صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2195
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ». [1: 33] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ فِي فِعْلٍ مَعْلُومٍ وَيَكُونُ مُرْتَكِبُ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ مَأْثُومًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ عَالِمًا بِنَهْيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَالْفِعْلُ جَائِزٌ عَلَى مَا فَعَلَهُ كَنَهْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَسْتَامَ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، فَإِنْ خَطَبَ امْرُؤٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ بَعْدَ عِلْمِهِ بِالنَّهْيِ عَنْهُ كَانَ مَأْثُومًا، وَالنِّكَاحُ صَحِيحٌ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرَةَ: «زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ»، فَإِنْ عَادَ رَجُلٌ فِي هَذَا الْفِعْلِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ وَكَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ النَّهْيِ كَانَ مَأْثُومًا فِي ارْتِكَابِهِ الْمَنْهِيَّ، وَصَلَاتُهُ جَائِزَةٌ؛ وَلِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاحَ هَذَا الْقَدْرَ لِأَبِي بَكْرَةَ مُسْتثْنًى مِنْ جُمْلَةِ مَا نَهَاهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ وَابِصَةَ كَالْمُزَابَنَةِ وَالْعَرِيَّةِ وَلَوْ لَمْ تَجُزِ الصَّلَاةُ بِهَذَا الْوَصْفِ لِأَبِي بَكْرَةَ لَأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ، وَقَوْلُهُ: «وَلَا تَعُدْ» أَرَادَ بِهِ لَا تَعُدُ فِي [ص:571] إِبْطَاءِ الْمَجِيءِ إِلَى الصَّلَاةِ لَا أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَنْ لَا تَعُودَ بَعْدَ تَكْبِيرِكَ فِي اللُّحُوقِ بِالصَّفِّ
حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ مسجد میں داخل ہوئے‘ تو نبی اکرمﷺ اس وقت رکوع کی حالت میں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں صف سے پیچھے ہی رکوع میں چلا گیا( اور پھر صف میں آکر شامل ہوا ) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرےدوبارہ ایسا نہ کرنا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کے بارے میں نے کتاب اصول سنن میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرمﷺ بعض اوقات کسی متعین فعل کے حوالے سے کسی چیز سے منع کرتے ہیں۔ اور اس ممنوعہ فعل کا مرتکب شخص اس کے سرانجام دینے پر گناہگار شمار ہوتا ہے۔ جبکہ وہ شخص نبی اکرمﷺ کی ممانعت سے واقف ہو۔ لیکن آدمی کا کیا ہوا وہ فعل جائز ہوتا ہے۔ جس طرح نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا ‘ پیغام بھیج دے۔ یا اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگا دے۔ تو جو شخص نبی اکرمﷺ کی اس حوالے سے ممانعت کا علم ہونے کے باوجود اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیج دیتا ہے تو وہ گناہگار ہوتا ہے۔ لیکن( اس پیغام کے نتیجے میں کیا جانے والا) نکاح درست شمار ہوگا۔ اسی طرح نبی اکرمﷺ کا حضرت ابوبکرؓ سے یہ کہنا۔ ’’ اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے تو تم دوبارہ ایسا نہ کرنا‘‘ تو اگر کوئی شخص دوبارہ اس ممنوعہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ اس کی ممانعت سے واقف بھی ہو تووہ اس ممنوعہ فعل کے ارتکاب پر گناہگار شمار ہوگا۔ لیکن اس کی نماز جائز ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ نبی اکرمﷺ نے اتنی مقدار کو حضرت ابوبکرؓ کے لئے مباح قرار دیا تھا کہ یہ اس عمومی حکم سے مستشنٰی ہو جائے گا جو نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کیا تھا۔ جس کا ذکر حضرت وابصہؓ کی نقل کردہ روایت میں ہے۔ اس کی مثال مزابنہ اور عریہ کی مانند ہو جائے گی۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کے لئے اس صفت کے ہمراہ نماز ادا کرنا جائز نہ ہوتا۔ تو نبی اکرمﷺ ان کو نماز دہرانے کاحکم دیتے تاہم نبی اکرمﷺ کا یہ حکم ’’ تم دوبارہ ایسا نہ کرنا‘‘ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نماز کے لیے آتے ہوئے تم دوبارہ تیزی نہ دکھانا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ تم تکبیر کہنے کے بعد صف میں آکر شامل نہ ہونا۔
أَبُو حَاتِمٍ هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ ← فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "زادك الله حرصا ولا تعد" ← أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ رَاكِعٌ، ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2195
