Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2023

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِیْ عَقِبِہٖ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِیْنِیِّ ، حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا اَبِیْ ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَکْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ دُبُرَ صَلَاتِہٖ اِذَا صَلّٰی : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، کُتِبَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِیَ عَنْہُ بِھِنَّ عَشْرُ سَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَکُنَّ لَہٗ عِتْقَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَکُنَّ لَہٗ حَرَسًا مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَمَنْ قَالَھُنَّ حِیْنَ یُمْسِی کَانَ لَہٗ مِثْلُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُصْبِحَ

ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جوشخص نماز پڑھ لینے کے بعد یہ کلمہ پڑھ لے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ تو ان کلمات کی وجہ سے اس شخص کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ان کی وجہ سے اس کے دس گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ ان کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے گا، تو صبح تک اسے یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ← مَكْحُولٌ ← یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِیْ عَقِبِہٖ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2023

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2023

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ اِذَا اَصْبَحَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، کُتِبَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِیَ بِھِنَّ عَنْہُ عَشْرُ شَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُدَرَجَاتٍ، وَکُنَّ لَہٗ عَدْلَ عَتَاقَۃِ اَرْبَعِ رِقَابٍ، وَکُنَّ لَہٗ حَرَسًا مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَمَنْ قَالَھُنَّ اِذَا صَلَّی الْمَغْرِبَ دُبُرَ صَلَاتِہٖ فَمِثْلُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُصْبِحَ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبودہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے وہ ہر شے پر قدرت رکھتاہے۔ آدمی دس مرتبہ کلمہ پڑھے تو ان کلمات کے عوض میں اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی۔ اس کے دس گناہ ختم کئے جائیں گے۔ ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کئے جائیں گے اور یہ کلمات اس شخص کے لئے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے شام تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ان کلمات کو پڑھ لے ، تو اسے صبح تک یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← الْفَضْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2023

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2024

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوْسٰی ، عَنْ شَیْبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ مُّسْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ الْاَوْدِیِّ ، قَالَا: کَانَ سَعْدٌیُعَلِّمُ بَنِیْہِ ھٰؤُلاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا یُعَلِّمُ الْمَکْتَبْ الْغِلْمَانَ، یَقُوْلُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَعَوَّذُ بِھِنَّ بَعْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ: اللہُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبُخْلِ ، وَاَعُوذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقبْرِ

عبد الملک بن عمیر مصعب بن سعد اور عمروبن میمون اودی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ حضرت سعد ؓ اپنے بچوں کو ان کلمات کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح (مدرسے میں) استاد شاگردوں کو تعلیم دیتا ہے وہ یہ فرماتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ اےاللہ!میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتاہوں مجھے سٹھیا جانے والی عمر تک لوٹا دیا جائے اور میں دنیا کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

کَانَ سَعْدٌیُعَلِّمُ بَنِیْہِ ھٰؤُلاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا یُعَلِّمُ الْمَکْتَبْ الْغِلْمَانَ، ← مُّسْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ الْاَوْدِیِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2024

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2025

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَمَّہِ الْمَا جِشُونِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِیِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاۃِ وَسَلّمَ ، قَالَ: اللھُمَّ اغْفِرْلِی مَاقَدَّمْتُ، وَمَا اَخَّرْتُ ، وَمَا اَسْرَرْتُ ، وَمَا اَعْلَنْتُ ، وَمَا اَسْرَفتُ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّی ، اَنْتَ الْمُقَدَّمُ ، وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّااَنْتَ

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے ، تو آپ یہ پرھتے تھے۔ اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا اور جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ طور پر کیا ، اور جو اسراف کیا، اور ہر وہ چیرز جس کے بارے میں، تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کردے ،توآگے کرنے والا ہے، تو پیچھے کرنے والا ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاۃِ وَسَلّمَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِیِ ← الْأَعْرَجِ ← عَمَّہِ الْمَا جِشُونِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← هاشم بن القاسم ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2025

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2026

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِی السَّرِیِّ ، قَالَ: قُرِءَ عَلٰی حَفْصِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، قَالَ: وَاَنَا اَسْمَعُ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِیْ مَرْوَانَ ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ کَعْبًا حَلَفَ لَہٗ بِالَّذِی فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوْسٰی ، اَنَّا نَجِدُ فِی الْکِتَابِ اَنَّ دَاوٗدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ اِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ ، قَالَ: اللھُمَّ اَصْلِحْ لِی دِینِی الَّذِی جَعَلْتَہٗ لِی عِصْمَۃَ اَمْرِی، وَاَصْلِحْ لِی دُنْیَایَ الَّتِیْ جَعَلْتَ فِیْھَا مَعَاشِی، اللھُمَّ اِنِّنیْ اَعُوذُبِکَ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَبِعَفْوِ کَ مِنْ نِقْمَتِکَ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْکَ ، اللھُمَّ لَامَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ وَحَدَّثَنِیْ کَعْبٌ ، اَنَّ صُھَیْبًا حَدَّثَہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُھُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِہِ مِنْ صَلَاتِہٖ۔

عطاء بن ابو مروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، کعب نے (شاید اس سے مراد کعب الاحبار ہیں)اس ذات کی قسم اٹھائی جس نے حضرت موسٰی ؑ کے لئے دریا کو چیر دیا اور یہ بات بیان کی ، ہم نے کتاب (یعنی تورات ) میں یہ بات پائی ہے اللہ کے نبی حضرت داؤد ؑ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو یہ کلمات پڑھتے تھے۔ اے اللہ! تو میرے لئے میرے دین کو ٹھیک کر دے جس تو نے میرے انجام کا ذریعہ بنایا ہے اور میرے لئے میری دنیا کو ٹھیک کردے جس میں ، تو نے میری زندگی رکھی ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے مین تیری رضا مندی کی تیرے انتقام لینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلےمیں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری ذات کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔ راوی بیان کرتے ہیں:کعب الا حبار نے مجھے یہ بات بتائی ، حضرت صہیب ؓ نے انہیں یہ بات بتائی تھی ، نبی اکرمﷺ بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أسمع ← قُرِءَ عَلٰی حَفْصِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2026

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2027

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلَیْفَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسٰی بْنُ اِسْمَا عِیْلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی ، عَنْ صُھَیْبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ اَیَامَ خَیْبَرَ یُحَرِّ کُ شَفَتَیْہِ بِشٰیْءٍ بَعْدَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ ، فَقِیلَ لَہٗ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ، اِنَّکَ تُحَرِّکُ شَفَتَیْکَ بِشَیْءٍ مَا کُنْتَ تَفْعَلُہٗ، فَمَا ھٰذَا الَّذِی تَقُوْلُ؟ قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَقُرْلُ: اللھُمَّ اُحَاوِلُ، وَبِکَ اُقَاتِلُ ، وَبِکَ اُصَاوِلُ

حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں:جنگ خیبر کے دوران نبی اکرمﷺ فجر کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کچھ پڑھ رہے تھے۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی:یا رسول اللہ(ﷺ) ! آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کیا پڑھ رہے تھے؟ وہ کیا چیز ہے، جو آپ کہہ رہے تھے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں یہ پڑھ رہا تھا۔ اے اللہ! میں تیری مدد سے بچاؤ کرتاہوں تیری مدد سے جنگ کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوْسٰی بْنُ اِسْمَا عِیْلَ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2027

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2028

اَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ اَبِیْ مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺجب فجر کی نماز پڑھ لیتے تھے ، تو سورج نکلنے تک اسی جگہ تشریف فرمارہتے تھے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2028

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2029

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا سَلَّی الْفَجْرَ، قَعَدَ فِیْ مُصَلَّاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو آپ اپنی جائے نماز پر سورج نکلنے تک تشریف فرمارہتے تھے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا سَلَّی الْفَجْرَ، قَعَدَ فِیْ مُصَلَّاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2029

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2030

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ، وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْاَنْصَارِ ، تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَیْلَۃً حَتٰی ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌ، فِیْ لَیْلَۃٍ شَدِیْدَۃِ الظُّلْمَۃِ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْقَلِبَانِ وَبِیَدِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا عَصَاہُ، فَاَضَائَتْ عَصًا اَحَدِھِمَا لَھُمَا حَتّٰی مَشَیَا فِیْ ضَوْئھَا، حَتّٰی اِذَا اَفْتَرَقَتْ بِھِمَا الطَّرِیْقُ اَضَائَتْ بِالْاخَرِ عَصَاہُ، فَمَشَی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا فِیْ ضَوْئھَا حَتّٰی بَلَغَ اَھْلَہٗ۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت اُسید بن حضیر ؓ اور ایک اور انصاری نبی اکرمﷺ کے پاس رات گئے تک بیٹھے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا وہ رات انتہائی تاریک تھی۔ یہ دونوں حضرات نبی اکرمﷺ کے پاس سے اٹھ کر واپس جانے لگے ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ ان میں سے ایک کی چھڑی ان کے لئے روشنی کرتی رہی ، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات اس کی روشنی میں چلتے رہے۔ جب راستے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے، تو دوسرے صاحب کی چھری بھی روشن ہوگئی اور ان میں سے ہر ایک اپنی چھڑی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر تک پہنچ گیا۔

ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2030

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2623

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ (1) ، عَنْ (2) خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ وَاحِدَةً وَسَجْدَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ» (3) . [1: 78]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کو بلند آواز میں مخاطب کیا میں اس وقت ان دونوں کے درمیان تھا اس نے دریافت کیا: رات کے وقت کی نماز کیسی ہونی چاہئے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دو دو کر کے ادا کی جائے گی اور جب صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہو تو تم صبح صادق ہونے سے پہلے ایک رکعت اور دو سجدے ادا کرلو۔

بَيْنَهُمَا، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ ← نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2623

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2624

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ وَاحِدَةً تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ» (1) . [1: 78]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رات کی نماز دو دو کی جائے گی اور جب تم نماز ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت ادا کرلو تم نے جو نماز ادا کی ہے وہ طاق ہو جائے گی۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2624

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2625

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ» (2) . [1: 92] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ، وَأَبُو مِجْلَزٍ اسْمُهُ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ» .

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وتر رات کے آخری حصےمیں ایک رکعت ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) ابو تیاح نامی راوی کا نام یزیدبن حمید ضبعی ہے جبکہ ابو مجلز نامی راوی کا نام لاحق بن حمید ہے۔

الْوِتْرُ رَکْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبَا مِجْلَزٍ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2625

chevron_left Previous
1…414243…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr