صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2845
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ» «تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَهُ الشَّيْخُ». [1: 78]
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج ہو گرہن ہو گیا آپﷺ نےلوگوں کو نماز پڑھائی آپﷺ نے قیام کیا ‘ اور طویل قیام کیا ‘ پھر آپﷺ رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا ‘ پھر آپﷺ نے قیام کیا ‘ تو طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے رکوع کیا ‘ اور طویل رکوع کی لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی ‘ پھر آپﷺ نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا آپﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے یاجینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ‘ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اس کی کبریائی بیان کرو صدقہ و خیرات کرو ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے محمد کی امت ! اللہ کی قسم! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے ‘ جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے ۔ اے محمد کی امت! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ جان لو تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2845
