Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2004

اَخْبَرَنَا انْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَاَلَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حُنَیْنِ بْنِ اَبِیْ حَکِیمٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ سَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُ وا الْمُعَوِّذَاتِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ

حضرت عقبہ بن عامر ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ہر نماز کے بعد ذات کی تلاوت کرو۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← حُنَیْنِ بْنِ اَبِیْ حَکِیمٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← انْنُ خُزَیْمَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2004

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2005

اَخْبَرَنَا الْفضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَیّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَّرَّادٍ، قَالَ: کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ اِلَی الْمُعِیْرَۃِ: اَیُّ شَیْءٍ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ؟ قَالَ: کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاتِہ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَلَاشَرِیکَ لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ، قَدِیر، اللھُمَّ لَامَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَامُعْطِی لِمَا مَنَعْتَ، وَلَایَنْفَعْ ذَاالْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ

وراد بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خط لکھا، نبی اکرم ﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے ، تو آپ کیا پڑھا کرتے تھے حضرت مغیرہ ؓ نے بتایا:نبی اکرمﷺ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اےاللہ ! جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے۔ اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔

كان ← اِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ؟ ← مُعَاوِیَۃُ اِلَی الْمُعِیْرَۃِ: اَیُّ شَیْءٍ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ← وَرَّادٍ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2005

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2006

اَخْبَرَنَا اَھْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ اَبِیْ بُکَیْرٍ الْکَرْمَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَبِیْ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْم، قَالَ: اَخْبَرَنَا دَاوٗدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدَ، وَغَیْرُہُ، عَنِ الثُّعْبِیِّ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ وَرَّاد اَنَّ مُعَوِیَۃَ کَتَبَ اِلَی مُغِیْرَۃِ: اَنِ کْتُبْ اِلَیَّ بِشَیْءٍ سَمِعْتَہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَتَبَ اِلَیْہِ: اَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ حِیْنَ عَفْرُعُ مِنْ صَلَاتِہ: لَا اِلٰہَ اَلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر، اللھُمَّ لَا مَانِعَ لَمَّا اَعْطَیْتَ، وَلَامُعْطِیِ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَایَنْفَعْ ذَاالْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ

وراد بیان کرتے ہیں:حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خظ لکھا، آپ مجھے کوئی چیز تحریر کر کے بھیجیں جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے خط میں لکھا، نبی اکرمﷺ کو سنا ہے، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہوتے تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اےاللہ! جسے تو عطا کردے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اورتیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اِلَیْہِ: اَنِّیْ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← اِلَیَّ بِشَیْءٍ ← اِلَی مُغِیْرَۃِ: اَنِ ← وَرَّاد اَنَّ مُعَوِیَۃَ ← الثُّعْبِیِّ ← دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَغَيْرِهِ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عبد الله بن محمد بن يحيى بن أبي بكير الكرماني ← اَھْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ، بِتُسْتَرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2006

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2606

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَبْدَأْ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ» (2) . [1: 67]

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی رات کے وقت بیدار ہو تو اسے آغاز میں دو مختصر رکعات ادا کرنی چاہئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2606

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2607

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَمَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ، فَأَذِنَ لَنَا، فَمَكَثْنَا هُنَيْهَةً، فَخَرَجَتِ الْخَادِمُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَدْخُلُونَ؟ قَالَ: فَدَخَلْنَا، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ؟ فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ، قَالَ: ظَنَنْتُمْ بِآلِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً، ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، قَالَ: يَا جَارِيَةُ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ قَالَ: فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا، قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، «إِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم» (1) . [5: 47]

ابووائل بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے انہیں دروازے پر سلام کہا اور انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ہم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ خادمہ باہر آئی انہوں نے دریافت کیا:آپ لوگ اندر کیوں نہیں آتے؟ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ اندر گئے تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیٹھے ہوئے تھے اور تسبیح پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا : جب تم لوگوں کو اجازت مل گئی تھی تو تم لوگ اندر کیوں نہیں آئے۔ ان لوگوں نے کہا: جی نہیں ہم یہ گمان کر رہے تھے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ سوئے ہوئے ہوں گے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: تم نے ام عبد کے گھرانے کے بارے میں غفلت کا گمان کیا تھا پھر وہ تسبیح پڑھنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ گمان کیا سورج نکل آیا ہوگا تو انہوں نے فرمایا: اے لڑکی جاکر دیکھو سورج نکل آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: اس لڑکی نے دیکھاتو وہ نکل چکا تھا تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں یہ دن بھی عطا کیا ہے مہدی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہیں کیا ہے حاضرین میں سے ایک صاحب نے گزارش کی گزشتہ رات میں نے تمام مفصل آیتوں کی تلاوت کی تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: یہ تو شعر پڑھنے کی طرح تیزی سے پڑھنا ہوا مجھے ایک دوسرے کے قریب قریب کی وہ سورتیں یا دہیں جنہیں نبی اکرمﷺ تلاوت کیا کرتے تھے وہ مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سورتیں ہیں اور ال حم سے تعلق رکھنے والی دوسورتیں ہیں۔

أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2607

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2608

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، [ص:343] عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ، أَوْ فُسْطَاطَهُ، «فَقَامَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

حضرت زید بن خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوچا آج رات میں نبی اکرمﷺ کی نماز کا جائزہ لوںگا۔ وہ کہتے ہیں میں آپ کی چوکھٹ پر (شاید یہ الفاظ ہے) آپ کے خیمہ کے باہر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے دو مختصر رکعات ادا کی پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو لمبی تھیں پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو اس سے پہلے کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو ان سے پہلے کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو ان کی دو رکعات سےکچھ کم تھیں پھر آپ نے وتر ادا کئے تو یہ تیرہ رکعات ہوگئیں۔

لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ اللَّيْلَةَ، ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ ← [ص:149] ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2608

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2609

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقُلْتُ: يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَخْتِمُهَا ثُمَّ يَرْكَعُ، فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ إِلَّا ذَكَرَهُ» (1) . [5: 1]

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی نبی اکرمﷺ نے سورہ بقرۃ کی تلاوت شروع کی میں نے سوچا آپ ایک سو آیات کی تلاوت کر کے رکوع میں چلیں جائیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے میں نے سو چادو رکعات میں یہ سورۃ پوری پڑھ لیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کر تے رہے میں نے سوچا آپ یہ سورۃ مکمل کر کے پھر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی پھر آپ نے سورہ ال عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ رکوع میں گئے اور تقریبا اتنی دیر رکوع میں رہے جتنا آپ نے قیام کیا تھا آپ اس میں سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا۔سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا ولک الحمد پڑھا پھر آپ نے اتنا طویل قیام کیا پھر آپ سجدے میں گئے تو آپ نے سجدے کو طول دیا سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ پڑھتے رہے (اس تلاوت کے دوران ) آپ جب بھی خوف دلانے یا عظمت کے اظہار والی کسی آیت کی تلاوت کر تے تھے تو آپ اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2609

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2610

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغُضَائِرِيُّ بِحَلَبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً» ، تُرِيدُ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ (1) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ اتنی دیر سجدے میں ٹھہرے رہتے تھے جتنی دیر میں کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ کی مراد یہ تھی آپ رات کی نفل نماز میں ایسا کیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغُضَائِرِيُّ بِحَلَبَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2610

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2611

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً» (2) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ رات کے وقت تیرہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2611

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2612

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، وَاضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْإِقَامَةِ» (1) . [5: 47]

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ عشاء کی نماز جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعات اداکیا کرتے تھے ۔ آپ ہر دو رکعات اداکرنے کے بعد سلام پھیردیا کرتے تھے۔ آپ ایک رکعت کے ذریعے وتر ادا کرلیا کرتے تھے جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوتا اور صبح صادق ہو جاتی اور مؤذن آجاتا تو آپ اٹھ کر دو مختصر رکعات ادا کر لیتے پھر آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتی یہاں تک کے مؤذن آپ کو بلانے آجاتا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2612

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2613

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ، عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً» (2) . [5: 1]

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے سوال کیا۔ رمضان میں نبی اکرمﷺ کی نفل نماز کیسے ہوتی تھی؟ سیدہ عائشہ ؓ نے بتایا: نبی اکرمﷺ رمضان میں یا رمضان کے علاوہ گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2613

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2614

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ، فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ، يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ» (1) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ رات کے وقت گیارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے آپ کی نماز یہی ہوتی تھی۔ آپ اس میں اتنا(طویل) سجدہ کرتے تھے جتنی دیر تم میں سے کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کرتا ہے اور آپ فجر سے پہلے دورکعات ادا کرتے تھے آپ دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے یہاں تک کہ مؤذن آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے آجاتا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2614

chevron_left Previous
1…383940…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr