Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2321

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ» (1) . [4: 39]

حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ حمام اور قبرستان کے علاوہ تمام روئے زمین نماز ادا کرنے کی جگہ ہے۔‘‘

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 2321

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2322

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى بَيْنَ الْقُبُورِ» (1) . [2: 3]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے قبروں کے درمیان نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Hadith 2322

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2323

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ هُذَيْلٍ الْقَصَبِيُّ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ بِنْتِ إِسْحَاقَ الْأَزْرَقِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ إِلَى الْقُبُورِ» (2) . [2: 3]

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے قبروں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ بِنْتِ إِسْحَاقَ الْأَزْرَقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ هُذَيْلٍ الْقَصَبِيُّ بِوَاسِطَ،

Hadith 2323

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2324

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا» (1) . [2: 3]

حضرت واثلہ بن اسقعؓ حضرت ابو مرثد غنویؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: قبروں پر بیٹھو نہیں اور ان کی طرف رخ کر کے نماز ادا نہ کرو۔

«لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا». ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 2324

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2325

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ (2) ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ، وَمَنْ يَتَّخِذِ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ» (3) . [2: 76]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ برے لوگ وہ ہیں‘ جنہیں قیامت پا لے کی ( یعنی جن پر قیامت قائم ہو گی) اور وہ لوگ ہیں جو قبروں کو مساجد بنا لیتے ہیں‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2325

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2326

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» (1) . [2: 76]

حضرت ابوہریرہؓ‘ نبی اکرمﷺؑ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2326

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2327

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» (1) . [1: 6]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا۔‘‘

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2327

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2328

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاؤُوا، فَقَالَ: «يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا؟» قَالُوا: لَا، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ، مَا هُوَ إِلَّا إِلَى اللَّهِ - قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ: كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَحَرْثٌ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّيَ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَتْ، فَوَضَعُوا النَّخْلَ قِبْلَۃَ الْمَسْجِدِ ، وَجَعَلُوْا عِضَادَتَیْہِ حِجَارَۃًا ، قَالَ: فَجَعَلُوْا یَنْقُلُوْنَ ذٰلِکَ الصَّخْرَوَھُمْ یَرْتَجِزْونَ ، وَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَھُمْ ، وَھُمْ یَقُوْلُوْنَ: اللّٰھُمَّ لَا خَیْرَ اِلَّا خَیْرُ الْاٰخِرَۃْ فِاغْفِرْ لِلْاَنْصَارِ وَالْمُھَاجِرَۃُ ۔(39:4)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے‘ تو آپ نے مدینہ منورہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عوف نامی ایک قبیلے میں پڑاؤ کیا۔ نبی اکرمﷺ وہاں چودو دن تک مقیم رہے‘ پھر آپ نے بنونجہ کے گروہ کو پیغام بھجوایا۔ وہ لوگ اپنی تلواریں ( گردنوں میں ) لٹکا کر آئے۔ حضرت انسںؓ بیان کرتے ہیں: یہ آج بھی منظر میری نگاہ میں ہے۔ نبی اکرمﷺاپنی سواری پر سوار تھے اور حضرت ابوبکرؓ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے بنونجار کا ایک گروہ آپ کے اردگرد تھا‘ یہاں تک کہ آپ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان کے پاس تشریف لے آئے۔ نبی اکرمﷺ کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا تھا۔ آپ نماز ادا کر لیتے تھے‘ آپ بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے‘ پھر نبی اکرمﷺ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ آپ نے بنونجار کچھ افراد کو پیغام بھجوایا وہ لوگ آئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی قیمت میرے ساتھ طے کر لو۔ ان لوگوں نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت آپ سے نہیں لیں گے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: اس باغ میں کیا تھا۔ وہ میں تمہیں بتاتا ہوں ۔ اس میں کچھ مشرکین کی قبریں تھیں کھجوروں کے درخت تھے اور کھیت تھا۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت مشرکین کی قبریں برابر کر دی گئیں۔ کھیت کو برابر کر دیا گیا‘ اور کھجور کے درخت کو مسجد میں قبلہ کی سمت میں رکھ دیا گیا‘ اور ان کے دونوں طرف پتھر لگا دیئے گئے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ پتھر نقل کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ رجز پڑھتے تھے۔ نبی اکرمﷺ بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے یہ حضرات یہ کہتے تھے۔ ’’ اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے‘ تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت کر دے۔‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2328

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2329

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مَيْمُونَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِهِ، وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ» (1) . قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهُ قَالَ: «وَهِيَ حَائِضٌ» . [4: 1]

سیّدہ میمونہؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور آپ پر آپ کی ازواج میں سے کسی کی چادر ( کا کچھ حصہ ) ہوتا تھا اور اس چادر کا بعض حصہ اس خاتون پر ہوتا تھا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں ’’ اور وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔‘‘

مَيْمُونَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 2329

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2330

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا» (2) . [4: 1]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ ہمارے لحاف میں نماز ادا کر دیتے تھے۔

«كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا» ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← أَبِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2330

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2331

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ؟ فَقَالَتْ: «نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى» (1) . [4: 1]

حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ اپنی بہن سیدہ اُمّ حبیبہؓ جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے ان سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ اسی کپڑے میں نماز ادا کرلیتے تھے جس میں آپ نے اس خاتون کے ساتھ صحبت کی ہوتی تھی‘ تو سیّدہ ام حبیبہؓ نے جواب دیا: جی ہاں ( اس وقت ) جب آپ کو اس میں کوئی نجاست نظر نہیں آتی تھی۔

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2331

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2332

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَأَتْنِي عَائِشَةُ أَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ أَصَابَ ثَوْبِي، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَثَرُ جَنَابَةٍ أَصَابَ ثَوْبِي، فَقَالَتْ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّهُ لَيُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: هَكَذَا نَفْرُكُهُ» (1) . [4: 1]

اسود بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے دیکھا‘ میں اپنے کپڑے پر سے جنابت کے نشان دھو رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: یہ کیا ہے میں نے جوات دیا: یہ جنابت کا نشان ہے‘ جو میرے کپڑے پر لگ گیا تھا تو سیّدہ عائشہؓ نے فرمایا: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یا د ہے‘یہ نبی اکرمﷺ کے کپڑے پر بھی لگتا تھا تو آپ یہ فرماتے تھے‘ ہم اس طرح اسے کھرچ دیں۔

هَكَذَا نَفْرُكُهُ» ← «لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّهُ لَيُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ ← مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَثَرُ جَنَابَةٍ أَصَابَ ثَوْبِي، ← رَأَتْنِي عَائِشَةُ أَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ أَصَابَ ثَوْبِي، ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2332

chevron_left Previous
12345…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr