس طرح کرے آپ نے اسے مل دیا تم لوگ مجھے کوئی خوشبو دو تو اس قبیلے کا ایک نوجوان تیزی سے اپنے گھر گیا‘ اور اپنی ہتھیلیوں میں کچھ خوشبو لے کر آیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے لیا اور اس چھڑی کے کنارے پر رکھا اور اس کے ذریعے بلغم کے نشان پر مل دیا۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: یہیں سے لوگوں نے مسجدوں میں خوشبو رکھنا شروع کی۔

عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عمرو بن زرارة الكلابي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2265

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2266

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ1 قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ2 عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى" 3 [4: 4]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو‘ تو وہ اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہ تھوکے وہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔‘‘

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Hadith 2266

chevron_left Previous
1…83848586
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr