صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2207
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى بِسَاطٍ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خلفنا1. [1: 33]
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں چٹائی پر نماز پڑھائی تھی۔ آپ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور سیّدہ ام سلیمؓ اور سیّدہ اُمّ حرامؓ ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے۔ کہ یہ اس نماز سے مختلف تھی۔ جس کا تذکرہ اسحاق بن ابو طلحہ نے حضرت انسؓ کے حوالے سے کیا کیونکہ اس نماز میں حضرت انسؓ اور یتیم لڑکا حضرےانسؓ کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کےپیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ جبکہ بوڑھی خاتون اکیلی ان حضرات کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی۔ اور ان لوگوں نے چٹائی پر نماز ادا کی تھی۔ جبکہ یہ نماز جس میں حضرت انسؓ نبی اکرمﷺ کے دائیں طرف کھڑے تھے۔ جبکہ سیّدہ ام سلیمؓ اور سیّدہ ام حرامؓ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی تھیں یہ نماز بچھونے پر ادا کی گئی تھی۔ تو یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مختلف موقعوں پر ادا کی جانے والی نمازیں تھیں یہ ایک ہی نماز کا واقعہ نہیں ہے۔
يَمِينِهِ، وَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خلفنا1. ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى بِسَاطٍ، فَأَقَامَنِي ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2207
