صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» قَالَتْ: «وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ» (1) . [1: 2] قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضًا لَصَلَّى مِنَ النَّهَارِ مَا فَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب کوئی عمل کرتے تھے تو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے اگر آپ رات کے وقت سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (رات کے نوافل ادا نہیں کر پاتے ) تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی بھی ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی رمضان کے مہینے کے علاوہ کبھی آپ کو مسلسل (پورا مہینہ ) روزے رکھتے ہوئے دیکھاہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں کیونکہ اگر یہ فرض ہوتے تو آپ دن کے وقت اپنی رات کے وقت رہ جانے والی 13 رکعات ادا کرتے۔
عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2642
