صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2243
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَنْ جِئْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَ [مَا] 1 بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى الصَّلَاةَ قُلْتُ لَهُ إِنَّكَ كُنْتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ [مِنْ أَمْرِهِ] 1 مَا شَاءَ وَقَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ قَضَاءً أن لَّا تَکَلَّمُوْا فِی الصَّلَاۃِ ۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگ ( نماز کے دوران ) نبی اکرمﷺ کو سلام کرتے تھے‘ تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی نماز کے دوران ایسا ہوتا تھا‘ پھر جب ہم حبشہ کی سرزمین سے ( مدینہ منورہ) آئے تو میں نے نبی اکرمﷺ کو ( آپ کے نماز پڑھنے کے دوران ) سلام کیا‘ تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: پہلے تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے تو نبی اکرمﷺؑ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہےاور اس نے اس بارے میں نیا فیصلہ یہ دیا ہے‘ تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔‘‘
عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 2243
