Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2763

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، وَعُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي النَّجْمِ، وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ» (1) . [5: 8]

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سورت نجم میں سجدہ تلاوت کیا آپ کے ہمراہ مسلمانوں ‘ مشرکین ‘ جنات اور انسانوں نے بھی سجدہ تلاوت کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، وَعُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2763

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2764

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَوَضَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ» ، وَقَالَ: يَكْفِينِي. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا» (1) . [5: 8]

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے سورۃ نجم کی تلاوت کی تو سجدہ تلاوت کیا۔ حاضرین میں سے ہر شخص نے سجدہ تلاوت کیا صرف ایک شخص نے نہیں کیا اس نے مٹھی میں کنکریاں لی اور اپنی پیشانی کے ساتھ لگایا اور بولا : میرے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔ حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : بعد میں ‘ میں نے اس شخص کو دیکھا ‘ وہ کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2764

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2765

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ (2) ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {ص} وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَنَشَّزَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَنَشَّزْتُمْ لِلسُّجُودِ» ، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا (1) . [5: 8]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سورۃ ص کی تلاوت کی آپ اس وقت منبر پر موجود تھے جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے پر تو منبر سے نیچے اترے ۔ آپ نےنے سجدہ تلاوت کیا آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی سجدہ کیا جب اگلا د ن آیا تو آپ نے قرأت کی سجدہ تلاوت کے مقام پر پہنچے ‘ تو لوگ سجدہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ ایک نبی کی توبہ کا واقعہ ہے ‘ لیکن میں دیکھ رہاں ہوں تم لوگ سجدہ کرنے کے لے تیار ہر پھر آپ نے منبر سے نیچے اترے آپ نے سجدہ کیا ‘ اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2765

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2766

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ الْعَبَّاسِ: سَجْدَةُ (ص) مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهَا؟ قَالَ: فَتَلَا عَلَيَّ: {وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدُ وَسُلَيْمَانُ وَأَيُّوبُ} حَتَّى بَلَغَ إِلَى قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمِ اقْتَدِهْ} [الأنعام: 84-90] . قَالَ: «كَانَ دَاوُدُ سَجَدَ فِيهَا، فَلِذَلِكَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (1) . [5: 8]

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے دریافت کیا۔ سورہ ص میں سجدہ تلاوت موجود ہونے کا حکم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے ‘ تو انہوں نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ’’ اس کی ذریت میں مسلمان داؤد ’ سلیمان اور ایوب ہیں ‘‘۔ یہ آیت انہوں نے یہاں تک تلاوت کی: ’’ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ نےہدایت عطا کی تو تم ا ن کی ہدایت کی پیروی کرو ‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ نےبتایا : حضرت داؤد ؑ نے اس جگہ پر سجدہ کیا تھا اسی وجہ سے نبی اکرمﷺ نے بھی ( اس آیت پر سجدہ کیا )

«كَانَ دَاوُدُ سَجَدَ فِيهَا، فَلِذَلِكَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ← فَتَلَا عَلَيَّ: حَتَّى بَلَغَ إِلَى قَوْلِهِ: ← قُلْتُ لِابْنِ الْعَبَّاسِ: سَجْدَةُ (ص) مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهَا؟ ← مُجَاهِدٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، والْأَشَجُّ: ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2766

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} ، وَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} » (1) . [5: 8]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ہم نے سورۃ انشقاق اور سورہ علق میں نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں سجدہ تلاوت کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2767

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2768

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ [ص:474] الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ، حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَرَأَيْتُ كَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً فَرَأَيْتُ الشَّجَرَةَ كَأَنَّهَا تَسْجُدُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ سَاجِدَةٌ وَهِيَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ الرَّجُلُ عَنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ»

حسن بن محمد کہتے ہیں ابن جریر نے مجھ سے کہا : اے حسن! تمہارے دادا عبید اللہ بن بویزید نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے درخت کو دیکھا ‘ وہ بھی میرے سجدے کی طرح سجدہ کر رہا ہے میں نے اسے سجدے کی حالت میں یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اے اللہ ! تو اس کے عوض میں اپنی بارگاہ میں میرے لئے اجر نوٹ کر لے اور اسے اپنی بارگاہ میں ذخیرہ کے طور پر رکھ دے اور اس کی وجہ سے میرے گناہ کو ختم کر دے اور اسے میری طرف سے اسی طرف قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے حضرت داؤد ؑ سے قبو ل کیا تھا ‘‘۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا آپ نے آیت سجدہ تلاوت کی تو میں نے آپ کو سجدے کی حالت میں وہی کلمات پڑھتے ہوئے سنا جو اس شخص نے درخت کے کلام کے حوالے سے بیان کئے تھے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ← لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ، ← حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ [ص:474] الصَّبَّاحِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2768

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ · حديث 2769

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ» (2) . [5: 30]

حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکے سامنے سورۃ نجم کی تلاوت کی لیکن آپ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔

عَلَى النَّبِيِّ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ» ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← ابْنِ قُسَيْطٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prostration of the Talaw · Hadith 2769

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2770

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ تَفْزَعُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إلا هذين الثقلين الجن والإنس" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی ارکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ سورج ایسے کسی دن پر طلوع نہیں ہوتا اور غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ رہتا ہے صرف یہ دو گروہ جن اور انسان ( خوف زدہ نہیں ہوتے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2770

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ. أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "خَمْسٌ مَنْ عَمِلَهُنَّ فِي يَوْمٍ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا، وَشَهِدَ جَنَازَةً، وَصَامَ يوما، وراح يوم الجمعة، وأعتق رقبة" 1. [2:1]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ ’’ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو شخص ایک ہی دن میں اس پر عمل کر لے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں نوٹ کر لیتا ہے ‘ جو شخص بیمار کی عیادت کرے۔ جنازے میں شریک ہو ایک دن کا روزہ رکھے جمعہ کے لئے جائے اور غلام کو آزاد کرے‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيَّ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2771

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2772

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ 1 يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى المسجد الحرام وإلى مسجدي هذا، وَاِلٰی مَسْجِدِ اِیلِیَاءَ ، اَوْ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ شَکَّ اَیُّھُمَا

حضرت ابو ہریرہ ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں۔ میں کوہ طور کی زیارت کے لئے روانہ ہوا میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھے تورات کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں میں نے انہیں نبی اکرمﷺ کی حدیثوں کے بارے میں بتایا میں نے انہیں جو احادیث بیان کی تھیں ان میں یہ بات بھی بیان کی ‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے جمعہ کے دن حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا گیا اسی دن میں انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن قیامت قائم ہو گی ہر جانور جمعہ کے دن ( گھبراہٹ کی وجہ سے ) چیختا ہے اس وقت جب صبح (صادق) ہوتی ہ یہاں تک کہ جب سورج نکل آئے ‘ ( تو چیخنا بند کر دیتا ہے) وہ ایسا قیامت کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے ‘ جس میں اگر مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا ‘‘۔ اس پر کعب الاحبار نے کہا : یہ خصوصیات پورے سال میں صرف کسی ایک دن میں ہوتی ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ! بلکہ ہر جمعے میں ہوتی ہے ‘ پھر کعب نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیا ن کی ‘ اللہ تعالیٰ کے رسول نے سچ کہا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2772

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ 1 يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى المسجد الحرام وإلى مسجدي هذا، وَاِلٰی مَسْجِدِ اِیلِیَاءَ ، اَوْ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ شَکَّ اَیُّھُمَا

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات حضرت بصرہ بن ابو بصرہ غفاری ؓ سے ہوئی ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کہا ں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا : کوہِ طور سے۔ انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو ( تمہیں بتاتا ) ‘ تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مسجد بیت المقدس ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2772

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ 1 يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى المسجد الحرام وإلى مسجدي هذا، وَاِلٰی مَسْجِدِ اِیلِیَاءَ ، اَوْ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ شَکَّ اَیُّھُمَا

راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ بات بیان کی ہے ‘ پھر میری ملاقات حضرت عبد اللہ بن سلامؓ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا ‘ اور جمعہ کے د ن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا ہے ‘ یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے کہا: کعب نے غلط کہا ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی ‘ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے ‘ تو عبد اللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے ‘ پھر عبد اللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں‘ وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا : میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ‘ تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو‘‘۔ تو اس گھڑی میں ‘ تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ نے فرمایا: کیا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ۔ ’’ جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے ‘‘۔ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: جی ہاں ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے فرمایا : یہ وہی ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2772

chevron_left Previous
1…636465…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr