صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2638
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ِاللَّیْلِ ، فَقَالَتْ :کَانَ یَنَامُ اَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ یَقُوْمُ ، فِاِذَا کَانَ مِنَ السَّحَرِ اَوْتَرَ، ثُمَّ اَتَی فِرَاشَہُ ، فَاِنْ کَانَتْ لَہٗ حَاجَۃُ الْمَرْءِ بِاَھْلِہٖ کَانَ ، فَاِذَا سَمِعَ الْاَذَانَ وَثَبَ ، فَاِنْ کَانَ جُنْبًا اَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَاءَ وَاِلَّا تَوَضَّاَ ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلَاۃِ
اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کے (نفل ) نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے پھر آپ نوافل ادا کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سحری کا وقت قریب آتا تو آپ وتر ادا کر لیتے تھے پھر آپ اپنے بستر پر آتے اگرآپ کو وہ خواہش ہوتی جو کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ ہوتی ہے تو آپ اسے پوری کرتے تھے جب آپ اذان کی آواز سنتے تو جلدی سے اٹھ جاتے اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل کرلیتے ورنہ وضو کر کے نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے اگر چہ بظاہر اور معانی میں اختلاف محسوس ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ رات کے وقت مختلف (تعداد میں ) نوافل ادا کرتے تھے ایک رات میں ایک طریقے کے مطابق اور دوسری رات میں دوسرے طریقے کے مطابق ادا کرتے تھے تو صحابہ کرام میں سے جس نے نبی اکرمﷺ کو جس طریقے کےمطابق نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اسے آگے بیان کردیا اور جو مشاہدہ کیا اس کے بارے میں خبر دے دی ۔ اللہ تعالی ٰ نے اپنے محبوب کو ان کی اُمت کے لئے زبانی اور عملی طور پر معلم بنا کر بھیجا تھا تو رات کے نوافل کے بارے میں نبی اکرمﷺ کے افعال کا اختلاف اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ آدمی کو اس بارے میں اختیار ہےکہ نبی اکرمﷺ نے اپنے رات کے نوافل کے بارے میں جو طریقہ اختیار کیا آدمی ان میں سے کسی ایک طریقے کےمطابق نوافل ادا کرلے ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے یہ حکم ہو کہ وہ ان میں سے کسی ایک طریقے کی ہی پیروی کر سکتا ہے تمام طریقوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔
صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ اللَّيْلَ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2638
