Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ سَفَرِ الْمَرْاَۃِ · حديث 2732

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُسَافِرُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ» (1) . [4: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: کسی عورت کے لئے سفر پر جانا جائز نہیں ہے البتہ اگر محرم ساتھ ہو (تو جائز ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter on Mari travel · Hadith 2732

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ سَفَرِ الْمَرْاَۃِ · حديث 2733

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُخْبِرَتْ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» قَالَتْ عَمْرَةُ: فَالْتَفَتَتْ عَائِشَةُ إِلَى بَعْضِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: «مَا لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ» (2) . [4: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «لَمْ تَكُنْ عَائِشَةُ بِالْمُتَّهِمَةِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي الرِّوَايَةِ، لِأَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ عُدُولٌ ثِقَاتٌ، وَإِنَّمَا أَرَادَتْ عَائِشَةُ بِقَوْلِ: مَا لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ، تُرِيدُ أَنْ لَيْسَ لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ تُسَافِرُ مَعَهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُسَافِرْ وَاحِدَةٌ مِنْكُنَّ إِلَّا بِذِي مَحْرَمٍ يَكُونُ مَعَهَا» (1) .

سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پتہ چلی حضرت ابو سعید خدریؓ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرمﷺ نے خاتون کو اس بات سے منع کیا ہے وہ سفر پر جائے البتہ اگر اس کے ہمراہ اس کا محرم ہو (تو جائز ہے) عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں:سیدہ عائشہ ؓ نے بعض خواتین کی طرف توجہ کی اور فرمایا کیا تم سب کے ہمراہ محرم نہیں ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) سیدہ عائشہ ؓ نے اس روایت کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری ؓ پر الزام عائد نہیں کیا۔ کیونکہ نبی اکرمﷺ کے تمام صحابہ ب عادل اور ثقہ ہیں۔ سیدہ عائشہ ؓ کے اس قول کیا تم میں سے ہر ایک کے ساتھ محرم نہیں ہے اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ محرم نہیں ہوتا کہ تم اس کے ساتھ سفر کر سکو۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اور تم میں سے کوئی بھی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔

«مَا لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ» ← عَمْرَةُ: فَالْتَفَتَتْ عَائِشَةُ إِلَى بَعْضِ النِّسَاءِ ← "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ الْمَرْأَةَ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ" ← اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter on Mari travel · Hadith 2733

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ سَفَرِ الْمَرْاَۃِ · حديث 2734

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَائِشَةَ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُسَافِرُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ» قَالَتْ عَمْرَةُ: فَالْتَفَتَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: «مَا كُلُّهُنَّ لَهَا ذُو مَحْرَمٍ» (2) . [4: 12]

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں: وہ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس موجود تھیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے یہ کہا حضرت ابو سعید خدری ؓ نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: کسی بھی عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سفر کرنا جائز نہیں ہے البتہ اگر اس کا محرم ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔ عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے ہماری طرف توجہ کی اور دریافت کیا: کیا ان سب کے ہمراہ محرم نہیں ہیں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter on Mari travel · Hadith 2734

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2735

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ، وَلَا نَجْدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: «ابْنَ أَخِي (1) ، إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ» (2) . [4: 4] بِهِ، فَالْفِعْلَانِ جَمِيعًا مُبَاحَانِ مِنَ اللَّهِ، أَحَدُهُمَا إِبَاحَةٌ فِي كِتَابِهِ، وَالْآخَرُ إِبَاحَةٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

امیہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: ہم حضر کی نماز اور نماز خوف کا ذکرکر پاتے ہیں لیکن ہمیں قرآن میں سفر کی نماز کا ذکرنہیں ملتا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے ان سے فرمایا: اے میرے بھتیجے بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ہماری طرف مبعوث کیا ہمیں کسی بھی چیز کاعلم نہیں تھا ہم ویسا ہی کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے خوف کی موجود گی میں نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔جس کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اس نے فرمایا ہے۔ تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر تم نماز کو قصر کر دیتے ہو۔ جب تم خوف کے عالم میں ہو۔ (اور خوف یہ ہو) کہ کافر لوگ تم کو آزمائش کا شکار کردیں گے۔ جبکہ نبی اکرمﷺ نے سفر کے دوران نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ اس وقت جب امن کی صورت حال در پیش ہو۔ آپ نے کسی شرط کے بغیر ایسا کیا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے نماز کو قصر کرنے کے لیے شرط قرار دیا تھا۔ تو یہ دونوں فعل اللہ کی طرف سے مباح ہیں۔ جن میں سے ایک کی اباحت کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اور دوسری کی اباحت کا ذکر اس کے رسول کی زبانی ذکر ہوا ہے۔

نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ، وَلَا نَجْدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ، ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: ← أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in prayer prayer · Hadith 2735

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي الْحَضَرِ» (1) . [1: 21]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: پہلے نماز حضر اور سفر دونوں حالتوں میں دو دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز کو اپنی حالت میں قرار رکھا گیا اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in prayer prayer · Hadith 2736

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2737

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ، وَأُقِرَّتْ فِي السَّفَرِ» (1) . [1: 21]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب نماز فرض ہوئی تھی تو حضر اور سفر کے دوران دو دو رکعت ہی فرض ہوئی تھی پھر حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور سفر کی نماز کو اس کی اسی حالت میں بر قرار رکھا گیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in prayer prayer · Hadith 2737

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2129

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ وَلِصَاحِبٍ لَہٗ:اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَاَذِّنَا ثُمَّ اَقِیمَا، ثُمَّ لِیَؤُ مَّکُمَا اَکْبَرُ کُمَا۔ قَالَخَالِدٌ: فَقُلْتُ لِاَ بِیْ قَلَابَۃَ: فَاَیْنَ الْقِرَائَۃَ؟ قَالَ: اِنَّھُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔(14:1)

حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان سے اور ان کے ساتھی فرمایا جب نماز کا وقت ہو، تو تم دونوں اذان دو اور تم دونوں اقامت کہوپھر تم دونوں میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔ خالد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ابو قلابہ نامی راوی سے دریافت کیا: قرأت کا حکم کہاں گیا تو اس نے جواب دا: وہ دونوں اس حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے تھے۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2129

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2130

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِیُّ، مُنْذُ ثَمَانِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: حَدّ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِی وَلِصَاحِبٍ لِی: اِذَا خَرَجْتُمَا فَلْیُؤَذِّنْ اَحَدَکُمَا وَلْیَقُمْ وَلْیَؤُ مَّکُمَا اَکْبَرُ کُمَا۔ (14:1)

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھ سے اور میرے ساتھی سے فرمایا: جب تم روانہ ہو جاؤ تو تم دونوں میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور وہ اقامت کہے اور تم دونوں میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← حَدَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِیُّ، مُنْذُ ثَمَانِیْنَ سَنَۃً، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2130

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2131

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: اِتِیْنَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتَقَارِبُوْنَ فَاَقَمْنَا عِنْدَہٗ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً فَظَنَّ اَنَّا اشْتَقْنَا اِلٰی اَھْلِیْنَا شَاَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ اَھْلِنَا فَاَخْبَرْنَاہُ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَحِیْمًا رَفِیقًا فَقَالَ: ارْجِعُوْا اِلٰی اَھْلِیْکُمْ فَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ وَصَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ اَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ اَکْبَرُ کُمْ

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے ۔ ہم نے آپ کے پاس بیس دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندازہ ہوگیا، ہمارے لئے ہمارے گھر والوں سے علیحدگی دشواری کا باعث ہورہی ہے، تو آپ نے ہم سے اس بارے میں دریافت کیا: ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہیں۔ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرمﷺ بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جاؤ ۔ انہیں تعلیم دو انہیں حکم دو اور تم اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جب نماز کا وقت آجائے ، تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ رَحِیْمًا رَفِیقًا ← اشْتَقْنَا اِلٰی اَھْلِیْنَا شَاَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ اَھْلِنَا ← أَتَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2131

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2132

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْھَالِ الضَّرِیْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، وَھِشَامٌ ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فِیْ سَفَرٍ فَلْیَؤُمَّکُمْ اَحَدُکُمْ وَاَحَقَّکُمْ بِالْاِمَامَۃِ قَرَؤُکُمْ۔ (14:1)

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب تم تین آدمی سفر کر رہے ہو، توتم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے اور تم میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا، جو زیادہ تلاوت جانتا ہو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← شُعْبَۃُ، وَھِشَامٌ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2132

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2133

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ اَوْسِ بْن ضَمْعَجٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللہِ، فَاِنْ کَانُوا فِی الْقِرَائَۃِ سَوَاءً فَاَعْلَمُھُمْ بَالسُّنَّۃِ، فَاِنْ کَانُوا فِی السُّنَّۃِ سَوَاءً فَاَقْدَمُھُمْ ھِجْرَۃً، فَاِنْ کَانُوا فِی الْھِجْرَۃِ سَوَاءً فَاَقْدَمُھُمْ سِنًّا وَلَا یَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِیْ سُلْطَانِہٖ وَلَایَقْعُدُ عَلٰی تَکْرِ مَتِہٖ اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔ (10: 3)

حضرت ابو مسعود ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ سنت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہوں تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی سر براہی کی جگہ پر اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے۔ البتہ اس کی اجازت ہو، تو حکم مختلف ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2133

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2134

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِیْبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائشَۃَ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ اُمِّ مَکْتُومٍ عَلَی الْمَدِینَۃِ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ (10:5)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کیا تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2134

chevron_left Previous
1…596061…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr