Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2597

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُوسٍ، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ عَبْدَ الْكَرِيمِ أَبَا أُمَيَّةَ، فَقَالَ: قُلْ: «أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ رات کے وقت جب تہجد کی نماز ادا کرنے کےلئے کھڑے ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ اے اللہ! حمد دتیرے ہی لئے مخصوص ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا نور ہے حمد تیرے لئے مخصوص ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لئے مخصوص ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا بادشاہ ہے حمد تیرے لئے مخصوص ہے تو حق ہے تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے تیرا وعدہ ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے قیامت حق ہے انبیاء حق ہیں حضرت محمد ﷺ حق ہیں اے اللہ! میں تجھ پر ہی ایمان لایا اور تیرے ہی لئے اسلام قبول کیا تجھ پر ہی توکل کیا تیری طرف رجوع کیا تیری مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں تجھے ہی ثالث مقرر کرتا ہوں میں نے جو پہلے کیا جو بعد میں کروں گا جو پوشیدہ طور پر کیا جو علانیہ طور پر کیا ان سب کی مغفرت کردے تو ہی آگے کرنے والا ہے تو ہی پیچھے کرنے والا ہے صرف توں ہی معبود ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں اس میں عبدالکریم نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ الفاظ عبدالکریم ابوامیہ کے سامنے بیان کئے تو وہ بولے تم یہ پڑھو۔ تو میرا معبود ہے صرف تو ہی معبود ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔

طَاوُوسٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2597

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1989

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، حدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیْفَۃَ، عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النَّبَیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یَقْنُتْ وَصَلَّیْتُ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرِ فَلَمْ یَقْنُتْ، وَصَلَّیْتُ خَلفَ عُمَرَ، فَلَمْ یَقْنُتْ، وَصَلَّیْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ، فَلَمْ یَقْنُتْ، وَصَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیٍّ، فَلَمْ یَقْنُتْ ثُمَّ قَالَ: یَا بُنَیَّ اِنَّھَا بِدْعَۃٌ

ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے نماز ادا کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے قنوت نازلہ نہیں پڑھی۔ میں نے حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے بھی نماز اداکی ہے۔ انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی۔ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے بھی نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی۔ میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کے پیچھے بھی نماز ادا کی۔ انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی۔ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی۔ ( پھر ان کے والد ) نے فرمایا: اے میرے ! بیٹے یہ بدعت ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1989

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1990

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللہِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَلِّمُ عَنْ یَّمِیْنِہٖ حَتّٰی یَبْدُوَبَیَاضُ خَدِّہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، وَعَنْ یَّسَارِہِ مِثْلَ ذٰلِکَ

حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ دائیں طرف سلام پھیرتے تھے‘ یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نمایاں ہوتی تھی۔ آپ السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے تھے اور آپ بائیں طرف بھی اسی طرح سلام پھیرتے تھے۔

یَّمِیْنِہٖ حَتّٰی یَبْدُوَبَیَاضُ خَدِّہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، وَعَنْ یَّسَارِہِ مِثْلَ ذٰلِکَ ← کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یُسَلِّمُ ← عَبْدُاللٰہِ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1990

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1991

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ النَّرْسِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللہِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَلِّمُ عَنْ یَّمِیْنِہٖ، وَعَنْ شِمَالِہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، حَتّٰی یَرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ

حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: نماز میں نبی اکرمﷺ دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئےالسلام علیکم ورحمتہ اللہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔

یَّمِیْنِہٖ ← کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یُسَلِّمُ ← عَبْدُاللٰہِ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1991

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1992

اَخْبَرَنَا اَلْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَلِّمُ عَنْ یَّمِیْنِہٖ، وَعَنْ یَّسَارِہِ، حَتّٰی یَرٰی بَیَاضُ خَدِّہٖ۔ فَقَالَ الزُّھْرِیُّ: لَمْ یُسْمَعْ ھٰذَا الْخَبَرُ مِنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ اِسْمَاعِیْلُ: کُلَّ حَدِیْثِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالثُّلُثَیْنِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالنِّصْفَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَھُوَ مِنَ النِّصْفِ الَّذِی لَمْ تَسْمَعْ

عامر بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ہے‘ یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔ زہری نے یہ بات بیان کی یہ روایت نبی اکرمﷺ کی حدیث کے طور پر نہیں سنی گئی ہے۔ اسماعیل نے کہا: کیا نبی اکرمﷺ کی ہر حدیث تم نے سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اسماعیل نے دریافت کیا: دو تہائی سن رکھی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اسماعیل نے دریافت کیا نصف سن رکھی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں‘ تو اسماعیل نے کہا: یہ نصف حصے سے تعلق رکھتی ہیں‘ جن کو تم نے نہیں سنا ہے۔

فَھُوَ مِنَ النِّصْفِ الَّذِی لَمْ تَسْمَعْ ← لَا۔ ← فَالنِّصْفَ؟ ← لَا۔ ← فَالثُّلُثَیْنِ؟ ← لَا۔ ← اِسْمَاعِیْلُ: کُلَّ حَدِیْثِ النَّبِیِّ ← الزُّھْرِیُّ: لَمْ یُسْمَعْ ھٰذَا الْخَبَرُ مِنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللہِ ← يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ← یَّمِیْنِہٖ ← «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُسَلِّمُ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُاللٰہِ، ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1992

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1993

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللہِ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُسَلِّمُ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ یَّسَارِہِ، حَتّٰی یُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ،السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔

حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے‘ یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔ آپ السلام علیکم ورحمتہ اللہ‘ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘ کہا کرتے تھے۔

عَبْدُاللٰہِ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1993

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1994

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ اَبِیْ مُزَاحِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَضَّاحٍ، عَنْ زَکَرِیَّا، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللہِ، قَالَ: مَا نَسِیتُ مِنَ الْاَشْیَاءِ، فَاِنِّیْ لَمْ اَنَسَ تَسْلِیْمَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہِ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، ثُمَّ قَالَ: کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی بَیَاضِ خَدَّیْہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: میں سب کچھ بھول سکتا ہوں لیکن یہ بات نہیں بھول سکتا۔ نبی اکرمﷺ نماز کے دوران دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا کرتے تھے۔ پھر حضرت عبداللہؓ نے فرمایا: نبی اکرمﷺ کے رخساروں کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔

کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی بَیَاضِ خَدَّیْہِ ← یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہِ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ، ثُمَّ ← مَا نَسِیتُ مِنَ الْاَشْیَاءِ، فَاِنِّیْ لَمْ اَنَسَ تَسْلِیْمَ رَسُوْلِ اللہِ فِی الصَّلَاۃِ ← عَبْدُاللٰہِ، ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَضَّاحٍ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1994

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1995

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِی السَّرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ زُھَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمَۃً وَاحِدَۃً عَنْ یَّمِیْنِہٖ یَمِیلُ بِھَا وَجْھُہُ اِلَی الْقِبْلَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ صرف ایک مرتبہ اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے تھے جس میں آپ اپنے چہرے کو کسی حد تک قبلہ کی طرف مائل رکھتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُوبْنُ اَبِیْ سَلَمَۃَ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1995

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1996

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ کَثِیْرٍ الْعَبْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ السُّدِّیِّ، قَالَ: سَمِعْتَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ: اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَنْصَرِفُ عَنْ یَّمِیْنِہٖ۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ (نماز پڑھنے کے بعد ) دائیں طرف سے اٹھا کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُبْنُ کَثِیْرٍ الْعَبْدِیُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1996

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1997

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سُلَیْمَانَ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: لَا یَجْعَلْ اَحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ جُزْئًا مِنْ نَفْسِہٖ، یَرٰی اَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ اَنْ یَّنْصَرِفَ اِلَّا عَنْ یَّمِیْنِہٖ، فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَکْثَرُ انْصِرَافِہِ عَنْ یَّسَارِہٖ۔

حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں: کوئی بھی شخص اپنی ذات کے حوالے سے شیطان کا حصہ نہ رکھے و ہ یہ نہ سمجھے‘ اس پر یہ بات لازم ہے‘( وہ نماز پڑھنے کے بعد ) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو اکثر اوقات بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔

الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1997

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (1) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب نصف رات کے وقت نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ اے اللہ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ حمد تیرے لئے مخصوص ہے۔ تو آ سمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے ۔ حمد تیرے لئے مخصوص ہے۔ تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا پر وردگار ہے۔ تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے۔ تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے قیامت حق ہے ۔ اے اللہ ! میں نے تیرے لئے اسلام قبول کیا ہے ۔ تجھ پر ہی ایمان لایا تجھ پر ہی توکل کیا تیری ہی طرف رجوع کیا تیری مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں اور تجھے ہی ثالث مقرر کرتا ہوں میں نے جو پہلے کیا اور جو بعد میں کروں گا جو پوشیدہ طور پر کیا اور جو اعلانیہ طور پر کیا تو ان سب کی مغفرت کر دے تو میرا معبود ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← أَبِي الزبير المكي ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2598

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2599

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (1) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں جب آپ رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو تکبیر کہتے پھر یہ پڑ ھتے تھے: اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے توآسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لئے مخصوص ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا پروردگار ہے تو حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لئے اسلام قبول کیا میں تجھ پر ہی ایمان لایا میں نے تجھ پر ہی توکل کیا تیری ہی طرف رجوع کیا میں تجھے ہی ثالث سمجھتا ہوں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اے اللہ! میں نے جو پہلے کیا جو بعد میں کروں گا جو پوشیدہ طور پر کیا اور جو علانیہ طور پر کیا ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کردے تو میرا معبور ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبور نہیں ہے۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2599

chevron_left Previous
1…363738…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr