Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2668

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلَامِ، فَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَتْ خَامِسَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ» (2) . [5: 18] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «وَهِمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الدَّرَاوَرْدِيُّ حَيْثُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَكَانَ إِسْحَاقُ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ كَثِيرًا، فَلَعَلَّهُ مِنْ وَهْمِهِ أَيْضًا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی ا کرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں تو اسے ایک رکعت ادا کرنی چاہئے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کرلینا چاہئے اگر وہ چوتھی رکعت ہوگی تو دو سجدےشیطان کو رسوا کردیں کے اور وہ پانچویں رکعت ہوگی تو دو سجدے اسے جفت بنا دیں گے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) دراور دی نامی راوی کو اس کی سند میں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔ حالانکہ یہ روایت حضرت ابو سعید خدری ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔ سعد بن ابراہیم نامی راوی کیونکہ اکثر اپنے حافظے کے حوالے سے احادیث بیان کیا کرتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو وہم ہوا ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2668

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2669

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَ بِالسَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ» (1) . [5: 18] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «خَبَرُ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، مِمَّا قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلَاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ، وَحُكْمَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، لِأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذِكْرِ التَّحَرِّي أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ، وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ التَّحَرِّي وَالْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَدْرِي ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَهُوَ الثَّلَاثُ، وَيُتِمَّ صَلَاتَهُ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، وَأَمَّا التَّحَرِّي: فَهُوَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَرْءُ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ اشْتَغَلَ بِقَلْبِهِ بِبَعْضِ أَسْبَابِ الدِّينِ أَوِ الدُّنْيَا حَتَّى مَا يَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ صَلَّى أَصْلًا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ تَحَرَّى عَلَى الْأَغْلَبِ عِنْدَهُ، وَيَبْنِي عَلَى مَا صَحَّ لَهُ مِنَ التَّحَرِّي مِنْ صَلَاتِهِ، وَيُتِمُّهَا، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَعْمِلًا لِلْخَبَرَيْنِ مَعًا»

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب کسی شخص کو شک ہوجائے اور اسے یہ پتہ نہ چلے اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں تو اسے اٹھ کر ایک رکعت ادا کرنی چاہئے اس میں رکوع اور سجدے کو مکمل ادا کرے پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو مرتبہ سجدہ سہو کرلے اگر اس نے پانچ رکعات ادا کی تھیں تو دو سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر وہ چار رکعات ادا کر چکا تھا تو یہ دو سجدے شیطان کو رسواکردیں گے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کے حوالے سے منقول روایت وہ روایت ہے جس نے عالم شخص کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران تحری کر نا اور یقین پر بناء قائم کرنا ایک ہی چیز ہے۔ حالانکہ ان دونوں کا حکم مختلف ہے۔ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے منقول روایت میں تحری کا حکم ہے جس میں نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یقین پر بناء کرنے کا حکم ہے جس میں نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو تحری کرنے اور یقین پر بناء قائم کرنے کے درمیان فرق ہے۔ کیونکہ یقین پر بناء قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے اور اس کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں کہ چار رکعات؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو۔ پھر وہ اس چیز پر بناء قائم کر ے گا جس کا اس کو یقین ہو۔ اور وہ تین رکعات ہوں۔ پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا جہاں تک تحری کا تعلق ہے۔ تو اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی نماز شروع کرتا ہے پھر اس کا ذ ہن کسی دنیا وی یا دینی معاملے میں مشغول ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو تو وہ غالب گمان کے مطابق تحری کرلے گا اور تحری کے نتیجے میں جو چیز اس کے لیے ثابت ہوگی اس پر بناء قائم کرے اور پھر اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ کرے گا۔ اس صورت میں ان دونوں روایات پر ایک ساتھ عمل ہو جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2669

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ» (1) . تَفَرَّدَبِہِ الْاَنْصَارِیُّ ، مَا رَویٰ ابْنُ سِیْرِیْنَ ، عَنْ خَالِدٍ غَیْرَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ، وَخَالِدٌ تِلْمِیذُہُ

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا پھر آپ نے تشہد پڑھا اور سلام پھیردیا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں انصاری نامی راوی منفرد ہے ابن سیرین نے خالد کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کی ہے ویسے خالد ان کے شاگر د ہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ← عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، أَبُو سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2670

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2073

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الطَّاھِرِ بْنُ السَّرحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ یَّعْقُوْبَ بْنِ مُجَاھِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَاہُ، اَنَّ عَائِشَۃَ، حَدَّثَتْھُمَا قَالَت: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا یَقُوْمُ اَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ وَھُوَ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ وَلَا ھُوَ یُدَافِعُہُ الْاَخْبَثَانِ الْغَائِطُ وَالْبَوْلُ ۔ (6:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز کے لئے کھڑا نہ ہو‘ اس کا کھانا آچکا ہو یا جب وہ خبیث چیزوں پاخانہ یا پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَاہُ، اَنَّ عَائِشَۃَ، حَدَّثَتْھُمَا ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2073

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2074

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَھْلٍ الْجَعْفَرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنْ اَبِی حَزْرَۃَ الْمَدِینِیِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ عَائِشَۃَ وَبَیْنَ بَعْضِ بَنِیْ اَخِیھَا شَیْءٌ، فَدَخَلَ عَلَیْھَا فَلَمَّ جَلَسَ جِیءَ بِالطَّعَامِ، فَقَامَ اِلَی الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ لَہٗ: اجْلِسْ غُدَرُ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا یُصَلِّیْ اَحَدُکُمْ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ، وَلَاوَھُوَ یُدَافِعُہُ الْاَخْبَثَانِ ۔ (47:2)

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: سیّدہ عائشہ صدیقہؓ اور ان کے کسی بھانجے کے درمیان کوئی ناراضگی تھی۔ وہ بھانجے سیّدہ عائشہؓ کے پاس آئے جب وہ بیٹھے تو کھانا آگیا وہ اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے‘ تو سیّدہ عائشہؓ نے ان سے کہا: او نالائق بیٹھے رہو۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ کوئی شخص کھانے کی موجودگی میں نماز ادا نہ کرے اور اس وقت نماز ادا نہ کرے جب وہ خبیث چیزوں یعنی پیشاب اور پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔‘‘

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← اَبِی حَزْرَۃَ الْمَدِینِیِّ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2074

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2075

اَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، اَنَّ مَحْمُوْدَ بْنَ الرَّبِیعِ الْاَنْصَارِیَّ، حَدَّثَہُ اَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ، مِمَّنْ شَھِدَ بَدْرًا مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ قَدْ اَنْکَرْتُ بَصَرِی وَاَنَا اُصَلِّی لَقَوْمِی، وَاِذَا کَانَ الْاَمْطَارُ سَالَ الْوَادِی الَّذِی بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ وَلَمْ اَسْتَطِعْ اَنْ اَتِیَ مَسْجِدَھُمْ فَاُصَلِّیَ بِھِمْ وَدِدْتُ اَنَّکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ تَاْتِیْ فَتُصَلِّیْ فِیْ بَیْتِیْ حَتّٰی اَتَّخِذَہُ مُصَلًّی، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَاَفْعَلُ قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبُوْبَکْرٍ الصِّدِّیقُ حِیْنَ ارتَفَعَ النَّھَارُ، فَاسْتَاْذَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَذِنْتُ لَہٗ، فَلَمْ یَجْلِسْ حِیْنَ دَخَلَ الْبَیْتَ، ثُمَّ قَالَ: اَیْنَ تُحِبُّ اَنْ اُصَلِّیَ مِنْ بَیْتِکَ؟ قَالَ: فَاَشَرْتُ اِلٰی نَاحِیَۃٍ مِنَ الْبَیْتِ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَائَہٗ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ: وحَبَسْنَاہُ عَلٰی خَزِیرَۃٍ صَنَعْنَاھَا لَہٗ۔

حضرت محمود بن ربیع انصاریؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عتبان بن مالکؓ جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ ان کا تعلق انصار سے تھا‘ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میری نگاہ کمزور ہو چکی ہے۔ میں اپنی قوم کی امامت کرتا ہوں جب بارش آتی ہے نشیبی علاقے میں پانی بھر جاتا ہے‘ جو میرے اور ان لوگوں کے درمیان ہے‘ تو میں ان کی مسجد تک نہیں آسکتا‘ تاکہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ اس لئے یہ چاہتا ہوں‘ یا رسول اللہ(ﷺ)! آپ تشریف لائیں میرے گھر میں نماز ادا کریں‘ تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنالوں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ایسا کروں گا۔ حضرت عتبان بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرمﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے نبی اکرمﷺ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گھر میں داخل ہونےکے بعد نبی اکرمﷺ تشریف فرما نہیں ہوئے۔ آپ نے دریافت کیا‘ تم اپنے گھر میں کہاں یہ چاہتے ہو میں وہاں نماز ادا کروں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا‘ تو نبی اکرمﷺ وہاں کھڑے ہوئے آپ نے وہاں تکبیر کہی۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ نبی اکرمﷺ نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ کو خزیرہ کھانے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا تھا۔

ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2075

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2076

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسٰی السُّلَمِیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ ھُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ وَجَدَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ بَرْدًا شَدِیْدًا، فَاَذِنَ مَنْ مَعَہٗ فَصَلُّوْا فِیْ رِحَالِھِمْ وَقَالَ: اِنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ( اِذَا کَانَ مِثْلُ ھٰذَا اَمَرَ النَّاسَ اَنْ یُصَلُّوْ فِیْ رِحَالِھِمْ ۔ (6:1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے‘( سفر کے دوران) ایک رات انہیں شدید سردی محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ اجازت دی‘ وہ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں اور ہمیں یہ بات بتائی‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ہے‘جب اس طرح کا معاملہ ہوتا تو آپ لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے وہ اپنے رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔

نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2076

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2077

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحَبَابِ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ بَضَجْنَانَ لَیْلَۃً بَارِدَۃً، فَاَمَرَھُمْ اَنْ یُصَلُّوْا فِی الرِّحَالِ، وَحَدَّثَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا نَزَلَ فِیْ مَوْضِعٍ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ اَمَرَھُمْ اَنْ یُصَلُّوْا فِی الرِّحَالِ۔ (7:1)

نافع بیان کرتے ہیں: شدید سرد رات میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ضجنان کے مقام پر پڑاؤ کیا‘ اور لوگوں کو یہ ہدایت کی‘ وہ اپنی رہائش والی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔ انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی‘ نبی اکرمﷺ جب سرد رات میں کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے‘ تو آپ لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے وہ اپنی رہایشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2077

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2078

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِدْرِیْسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بِالصَّلَاۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیحٍ وَقَالَ: اَلَا صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَاْمُرُ الْمُؤَذِّنَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ ذَاتُ بُرْدٍ وَمَطَرٍ یَقُوْلُ اَلَا صَلُّوْا فِیْ الرِّحَالِ۔ (6:1)

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لئے اذان دی اور یہ کہا: ’’ خبردار اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو‘‘ پھر انہوں نے یہ بات بتائی: نبی اکرمﷺ مؤذن کو یہ حکم دیتے تھے‘ جب رات ٹھنڈی یا بارش والی ہو‘ تو وہ یہ کہے خبردار اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔‘‘

أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ ← ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بِالصَّلَاۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیحٍ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2078

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2079

اَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، اَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَاَصَابَنَا مَطَرٌ لَمْ یَبُلَّ اَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادٰی مُنَادِی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ صَلُّوْا فِیْ رِحَالَکُمْ۔ (7:1)

ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے زمانہ میں ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے۔ ہمیں بارش نے آلیا وہ اتنی بارش تھی‘ جس سے ہمارے جوتے کے نیچے والا حصہ بھی گیلا نہیں ہوا‘ لیکن نبی اکرمﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2079

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2080

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بَضَجْنَانَ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ، وَقَالَ لِاَصْحَابِہٖ: صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَاْمُرُ اللْمُؤَذِّنُ فِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیرَۃِ اَوِالْبَارِدَۃِ وَیَاْمُرُ اَصْحَابَہُ اَنْ صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُم۔ (6:1)

نافع‘ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں: ایک سرد رات میں انہوں نے ضجنان کے مقام پر اذان دی اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا‘ تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو کیونکہ نبی اکرمﷺؑ اپنے مؤذن کو یہ ہدایت کرتے تھے‘ ہو بارش والی رات میں‘ یا سرد رات میں اذان دے اور آپ اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کرتے تھے‘ تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔

ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بَضَجْنَانَ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2080

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2671

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ الْخِرْبَاقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَدَقَ الْخِرْبَاقُ؟ » فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیردیا تو حضرت خرباقؓ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ یا پھر نماز مختصر ہوگئی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا خرباق ٹھیک کہہ رہاہے؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ! آپ کھڑے ہوئے آپ نے ایک رکعت ادا کی آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا پھر سلام پھیردیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2671

chevron_left Previous
1…495051…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr