Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2638

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ِاللَّیْلِ ، فَقَالَتْ :کَانَ یَنَامُ اَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ یَقُوْمُ ، فِاِذَا کَانَ مِنَ السَّحَرِ اَوْتَرَ، ثُمَّ اَتَی فِرَاشَہُ ، فَاِنْ کَانَتْ لَہٗ حَاجَۃُ الْمَرْءِ بِاَھْلِہٖ کَانَ ، فَاِذَا سَمِعَ الْاَذَانَ وَثَبَ ، فَاِنْ کَانَ جُنْبًا اَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَاءَ وَاِلَّا تَوَضَّاَ ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلَاۃِ

اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کے (نفل ) نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے پھر آپ نوافل ادا کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سحری کا وقت قریب آتا تو آپ وتر ادا کر لیتے تھے پھر آپ اپنے بستر پر آتے اگرآپ کو وہ خواہش ہوتی جو کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ ہوتی ہے تو آپ اسے پوری کرتے تھے جب آپ اذان کی آواز سنتے تو جلدی سے اٹھ جاتے اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل کرلیتے ورنہ وضو کر کے نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے اگر چہ بظاہر اور معانی میں اختلاف محسوس ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ رات کے وقت مختلف (تعداد میں ) نوافل ادا کرتے تھے ایک رات میں ایک طریقے کے مطابق اور دوسری رات میں دوسرے طریقے کے مطابق ادا کرتے تھے تو صحابہ کرام میں سے جس نے نبی اکرمﷺ کو جس طریقے کےمطابق نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اسے آگے بیان کردیا اور جو مشاہدہ کیا اس کے بارے میں خبر دے دی ۔ اللہ تعالی ٰ نے اپنے محبوب کو ان کی اُمت کے لئے زبانی اور عملی طور پر معلم بنا کر بھیجا تھا تو رات کے نوافل کے بارے میں نبی اکرمﷺ کے افعال کا اختلاف اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ آدمی کو اس بارے میں اختیار ہےکہ نبی اکرمﷺ نے اپنے رات کے نوافل کے بارے میں جو طریقہ اختیار کیا آدمی ان میں سے کسی ایک طریقے کےمطابق نوافل ادا کرلے ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے یہ حکم ہو کہ وہ ان میں سے کسی ایک طریقے کی ہی پیروی کر سکتا ہے تمام طریقوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ اللَّيْلَ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2638

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2031

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائبَ، عَنْ اَبِیْ وَائلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: جَدَّبَ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (السَّمَرَ) بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:اللہ کے رسولﷺ نے ہمارے لئے عشاء کی نماز کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند قرار دیاہے۔

جَدَّبَ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ (السَّمَرَ) بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2031

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2032

اَخْبَرَنَا الْ حَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: اَنَّ عَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ، وَاُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ لَیْلَۃٍ طَلْمَاءَ حِنْدِسٍ، فَکَانَ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا عَصًا، فَاَضَائَتْ عَصَا اَحَدِ ھِمَا کَاَشَدِّ شَیْءٍ، فَلَمَّا تَفَرَّقَا اَضَائَتْ عَصَا کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت عباد بن بشرؓ اور حضرت اسید بن حضیر ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت سے ایک تاریک رات میں اٹھے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس اپنی لاٹھی تھی۔ ان دونوں میں سے ایک کی لاٹھی انتہائی روشن ہوگئی جب یہ دونوں (واپس جاتے ہوئے راستے میں) ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی ۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْ حَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2032

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2033

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَلِیٍّ ، الْحَنَفِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: انْظَرْنَا الْحَسَنَ، وَرَاثَ عَلَیْنَا حَتّٰی قَرُبْنَا مِنْ وَّقْتِ قِیَامِہٖ، جَاءَ، فَقَالَ : دَعَانَا جِیرَانْنَا ھٰؤُلَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: انْتَظَرْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، حَتّٰی کَانَ شَطْرُ اللَّیْلِ، فَجَاءَ، فَصَلّٰی لَنَا ، ثُمَّ خَطَبَنَا فَقَالَ: اِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا، وَرَقَدُوْا، وَاِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مُذِ انْتَظَرْ تُمُ الصَّلَاۃَ قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: اِنَّ الْقَوْمَ لَا یَزَالُوْنَ بِخَیْرٍ مَا انْتَظَرُوْا الْخَیْرَ

قرہ بن خالد بیان کرتے ہیں:ہم حسن بصری کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ کافی دیر تک ہمارے پاس نہیں آئے، یہاں تک کہ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب آیا، تو وہ اس وقت تشریف لے آئے۔ انہوں نے فرمایا: ہمارے ان پڑوسیوں نے بلالیا تھا، پھر انہوں نے یہ بات بتائی۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے یہ بات بیان کی ہے۔ ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی پھر آپ تشریف لائے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کررہے تھے نماز کی حالت میں شمار ہوگے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں:جو لوگ بھلائی کا جب تک انتظار کرتے رہتے ہیں وہ بھلائی کی حالت میں شمارہوتے ہیں۔

قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2033

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2034

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَزَالُ یَسْمُرُ عِنْدَ اَبِیْ بَکْرٍ اللَّیْلَۃَ فِی الْاَمْرِ مِنْ اُمُورِ الْمُسلِمِیْنِ وَاِنَّہٗ سَمَرَ عِنْدَہٗ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَاَنَا مَعَہٗ۔

حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ حضرت ابوبکر ؓ کے ہاں رات کے وقت مسلمانوں کے کسی معاملے سے متعلق بات چیت کرتے رہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر ؓ نبی اکرمﷺ کے ہاں رات کے وقت بات چیت کرتے رہے۔ میں اس وقت ان کے ساتھ تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2034

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2035

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ ذَاتَ یَوْمٍ، فَعَرَضَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَکَلَّمَہٗ فِیْ حَاجَۃٍ لَہٗ ھُوِ یًّامِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:ایک دن نماز قائم ہوگئی تو نبی اکرمﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے پست آواز میں آپ کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کی۔ یہ رات کے وقت کی بات ہے(یہ بات چیت اتنی طویل ہوگئی )، حاضرین میں سے بعض لوگ سوگئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2035

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2036

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْشَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَامِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَادَاوٗدُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ سَعْدُ بْنُ اِسْحَا قَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ ثُمَامَۃَ الْحَنَّاطُ، اَنَّ کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ ، اَدْرَکَہُ وَھُوَ یُزِیْدُ الْمَسْجِدَ، قَالَ: فَوَجَدَنِیْ وَاَنَا مُشَبِّکٌ یَدَیَّ اِحْدَاھُمَا بِالْاُخْرٰی ، قَالَ: فَفَتَقَ یَدَیَّ وَنَھَانِیْ عَنْ ذٰلِکَ ، وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَاتَوَضَّا اَحَدُکُمْ ، فَاَحْسَنَ وُضُوْئَہُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا اِلَی الْمَسْجِدِ ، فَلَا یُشَبِّکَنَّ یَدَہٗ فِیْ صَلَاۃٍ

ابو ثمامہ حناظ بیان کرتے ہیں: حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مسجد میں جا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا میں نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسائے ہوئے تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ کھلوادیئے اور مجھے ایسا کرنے سے منع کیا۔ انہوں نے یہ بات بتائی ، نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے ، تو وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ شخص نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔

ذٰلِکَ وَقَالَ: ← فَفَتَقَ یَدَیَّ وَنَھَانِیْ ← فَوَجَدَنِیْ وَاَنَا مُشَبِّکٌ یَدَیَّ اِحْدَاھُمَا بِالْاُخْرٰی ← اَبُوْ ثُمَامَۃَ الْحَنَّاطُ، اَنَّ کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ اَدْرَکَہُ وَھُوَ یُزِیْدُ الْمَسْجِدَ، ← سَعْدُ بْنُ اِسْحَا قَ ← حَدَّثَنَادَاوٗدُ بْنُ قَیْسٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← اَبُوْ خَیْشَمَۃَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2036

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2037

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدَ ۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ھَارُوْنَ اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ ، اَوْ رَاحَ، اَعَدَّ لَہٗ نُزُلًا فِی الْجَنَّۃِ کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جوشخص صبح کے وقت یا اور شام کے وقت مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مہمانی تیار کرتا ہے، جب بھی وہ صبح کے وقت یا شام کے وقت جاتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدَ ۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2037

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2038

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، اَنَّ اَبَا عُشَّاثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ، یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْقَاعِدُ عَلَی الصَّلَاۃِ کَالْقَانِتِ ، وَیُکْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ مَنْ حِیْنِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہٖ۔

حضرت عقبہ بن عمرو ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: نماز کا بیٹھ کر انتظار کرنے والا شخص نماز پرھنے والے کی مانند ہے اور نمازی جب اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے گھر واپس آنے تک اس کے لئے ثواب نوٹ کیا جاتاہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ اَنَّ اَبَا عُشَّاثَہُ اَنَّہُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2038

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2639

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ» (1) . [5: 1]

یعلیٰ مملک بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ ام سلمہؓ نے بتایا: نبی اکرمﷺ عشاء کی نماز ادا کرتے تھے پھر آپ تسبیح پڑھتے تھے پھر اس کے بعد رات کے وقت جب اللہ کو منظور ہوتا تھا نماز ادا کرتے تھے پھر آپ نماز ختم کر کے اتنی ہی دیرکے لئے سو جاتے تھے جتنی دیر آپ نماز ادا کرتے رہے تھے پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہو کے اتنی دیر نماز ادا کرتے رہتے تھے جتنی دیرسوئے رہتے تھے آپ کی آخری نماز صبح صادق تک جاری رہتی تھی۔

صَلَاةِ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ، ← يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2639

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2640

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ، جَعَلَ الثَّمَانِ سِتًّا، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ، وَ {إِذَا زُلْزِلَتْ} » (1) . [5: 1]

سعدبن ہشام انصاری بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی (نفل ) نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا:نبی اکرمﷺ جب عشاء کی نماز ادا کرلیتے تھے تو دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے پھر آپ سو جاتے تھے آپ کے وضو کا پانی اور آپ کی مسواک آپ کے سرہانے موجود ہوتے تھے پھر آپ بیدار ہوکے مسواک کرتے تھے پھر وضوکرتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے آپ پہلے دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے پھر آپ آٹھ رکعات ادا کرتے تھے جن میں تقریبا ایک جتنی تلاوت کرتے تھے آپ نویں رکعت کے ذریعے انہوں طاق کر لیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جب نبی اکرمﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی آپ کا جسم بھاری ہوگیا تو آپ نے آٹھ رکعات کی جگہ چھ ادا کرنا شروع کردیں اور ساتویں رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے پھرآپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کر تے تھے جس میں آپ سورۃ الکفرون اور سورۃ زلزال کی تلاوت کرتےتھے۔

صَلَاةِ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ، ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2640

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2641

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِبَاحَةِ قَوْلِ الْإِنْسَانِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ فِي الْإِنْسَانِ مَا إِذَا سَمِعَهُ اغْتَمَّ بِهِ، إِذَا أَرَادَ هَذَا الْقَائِلُ بِهِ إِنْبَاهَ غَيْرِهِ دُونَ الْقَدْحِ فِي هَذَا الَّذِي قَالَ فِيهِ مَا قَالَ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اے عبداللہ بن عمرو! تم فلاں شخص کی مانندنہ ہو جانا جو پہلے رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا اور پھر اس نے رات کے قیام کو ترک کردیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہےکہ آدمی کےلئے کسی دوسرے شخص کی غیر موجود گی میں اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا جائز ہےکہ اگر وہ شخص خود اس بات کو سن لے تو غمگین ہوجائے جبکہ کہنے والے شخص کا مقصد اس کی برائی بیان کرنانہ ہو بلکہ کسی اور شخص کو کسی حوالے سے تنبیہ کرنا مقصودہو

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2641

chevron_left Previous
1…434445…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr