Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2833

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ قَالَ خَبَّرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أن الشمس والقمر لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ أَوْ يحدث الله أمرا" 1. [59:1]

حضرت ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاؒ ’’ بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم ان میں سے کسی کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ وہ روشن ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا فیصلہ دیدے‘‘۔

الله أمرا" ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← خَبَّرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2833

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2834

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّيهَا حَتَّى انْجَلَتْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ الله لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ ذٰلِکَ ، فَادْعُوْا حَتّٰی یَکْشِفَ مَا بِکُمْ

حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سورج گرہن ہو چکا تھا نبی اکرمﷺ گھبرا کر کھڑے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے آپ نے دو رکعات نماز ادا کی ابھی آپ نماز ادا کر ہی رہے تھے ‘ اسی دوران گرہن ختم ہو گیا۔ یہ گرہن نبی اکرمﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم ؓ کے انتقال کے موقع پر ہوتا تھا اس لئے کچھ لوگوں نے یہ کہا‘ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگوں ! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم انہیں ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو دعا مانگو یہاں تک کہ وہ گرہن ختم ہو جائے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ تم لوگ دعا مانگو ‘‘ اس سے آپ کی مرادیہ ہے کہ تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ عرب بعض اوقات نماز کے لئے لفظ دعا استعمال کر لیتے ہیں ۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2834

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2835

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَا النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَجْلَانًا اِلَی الْمَسْجِدِ فَجَرَ اِزَارَہُ ، اَوْ ثَوْبَہُ وَثَّابَ اِلَیْہِ نَاسٌ ، فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَتَیْنِ نَحْوَ مَا تُصَلُّونَ ، ثُمَّ جُلِّیَ عَنْھَا ، فَاَقْبَلَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَثَّابَ اِلَیْہِ النَّاسُ ، فَقَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ یُخَوِّفُ بِھِمَا عِبَادَہٗ ، وَاِنَّھُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَکَانَ ابْنُہُ تُوُفِّیَ ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ مِنْھَا شَیْئًا، فَصَلَّوْا حَتّٰی یَکْشِفَ مَا بِکُمْ

حضرت ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں :ہم نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھے سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ جلدی ک عالم میں مسجد کی اندر تشریف لے گئے آپ اپنے تہبند کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے ) آپ اپنے کپڑے کو گھسیٹ رہے تھے لو گ بھی آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ ن ان لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو سورج گرہن ختم ہو گیا۔نبی اکرمﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک سورج اور چاند گرہن اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں ‘ جب کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے یہ دونوں کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ( راوی کہتے ہیں ) نبی اکرمﷺ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تھا ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) جب تم ان میں سےکوئی چیز ( یعنی کسی کو گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضرت ابو بکرہ ؓ کا یہ کہنا کہ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں۔ جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو۔ اس سے ان کی مرادیہ ہے جس طرح تم لوگ نماز کسوف میں دو رکعات ادا کرتے ہو۔ جس میں چار رکوع اور چار سجدے ہوتے ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2835

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2836

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ [ص:78] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا، خَشِينَا أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ، وَرُكُوعٍ، وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے ہمیں یہ اندیشہ ہوا قیامت آنے والی ہے آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) ارشاد فرمایا: ’’ بے شک یہ نشانیاں ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے ‘ تاکہ ان کے زریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے ‘ تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اس سے دعا مانگنے اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2836

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2837

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كسوف الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاتِکُمْ

حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں دو رکعات ادا کی تھیں ‘ جو تمہاری نماز کی مانند تھیں۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضرت ابو بکرہؓ کا یہ کہنا کہ ’’ تمہاری نماز کی مانند دو رکعات ‘‘ اس سے ان کی مراد یہ ہے جس طرح تم لوگ نماز کسوف ادا کرتے ہو۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ صَلَّى فِي كسوف الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاتِکُمْ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2837

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2838

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْكَعَ ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَعَلَ يَتَضَرَّعُ وَيَبْكِي وَيَقُولُ: "رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ" فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجلت الشَّمْسُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: "إن الشمس والقمر آيتين مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا انْكَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ" ثُمَّ قَالَ: "لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتّٰی لَوْشِئْتُ لَتَعَاطَیْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفِھَا، وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ، حَتّٰی جَعَلْتُ اَتَّقِیھَا حَتّٰی خَشِیتُ اَنْ تَغْشَاکُمْ ، فَجَعَلْتُ اَقُوْلُ: اَلَمْ تَعِدْنِیْ اَنْ لَّا تُعَذِّبَھُمْ وَاَنَا فِیْھِمْ ، رَبِّ اَلَمْ تَعِذْنِیْ اَنْ لَّا تُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرِونَکَ ، قَالَ: فَرَاَیْتُ فِیْھَا الْحَمَیْرِیَۃَ السَّوْدَاءَ صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ کَانَتْ حَبَسَتْھَا ، فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَسْقِھَا ، وَلَمْ تَتْرُکْھَا تَاْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْاَرْضِ ، فَرَ اَیْتُھَا کُلَّمَا اَدْبَرَتْ نُھِشَتْ فِی النَّارِ ، وَرَاَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَ بَدَنَتَیْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَخَادَعْدَعٍ ، یُدْفَعُ فِی النَّارِ بَقَضِیبَیْنِ ذِی شُعْبَتَیْنِ ، وَرَاَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ ، فَرَاَیْتُہٗ فِی النَّارِ عَلٰی مَحْجَنِہٖ مُتَوَکِّئًا

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ رکوع میں جائیں گے ہی نہیں پھر آپ رکوع میں چلے گئے تو یوں محسوس ہوا ‘ آپ سر کو اٹھائیں گے ہی نہیں پھر آپ نے سر کو اٹھایا اور گریہ وزاری شروع کی اور رونا شروع کیا آپ یہ فرما رہے تھے ۔ ’’ اے میرے پروردگار کیا تم نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا ‘ تو ان لوگوں کو ا س وقت عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے‘‘۔ جب نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ تو سورج روشن ہو گیا نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: ’’ بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب یہ دونوں گرہن ہو جائیں ‘ تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ‘‘۔ پھر آپ ﷺ نےیہ ارشاد فرمایا : ’’ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو اس کا کوئی گچھا حاصل کر سکتا تھا اور میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی مجھے یہ اندیشہ ہوا ‘ کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ‘ تو میں نے یہ کہنا شروع کیا کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا ‘ تو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں اے میرے پروردگار ! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا ‘ تو انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے اس میں ایک سیاہ فام حمیری عورت کو دیکھا جو بلی کی مالک تھی اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی ‘ اس نے اسے چھوڑ ا بھی نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی ‘ تو میں نے اس عورت کو دیکھا ‘ وہ جب بھی آتی تھی اس کے چہرے کو نوچ لیا جاتا تھا میں نے جہنم میں ( وعدع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ) اس شخص کو بھی دیکھا جو اللہ کے رسول کی قربانی کے دو جانوروں کا نگران تھا اسے دو کناروں والی دو ڈنڈیوں کے ذریعے جہنم میں ڈالا جا رہا تھا میں نے لاٹھی والے شخص کو بھی دیکھا میں نے اسے دیکھا ‘ وہ اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← جَرِيرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2838

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بِحِمْصَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدَ وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بن عباس عن بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتَ الشَّمْسُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ في ركعتين وأربع سجدات1. [34:5]

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جس دن سورج گرہن ہوا اس دن نبی اکرمﷺ نے دو رکعات میں چار مرتبہ رکوع کیا ‘ اور چار مرتبہ سجدہ کیا۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدَ ← محمد بن عبيد الله بن الفضل، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2839

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2840

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا فَقَالَتْ أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ النَّاسَ لَيُفْتَنُونَ فِي الْقَبْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَائِذٌ بِاللَّهِ" قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ وَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا النِّسَاءُ وَأَقْبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً فَقَامَ يُصَلِّي فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ ، فَقَامَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْاَوْلِ ، ثُمَّ رَکَعَ دُونَ رُکُوْعِہٖ ، ثُمَّ سَجَدَ ،، ثُمَّ قَامَ الثَّانِیَۃَ ، وَصَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ اِلَّا اَنَّ رُکُوْعَہٗ دُوْنَ الرَّکْعَۃِ الْاُولٰی، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَلَمَُا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ: فِیمَا یَقُوْلُ: اِنَّ النَّاسَ یُفْتَنُونَ فِیْ قُبُورِھِمْ کَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَکُنَّا نَسْمَعُہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ بِتَعَوُّذٍ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور بولی اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے نجات عطا کرے حضرت عائشہ ؓ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی: کیا لوگوں کو قبر میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانتا ہوں ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرمﷺ باہر تشریف لے گئے اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو ہم لوگ حجرے کی طرف آئے خواتین ہمارے پاس اکٹھی ہوئیں نبی اکرمﷺ تشریف لائے یہ چاشت کےوقت کی بات ہے نبی اکرمﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی آپ ﷺ نے طویل قیام کیا ‘ پھر آپﷺ نے رکوع کیا : پھر آپﷺ نے سر کو اٹھایا ‘ پھر آپ ﷺ نے قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے رکوع کیا یہ پہلے والے رکوع کے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نےسجدہ کیا ‘ پھر آپﷺ دوسری رکعت ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور آپﷺ نے اسی طرح اسے ادا کیا البتہ آپ ﷺ کا رکوع پہلے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آ پﷺ سجدے میں چلے گئے اسی دوران سورج روشن ہو گیا جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کر لی ‘ تو آپ ﷺ منبر ﷺ پر تشریف فرما ہوئے آپﷺ نے خطبے کے دوران یہ بات بھی ارشاد فرمائی: ’’لوگ اپنی قبروں میں ایسی آزمائش میں مبتلا ہوں گے جو دجال کی آزمائش جیسی ہو گی‘‘۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی اکرمﷺ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2840

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2841

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَرَأَ بِسُورَةِ طَوِيلَةٍ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا رَكَعَ ثَانِيَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ أَيْضًا بِسُورَةٍ وَقَامَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ دُونَ الْأَوْلِ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَالَ: "مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ1 وهو الذي سيب السوائب" 2. [34:5]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا نبی اکرمﷺ نماز ادا کرنے کے کھڑے ہوئے آپﷺ نے طویل سورت کی تلاوت کی پھر آپﷺ نے اپنے قیام جتنا طویل رکوع کیا ‘ پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور دوسری سورۃ کی تلاوت شروع کر دی آپﷺ اسے پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپﷺ نے دوسری مرتبہ رکوع کیا آپﷺ نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے اس میں بھی ایک سورۃ کی تلاوت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کچھ کم تھی ‘ پھر آپﷺ رکوع میں چلے گئے لیکن آپﷺ کو یہ رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ سجدے میں چلے گئے ‘ جب آپﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو یہ بات ارشاد فرمائی: ’’ تم لوگوں سے جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ میں نے اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے اور میں نے یہ چاہا ‘ میں جنت کا ایک گچھا حاصل کرو ں یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے جہنم کو بھی دیکھا ‘ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو نگل رہا ہے یہ اس وقت ہوا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا میں نے ( جہنم میں ) عمرو بن لحئ کو بھی دیکھا یہ وہ شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور دینے کا آغاز کیا تھا ‘‘۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2841

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2842

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ سُنَّةِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ", ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِيَامِ الْأَوْلِ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ", ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِیلًا وَھُوَ اَدْنٰی مِنْ رُکُوْعِہٖ اَوْ اَطْوَالُ ، ثُمَّ کَبَرَ ، فَرَفَعَ رَاْسَہٗ ، ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ، ثّمَّ کَبَّرَ فَقَامَ ، فَقَرَاَ قِرَائَۃً طَوِیلَۃً ھِیَ اَدْنٰی مِنَ الْقِرْائَۃِ الْاُولٰی ، ثُمَّ کَبَّبَ ، فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیًلا ھُوَ اَدْنٰی مِنَ الرُّکُوْعِ الْاَوْلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ ، فَقَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ، ثُمَّ قَرَاقِرَائَۃً طَوِیَلَۃً ھِیَ اَدْنٰی مِنَ الْقِرَائَۃِ الْاُولٰی فِی الْقِیَامِ الثَّانِی، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیلًا دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْاَوْلِ ، ثُمَّ کَبَّرَ ، فَرَفَعَ رَاْسَہٗ، فَقاَلَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ، ثُمَّ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ اَدْنٰی مِنْ سُجُودِہِ الَْوْلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ ، ثمَّ تَشَھَدَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، وَقَامَ فِیھْمْ ، فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ ، وَلٰکِنَّھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ ، فَاِنْ خُسِفَ بِھِمَا اَوْ بِاَحَدٍ ھِمَا فَافْزَعُوْا اِلَی اللہِ وَالصَّلَۃِ قَالَ الزُّھْرِیُّ: فَقُلْتْ لِعُرْوَۃَ :وَاللہِ مَا صَنَعَ ھٰذَا اَخُوکَ عَبْدُ اللہِ حِیْنَ انْکَسَفِتِ الشَّمْسُ وَھُوَ بِالْمَدِینَۃِ ، وَمَا صَلّٰی اِلَّا رَکْعَتِیْنِ مِثْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، قَالَ: اَجَلْ ، کَذَلِکَ صَنَعَ ، وَاَخْطَاَ السُّنُّۃَ

عبد الرحمٰن بن نمر بیان کرتے ہیں : انہوں نے زہری سےنماز کسوف کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بتایا ‘ عروہ بن زبیر نے مجھے حضرت عائشہؓ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : سورج گرہن ہو گیا نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا ‘ اس نے یہ اعلان کیا باجماعت نماز ہونے لگی ہے لوگ اکٹھے ہو ئے نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی آپﷺ ن تکبیر کہی آپﷺ نے طویل قرأت کی پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا جو آپﷺ کے قیما جتنا تھا یا شاید اس سے کچھ زیادہ لمبا تھا آپﷺ نے سر کو اٹھایا نبی اکرمﷺ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر آپﷺ نے طویل قرآت کی لیکن یہ پہلے قیام سے کچھ کم تھی ‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلےوالے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے اپناسر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے آپﷺ نے طویل سجدے کئے لیکن یہ رکوع سے کچھ کم تھے یا شاید کچھ طویل تھے‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور سر اٹھایا ‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور اور کھڑے ہو گئے پھر آپﷺ نے قرأت کی اور طویل قرأت کی لیکن یہ پہلے والی قرأت سے کم تھی ‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپ ﷺ نے تکبیر اپنا سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا پھر آپﷺ نے طویل قرأت کی لیکن یہ دوسرے قیام کی پہلے قرأت سے کچھ کم تھی ‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی پھر سر کو اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا پھر آپﷺ نے سر کو اٹھایا ‘ پھر آپﷺ نے تکبیر کہی پھر آپﷺ نے سجدہ لیکن یہ پہلے والے سجدوں سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے سر کو اٹھایا ‘ پھر آپﷺ نے تشہد پڑھا پھر آپﷺ نے سلام پھیرا پھر آپﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ‘ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں اگر ان دونو ں کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے ‘ تو اللہ ( کے ذکر ) اور نماز کی طرف آؤ ‘۔ زہری کہتے ہیں میں نے عروہ سے کہا : اللہ کی قسم ! آپ کے بھائی حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے تو اس طرح نہیں کیا تھا جب وہ مدینہ منورہ میں تھے اور سورج گرہن ہوا تھا انہوں نے صرف دو رکعات ادا کی تھیں جو صبح کی نماز کی مانند ہوتی ہیں ‘ تو عروہ نے کہا : جی ہاں انہوں نے اسی طرح کیا تھا انہوں نے سنت کے برخلاف کیا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سُنَّةِ صَلَاةِ الْکُسُوفِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2842

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2843

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَامَ فِيهِنَّ دُونَ قِيَامِهِ الْاَوْلِ ، ثُمَّ رَکَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ، فَقَامَ دُوْنَ قِیَامِہِ الْاَوْلِ ، ثُمَّ رَکَعَ ثَلَاثَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ، فَقَامَ ، فَرَکَعَ ثَلَاثَ رَکَعَاتٍ قَامَ فِیْھِنَّ دُوْنَ قِیَامِہِ الْاَوْلِ ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ ، وَھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَات، اللہِ ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ کُسُوْفَھُمَا فَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیَ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی آپ ﷺ نے طویل قیام کیا ‘ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا‘پھر آ پﷺ نے سر اٹھایا ‘ پھر آپ ﷺ نے قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ رکوع میں چلے گئے پھر آپﷺ نے سر کو اٹھایا ‘ پھر آپ ﷺ نے قیام کیا جو پہلے والے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے رکوع کیا ‘ تو یہ تین رکوع ہو گئے پھر آپﷺ سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے اپنے سر کو اٹھایا ‘ پھر آپﷺ کھڑےہوئے پھر آپﷺ نے تین مرتبہ رکوع کیا آپﷺ نے ان کے درمیان جو قیام کیا تھا وہ پہلے والے قیام سے کم ہوتا تھا ‘ پھر آپﷺ سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے نماز مکمل کی تو اس دوران سورج روشن ہو چکا تھا آپﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے یاجینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ‘ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو تو نماز ادا کرتےرہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے‘‘۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2843

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2844

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ يَوْمَ مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ثم ركع نحوا مما قرأ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ أَضَاءَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیَ

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا یہ اس دن کی بات ہے ‘ جس دن حضرت ابراہیم ؓ (یعنی نبی اکرمﷺ کے صاحب زادے ) کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا: حضرت ابراہیم ؓ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپﷺ نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ہمراہ نماز پڑھائی پھر آپﷺ نے تکبیر کہی پھر آپﷺ نے قرأت کی‘ اور طویل قرأت کی پھر آپﷺ نے رکوع کیا جو ا تنا ہی لمبا تھا جتنا آپﷺ نے قیام کیا ‘ پھر آپﷺ نے سر کو اٹھایا اور قرأت شروع کر دی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی ‘ پھر آپﷺ نے رکوع کیا جو آپﷺ کی اس ( دوسری ) قرأت جتنا تھا ‘ پھر آپﷺ نے اپنے سر کو اٹھایا ‘ پھر قرأت کی جو دوسری قرأت سےکچھ کم تھی ‘ پھر آپﷺ نے تقریبًا اتنا ہی لمبا رکوع کیا ‘پھر آپﷺ نے اپنے سر کو اٹھایا‘ پھر دو مرتبہ سجدہ کیا پھر آپ نےکھڑے ہو کر نماز ادا کی جس میں تین مرتبہ رکوع کیا جو سجدے میں جانے سے پہلے تھا اس میں سے ہر ایک رکوع اپنے سے پہلے والے رکوع سے کم تھا البتہ آپ ﷺ کا رکوع آپ کے قیام جتنا ہوتا تھا ۔ پھر آپﷺ نماز کے دوران پیچھے بھی ہٹے آپﷺ کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں ‘ پھر آپﷺ آگے بڑھے آپﷺ کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں جب آپﷺ نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا ‘ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے یاجینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ‘ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو تو نماز ادا کرتےرہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے‘‘۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2844

chevron_left Previous
1…717273…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr