Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2090

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامٌ الدَّسْتُوَائِیُّ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْمُنْتِنَۃِ فَلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَاَذَّی مِمَّا یَتَاَذَّی مِنْہُ النَّسُ ۔ (6:1)

حضرت جابر ؓروایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص اس بودار درخت( کا پھل )کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت محسوس ہوتی ہے‘ جس سے انسانوں کو اذیت محسوس ہوتی ہے۔‘‘

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2090

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2091

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ النُّکْرِیُّ ھُوَ الدَّوْرَقِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَانَۃُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: رَاَیْتُ کَاَنَّ دِیکًا اَحْمَرَ نَقَرَنِیْ نَقْرَۃً اَوْ نَقْرَتَیْنِ، وَلَا اَرٰی ذٰلِکَ اِلَّا لِحُضُوْرِ اَجَلِی، فَاِنْ عَجِلَ بِیْ اَمْرٌ، فَاِنَّ الشُّورٰی اِلٰی ھٰؤُلَاءِ الرَّھْطِ السِّتَّۃِ الَّذِیْنَ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَھُوَ عَنْھُمْ رَاضٍ، وَاِنِّیْ اَعْلَمُ اَنَّ نَاسًا سَیَطْعَنُونَ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ، اَنَا قَاتَلْتُھُمْ بِیَدِی ھٰذِہِ عَلَی الْاِسْلَامِ، فَاِنْ فَعَلُوا، فَاُولٰئِکَ اَعْدَاءُ اللہِ، الْکُفَّارُ الضُّلَّالُ، وَاِنِّیْ اَشْھَدُ عَلٰی اُمَرَاءِ الْاَمْصَارِ، فَاِنِّیْ اِنَّمَابَعَثْتُھُمْ لِیُعَلِّمُوا النَّاسَ دِینَھُمْ وَسُنَّۃَ نَبِیِّھِمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَقْسِمُوْا فِیْھِمْ فَیْاَھُمْ، وَمَا اَغْلَظَ لِی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَیْءٍ اَوْ مَا نَازَلْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَیْءٍ مِثْلَ آیَۃِ الْکَلَالَۃِ حَتّٰی ضَرَبَ صَدْرِی وَقَالَ: یَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِیْ اُنْزِلَتْ فِیْ آخِرِ سُورَۃِ النِّسَاءِ (یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ) (النساء: 176) وَسَاَقْضِیْ فِیْھَا بِقَضَاءٍ یَعْلَمُہُ مَنْ یَّقْرَاُ (وَمَنْ لَّا یَقْرَاُ) ھُوَ مَا خَلَا الْاَبِ( وَکَذَا اَحْسَبُ) اَلَا اِنَّکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ تَاْکُلُوْنَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا اَرَاھُمَا اِلَّا خَبِیثَتَیْنِ الْبَصَلِ وَالثُّومِ، وَاِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَامُرُ بِالرَّجُلِ یُوجَدُ مِنْہُ رِیحُھَا فَیَخْرُجُ اِلَی الْبَقِیعِ، فَمَنْ کَانَ لَا بُدَّ آکِلَھُمَا فَلْیُمِتْھُمَا طَبْخًا۔ (6:1)

معدان بن ابوطلحہ یعمری بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطابؓ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے‘ ایک سرخ رنگ کا مرغ ہے‘ جس نے مجھے ایک مرتبہ یا شاید دو مرتبہ ٹھونگا مارا ہے۔ میرا خیال ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے میری موت کا وقت قریب آگیا ہے اگر میں جلد انتقال کر گیا تو شوریٰ کا معاملہ ان چھ افراد کے سپرد ہو گا‘ جب نبی اکرمﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے‘ تو آپ ان حضرات سے راضی تھے اور مجھے اس بات کا علم ہے کچھ لوگ اس حوالے سے پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں اپنے ہاتھ کے ذریعے اسلام پر ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں گا۔ اگر وہ پھر بھی ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن ہیں۔ وہ کفار اور گمراہ لوگ ہیں اور میں مختلف علاقوں کے گورنروں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں‘ میں نے ان کو اس لیےبھجوایا تھا تاکہ وہ لوگوں کی دین کی تعلیم دیں اور ان کے نبی کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کا مال ان کے درمیان تقسیم کریں اور نبی اکرمﷺ نے کسی بھی چیز کے بارے میں اتنی زیادہ تاکید نہیں کی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: )میں نے نبی اکرمﷺ سے کسی بھی معاملے میں اتنے زیادہ اہتمام کے ساتھ دریافت نہیں کیا جتنا کلالہ سے متعلق آیت کے بارے میں دریافت کیا: یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور ارشاد فرمایا: تمہارے لئے گرمی میں نازل ہونے والی ہو آیت کافی ہے‘ جو سورہ النساء کے آخر میں نازل ہوئی تھی۔ ’’ لوگ تم سے دریافت کرتے ہیں: تم فرما دو‘ اللہ تعالیٰ کلالہ کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے۔‘‘ ( حضرت عمرؓ نے فرمایا) عنقریب میں اس بارے میں ایسا فیصلہ دوں گا‘ جسے وہ شخص جان لے گا‘ جو پڑھ سکتا ہے اور جو نہیں پڑھ سکتا اور ہو (فیصلہ) باپ کے علاوہ (کےلیے) ہوگا۔ اسی طرح میں یہ گمان کرتا ہوں۔ خبردار اے لوگو! تم لوگ ان دو درختوں (کا پھل) کھاتے ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں‘ یہ دونوں خبیث ہیں پیاز اور لہسن اگر نبی اکرمﷺ کو کسی شخص سے اس کی بو محسوس ہوتی تھی‘ تو اس شخص کو بقیع کی طرف بھیج دیا جاتا تھا جس شخص نے ان دونوں کو ضرور کھانا ہو وہ انہی کو پکا کر اس کی بو کو ختم کر دے۔

خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شَبَانَةَ بْنِ سَوَّارٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ النُّکْرِیُّ ھُوَ الدَّوْرَقِیُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2091

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2092

اَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ: قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ سُفْیَانَ بْنَ وَھْبٍ، حَدَّثَہُ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْسَلَ اِلَیْہِ بِطَعَامٍ مَعَ خُضَرٍ فِیْہِ بَصَلٌ اَوْ کُرَّاتٌ، فَلَمْ یَرَفِیْہِ اَثَرَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَبَی اَنْ یَّاکُلَہٗ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَامَنَعَکَ اَنْ تَاکُلَ؟ قَالَ: لَمْ اَرْ اَثَرَکَ فَیْہِ یَا رَسُوْلَ اللہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَسْتَحْیِی مِنْ مَلَائِکَۃِ اللہِ وَلَیْسَ بِمُحَرَّمٍ۔ (6:1)

حضرت ابوایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ان کی طرف کچھ کھانا واپس بھیجا جس میں کچھ سبزیاں تھیں جس میں پیاز اور گندنا بھی تھا۔ حضرت ابو ایوبؓ نے نبی اکرمﷺ کے کھانے میں سے (اس کو) کھانے کا نشان نہیں دیکھا تو انہوں نے خود اس کو کھانے سے انکار کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: تم اس کو کیوں نہیں کھاتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! مجھے اس میں آپ کے کھانے کا نشان نظر نہیں آیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اللہ کے فرشتوں سے حیا آتی ہے۔ ویسے یہ حرام نہیں ہے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ سُفْیَانَ بْنَ وَھْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2092

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2093

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ قُدَامَۃَ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ یَزِیدَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اُمِّ اَیُّوْبَ، قَالَتْ: نَزَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَکَلَّفْنَا لَہٗ طَعَامًا فِیْہِ بَعْضُ الْبُقُوْلِ، فَقَالَ لِاَصْحَابِہٖ: کُلُوْا فَاِنِّیْ لَسْتُ کَاَحَدٍ مِنْکُمْ اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ اُوذِیَ صَاحِبِیْ۔ (6:1)

سیدّہ ام ایوبؓ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے ہم نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا جس میں یہ سبزیاں بھی تھیں‘ تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے یہ اندیشہ ہے‘( اسے کھا کر ) میں اپنے ساتھی ( فرشتے ) کو اذیت پہنچاؤں گا۔

نَزَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ فَتَکَلَّفْنَا لَہٗ طَعَامًا فِیْہِ بَعْضُ الْبُقُوْلِ، ← أُمِّ أَيُّوبَ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2093

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2094

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخَبَرَنَا النَّصْرُ بْنُ شُمَیْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُتِیَ بَقَصْعَۃٍ مِنْ ثَرِیْدٍ فِیْھَا ثُومٌ، فَلَمَ یَاْ کُلْ مِنْھَا وَاَرْسَلَ اِلٰی اَبِیْ اَیُّوْبَ وَکَانَ اَبُوْ اَیُّوْبَ یَضَعُ یَدَہٗ حَیْثُ یَرٰی یَدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَضَعَ یَدَہٗ، فَلَمَّا لَمْ یَرَاَثَرَ یَدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَاْکُلْ، فَاَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَہٗ: اِنِّیْ لَمْ اَرَ اَثَرَ یَدِکَ فِیْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فِیْھَا رِیحُ الثُّومِ وَمَعِی مَلَکٌ۔ (6:1)

حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ثرید کا پیالہ لایا گیا جس میں لہسن بھی تھا تو نبی اکرمﷺ نے اس کو نہیں کھایا۔ آپ نے اس کو حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی طرف بھجوا دیا۔ حضرت ابو ایوبؓ اپنا ہاتھ اس جگہ رکھتے تھے‘ جہاں انہیں یہ نظر آتا تھا‘ یہاں نبی اکرمﷺ کے دست مبارک کا نشان ہے‘ جب انہوں نے نبی اکرمﷺ کے دست مبارک کا نشان نہیں دیکھا تو انہوں نے بھی اسے نہیں کھایا پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی: میں نے آپ کے دست مبارک کا نشان اس میں نہیں دیکھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس میں لہسن کی بو تھی اور میرے ساتھ فرشتہ ہوتا ہے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّصْرُ بْنُ شُمَیْلٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2094

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2095

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِی شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلَالٍ الْعَدَوِیِّ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، قَالَ: اَکَلْتُ ثُومًا ثُمَّ اَتَیْتُ مُصَلَّی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُہٗ قَدْ سَبَقَنِیْ بِرَکْعَۃٍ، فَلَمَّا قُمْتُ اَقْضِی وَجَدَ رِیحَ الثُّومِ فَقَالَ: مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الْبَقْلَۃِ، فَلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتّٰی یَذْھَبَ رِیحُھَا قَالَ الْمُغِیْرَۃُ: فَلَمَّا قَضَیْتُ الصَّلَاۃَ اَتَیْتُہٗ فَقُلْتَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ، اِنَّ لِی عُذْرًا فَنَاوِلْنِیْ یَدَکَ فَنَاوَلَنِی فَوَجَدْتُہٗ وَاللہِ سَھْلًا فَاَدْخَلْتُھَا فِیْ کُمِّی اِلٰی صَدْرِی فَوَجَدَہٗ مَعْصُوبًا، فَقَالَ: اِنَّ لَکَ عُذْرًا۔ (6:1)

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے لہسن کھایا پھر میں نبی اکرمﷺ کی جائے نماز پر آیا‘ تو میں نے آپ کو پایا‘ آپ ایک رکعت ادا کر چکے ہیں جب میں باقی رہ جانے والی ایک رکعت ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا‘ تو آپ کو لہسن کی بو محسوس ہوئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس سبزی کو کھاتا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے جب تک اس سبزی کی بو ختم نہیں ہو جاتی۔ حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں: جب میں نے نماز مکمل کی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میری طرف سے معذرت قبول کیجئے اور اپنا دست مبارک میری طرف بڑھائیں۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو اللہ کی قسم! میں نے اسے نرم پایا۔ میں نے اسے اپنی آستین میں سے سینے تک داخل کیا‘ تو آپ کو اس میں پٹی بندھی ہوئی محسوس ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا عذر( قابل قبول ہے )

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← وَكِيعٌ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2095

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2096

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ، اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ، لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ فَاُحَرَّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوتَھُمْ، وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ، لَوْ یَعْلَمُ اَحَدُھُمْ اَنَّہٗ یَجِدُ عَظْمًا سَمِیْنًا اَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَاءَ۔ (34:3)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں نے یہ ارادہ کیا‘ میں لکڑیوں کے بارے میں حکم دوں انہیں اکٹھا کیا جائے پھر میں نماز کے لئے حکم دوں۔ اس کے لئے اذان دی جائے پھر میں کسی شخص کو یہ حکم دوں‘ وہ لوگوں کی امامت کرے اور پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں اور انہیں ان کے گھر سمیت آگ لگا دوں ( جو باجماعت نماز شریک نہیں ہوئے) اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی ایک کو یہ پتہ چل جائے‘ اسے ایک گوشت والی ہڈی ملے گی یا دوا اچھے پائے ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور شریک ہو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2096

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2687

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ (2) ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ، قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ مِنْ خُزَاعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: «كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» وَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ تُصَلِّ بِنَا إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ. (1) . [5: 17]

ضمضم بن جوس ہفانی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ نے مجھے بتایا نبی اکرمﷺ نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی ۔ آپ نے ہمیں صرف دو رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیردیا) ایک صاحب نے جن کا نام ذوالیدین تھا جن کا تعلق خزاعہ قبیلے سے تھا انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا نماز مختصر ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔نبی اکرمﷺنے فرمایا: دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائی ہیں نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے۔ آپ حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے ہمیں صرف دو رکعات پڑھائی ہیں۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور آپ نے باقی رہ جانے والی دو رکعات ادا کی پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔

ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2687

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2688

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ - إِمَّا قَالَ: الظُّهْرَ، وَإِمَّا قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ - فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَتَقَدَّمَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَهَابَا أَنْ يَسْأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: «مَا قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، وَلَا نَسِيتُ» ، قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَكَذَلِكَ؟» قَالُوا: إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} [الأنفال: 24] ، فَأَمَّا الْيَوْمَ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، وَأُقِرَّتِ الْفَرَائِضُ، فَإِنْ تَكَلَّمَ الْإِمَامُ وَعِنْدَهُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ تَمَّتْ بَعْدَ السَّلَامِ لَمْ تَبْطُلْ صَلَاتُهُ، وَإِنْ سَأَلَ الْمَأْمُومِينَ فَأَجَابُوهُ بَطَلَتْ صَلَاتُهُمْ، وَإِنْ سَأَلَ بَعْضَ الْمَأْمُومِينَ الْإِمَامَ عَنْ ذَلِكَ، بَطَلَتْ صَلَاتُهُ لِاسْتِحْكَامِ الْفَرَائِضِ، وَانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، وَالْعِلَّةُ فِي سَهْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُعَلِّمًا قَوْلًا وَفِعْلًا، فَكَانَتِ الْحَالُ تَطْرَأُ عَلَيْهِ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ، وَالْقَصْدُ فِيهِ إِعْلَامُ الْأُمَّةِ مَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ عِنْدَ حُدُوثِ تِلْكَ الْحَالَةِ بِهِمْ بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو پہر کی ایک نماز پڑھائی (راوی کہتے ہیں) شاید انہوں نے ظہر کی نماز کا ذکر کیا تھا یا عصر کا ذکر کیا تھا۔ لیکن میرا غالب گمان یہ ہے وہ عصر کی نماز تھی۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اس کے بعد سلام پھیردیا۔ پھر آپ مسجد میں آگے کی طرف رکھی ہوئی لکڑی کی طرف بڑھ گئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیئے ان میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد سے ) باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہوگئی ہے۔ حاضرین میں حضرت ابوبکر ؓ اور حضر ت عمرؓ بھی موجود تھے لیکن انہیں اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے گزارش کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ایک صاحب جن کا نام ذوالیدین تھا انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا نماز مختصر ہوگئی ہےیا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ شاید آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا اسی طرح ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ واپس آئے آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کیا جو آپ کے عام سجدوں جتنا طویل تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا پھر آپ نے دوسری مرتبہ سجدہ کی آپ نے عام سجدوں جتنا طویل سجدہ کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا۔ محمد بن سیرین نامی راوی سے دردیافت کیا گیا: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:پھر آپ نے سلام پھیردیا تو انہوں نے بتایا: حضرت ابوہریرہؓ کے حوالے سے مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے حضرت عمران بن حصین ؓ نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں پھر آپ نے سلام پھیردیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) حضرت ذوالیدین ؓ کی اطلاع کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نماز کے دوران کلام کیا تھا۔ اس بنیاد پر کہ ان کی نماز مکمل ہوچکی ہے۔ اور آپ نے وہ فرض ادا کرلیا ہے۔ جو آپ کے ذمے لازم تھا ۔ حضرت ذوالیدین یہ سمجھے کہ شاید نماز اپنے پہلے والے فرض کی طرف لوٹادی گئی ہے۔ انہوں نےاس صورت میں کلام کر دیا کہ وہ نماز کی حالت میں نہیں ہیں اور نماز مکمل ہوچکی ہے۔ لیکن جب نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب سے تصدیق چاہی اور آپ کو اس بات کا یقین ہوگیا تو پھر آپ نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جہاں تک صحابہ کرامؓ کا آپ کو جواب دینے کا تعلق ہے۔ کہ انہوں نے جی ہاں کہا تو اب ان لوگوں پر یہ بات لازم تھی کہ بنی اکرمﷺ کو جواب دیتے اگرچہ وہ نماز ادا کر رہے ہوتے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں تاکہ یہ چیز تم کو زندگی دے۔ جہاں تک آج کے دن کا تعلق ہے۔ تو اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے اور فرض بر قرار ہو چکے ہیں۔ تو جب امام کلام کرے اور اس کا خیال یہ ہو کہ سلام پھیر نے کے بعد اس کی نماز مکمل ہوچکی ہےتو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ لیکن اگر وہ مقتدیوں سے سوال کرتا ہے۔ مقتدی اس کو جواب دیتے ہیں۔ تو ان لوگوں کی نماز باطل ہوجائے گی اور اگر امام نے بعض مقتدیوں سے اس بارے میں دریافت کیا۔تو امام کی نماز بھی باطل ہوجائے گی۔ کیونکہ اب فرائض مستحکم ہوچکے ہیں۔ اور وحی سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ نبی کرمﷺ کے نماز کے دوران سہو لاحق ہونے میں علت یہ تھی کہ نبی اکرمﷺ کو تعلیم دینے والا بھیجا گیاہے۔ آپ قولی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی تعلیم دیتے تھے۔ تو بعض اوقات آپ پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ جس کا مقصد آپ کی امت کو اطلاع دینا ہوتا تھا۔ کہ اس طرح کی صورتحال در پیش ہونے پر ان پر کیا چیز لازم ہوگی؟ یعنی وہ صورت حال جب نبی اکرمﷺ کے بعد ان کو پیش آئے گی ۔

وَأَكْبَرُ ظَنِّي ← الْعَصْرُ ← الظُّهْرَ، وَإِمَّا ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ إِمَّا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2688

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2689

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ الْمُرْغِمَتَيْنِ» (1) . [5: 18]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سہو کے دو سجدوں کو (شیطان کو ) رسوا کرنے والی دو چیزوں کا نام دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2689

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2690

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ (1) اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ» ، قَالَ: فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدُ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ (2) . [2: 56]

حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں : لوگ جب کسی جگہ پڑاؤ کرتےتھے تو وہ گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں مختلف جگہ بکھر جاتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا اس طرح گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو وہ ایک جگہ یوں اکٹھے رہتے تھے اگر ان پر کوئی کپڑا بچھا یا جائے تو وہ ان سب پر آجائے۔

رَسُولُ اللَّهِ «إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ» ← كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، ← أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ← مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إسماعيل بن عبد الله بن خالد القرشي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2690

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ» ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: 197] (1) . [4: 27]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ حج پر جاتے تھے تو زاد راہ ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور تم زاد راہ بھی ساتھ رکھو بے شک سب سے بہتر زاد راہ پر ہیز گاری ہے۔

«كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2691

chevron_left Previous
1…525354…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr