Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1984

اَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِی، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُبْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ حَرْمَلَۃَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافِ بْنِ رَحَضَۃَ الْغَفَارِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ خُفَافٍ، قَالَ: رَکَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ، ثُمَّ رَفَعَ رَاسَہٗ، فَقَالَ: غِفَارٌ غَفَرَاللہُ لَھَا، وَاَسْلَمُ، سَالَمَھَا اللہُ، وَعُصَیَّۃُ، عَصَتِ اللہَ وَرَسُوْلَہِ، اللّٰھُمَّ الْعَنْ بَنِیْ لَحْیَانَ، اللّٰھُمَّ الْعَنْ رِعْلًا، وَذَکْوَانَ، ثُمَّ کَبَّرَ، وَوَقَعَ سَاجِدًا قَالَ: فَجَعَلَ لَعْنَۃَ الْکَفَرَۃِ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ

حارث بن خفاف غفاری اپنے والد حضرت خفاف ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نماز کے دوران رکوع میں گئے پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اورارشاد فرمایا: ’’غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے عصیہ قبیلے‘‘ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اے اللہ! بنولحیان پر لعنت کر اے اللہ ! رعل اور ذکوان( قبیلوں ) پر لعنت کر۔ پھر نبی اکرمﷺ تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہے کفار پر لعنت اسی وجہ سے کی جاتی ہے

اَبِیْہِ خُفَافٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ خُفَافِ بْنِ رَحَضَۃَ الْغَفَارِیِّ، ← خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ حَرْمَلَۃَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1984

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1985

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُجَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ یَّحْییٰ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَنَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَھْرًا بَعْدَ الرُّکُوْعِ وَیَدْعُو عَلٰی اَحْیَاءٍ مِنْ اَحْیَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَکَہُ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عربوں کے بعض قبائل کے خلاف دعائے ضرر کرتے رہے‘ پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُجَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1985

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1986

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھَیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَنَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ شَھْرًا، یَقُوْلُ فِیْ قُنُوتِہِ: اللّٰھُمَّ اَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، اللّٰھُمَّ نَجِّ سَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ، اللّٰھُمَّ نَجِّ عَیَّاشَ بْنَ اَبِیْ رَبِیعَۃَ، اللّٰھُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ، اللّٰھُمَّ اشْدُدْ وَطْاَتَکَ عَلٰی مُضَرَ، اللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا عَلَیْھِمْ سِنِیْنَ کَسِنِیْ یُوْسُفَ قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: وَاَصْبَحَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ، فَلَمْ یَدَعْ لَھُمْ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَمَا تَرَاھُمْ قَدْقَدِمُوْاْ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عشاء کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی تھی‘ آپ قنوت نازلہ میں یہ پڑھتے تھے، اے اللہ! تو ولید بن ولید کو نجات عطا کر اے اللہ! تو سلمہ بن ہشام کو نجات عطا کر عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا کر اے اللہ! تو کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر‘ اے اللہ! ان پر حضرت یوسف ؑ کے زمانے کی قحط سالی مسلط کر دے‘‘۔ حضرت ابویریرہؓ فرماتے ہیں: ایک دن نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کے لئے دعا نہیں کی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ کیا‘ تو آپ نے فرمایا: تم نے دیکھا نہیں‘ وہ لوگ آگئے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1986

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1987

اَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِی السَّرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، حِیْنَ رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الرَّکْعَۃِ الْاٰخِرَۃِ، ثُمَّ قَالَ: اللّٰھُمَّ الْعَنْ، فُلَانًا وَفُلَانًا دَعَا عَلٰی اُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ، فَاَنْزَلَ اللہُ: ( لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ، اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ، اَوْ یُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ )

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کو فجر کی نماز میں سنا‘ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا ‘ تو آپ نے یہ پڑھا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ہر دوسری رکعت میں ہوا تھا‘ پھر آپ نے یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت کر‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے منافقین سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف دعائے ضرر کی تھی‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی: ’’ تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں ‘ توبہ کی توفیق دے، یا انہیں عذاب دے بےشک وہ لوگ ظالم ہیں‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1987

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 1988

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَبِیْبِ بْنِ عَرَبِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ یَدْعُو عَلٰی اَقْوَامٍ فِیْ قُنُوتِہٖ، فَاَنْزَلَ اللہُ: ( لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْ یُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ )

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ قنوت نازلہ کے دوران کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرر کیا کرتے تھے‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ’’ تمہارا اس معاملے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں‘ توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے بےشک وہ لوگ ظالم ہیں۔‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 1988

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2590

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُخْبِرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا» (1) . [3: 4]

حضرت عبداللہ بن عمرو العاص ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین نماز حضرت داؤد ؑ کی نماز ہے وہ نصف رات سوئے رہتے تھے اور ایک تہائی رات میں نوافل ادا کرتے تھے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سو جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین روزہ رکھنے کا طریقہ حضرت داؤد ﷺ کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔

النَّبِيِّ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُخْبِرُ، ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ ← مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2590

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2591

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ» (1) . [5: 1]

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو آپ مسواک کیا کرتے تھے۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2591

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2592

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، «وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي» ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ (2) مِثْلَ ثُمَّ ذَھَبْتُ فَقُمْتُ اِلٰی جَنْبِہٖ ، فَوَضَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رَاْسِی ، فَاَخَذَ بِاُذُنِی الْیُمْنٰی یَفْتِلُھَا ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ اَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی جَائَہٗ الْمُؤَ ذِّنُ ، فَقَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ ؓ کے ہاں رات بسر کی جو حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی خالہ تھیں وہ بیان کرتے ہیں۔ میں بستر پر چوڑائی کی سمت لیٹ گیا۔ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی اہلیہ لمبائی کی سمت میں لیٹ گئے۔ نبی اکرمﷺ سوگئے یہاں تک کہ جب نصف رات ہوئی یا شاید اس سے کچھ پہلے یا بعد کی بات ہے تو نبی اکرمﷺ بیدار ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیند کے اثرات کو دور کیا پھرآپ نے سورۃآل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھےآپ نے اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں اٹھا میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح نبی اکرمﷺ نے کیا تھا پھر میں آیا اور آ کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کا ن کو پکڑ کر اسے ملنے لگے آپ نے دورکعات نماز ادا کی پھر آپ دو رکعات ادا کی پھر دورکعات ادا کی پھر دو رکعات ادا کی پھر دو رکعات ادا کی پھر آپ نے وتر ادا کئے۔ پھر آپ لیٹ گئے (پھر سو گئے) یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اٹھے آپ نے دو مختصر رکعات ادا کی پھر آپ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ وَهِيَ خَالَتُهُ، ← كُرَيْبٍ، ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2592

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2593

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَإِلَّا نَامَ، فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ - وَمَا قَالَتْ: قَامَ - فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ - وَمَا قَالَتِ: اغْتَسَلَ - وَإِلَّا تَوَضَّأَ، وَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ» (1) . [5: 47]

اسود بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے۔ پھر آپ بیدار ہو کر نماز ادا کرتے تھے جب سحری کا وقت قریب آجاتا تھا تو آپ وتر ادا کر لیتے تھے اگر آپ کو اپنی اہلیہ سے کوئی حاجت ہوتی تھی تو اسے پورا کرتے تھے ورنہ سو جاتے تھےپھر آپ اذان کی آواز سنتے تھے تو اٹھ جاتے تھے اگر آپ جنابت کی حالت میں ہوتے تھے تو آدپ غسل کر لیتے تھے اور ورنہ وضو کر کے نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے (یہاں راوی نے کچھ الفاظ کی وضاحت کی ہے)

الْأَسْوَدِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2593

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2594

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:329] الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، وَكَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ، يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ *»، ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ»

حضرت ربیع بن کعب اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں : میں ایک مرتبہ رات کے وقت نبی اکرمﷺ کے ساتھ میں آپ کے وضو اور قضائے حاجت کے لئے پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے یہ پڑھتے رہے۔ پاک ہے میرا پروردگار اور حمد اسی کےلئےمخصوص ہے پاک ہے میرا پروردگار حمد اسی کے لئے مخصوص ہےآپ خاصی دیر یہ پڑھتے رہے پھر آپ یہ پڑھتے رہے۔ پاک ہے تمام جہانوں کا پروردگار اور پاک ہے تمام جہانوں کا پروردگار آپ خاصی دیر یہ پڑھتے رہے۔

«سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ» ← «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ ثُمَّ ← كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، وَكَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ، ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← [ص:329] الْأَوْزَاعِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2594

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2595

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ» ، ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ» (1) .

حضرت ربیع بن کعب اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کے حجرے کےپاس رات بسر کی جب آپ رات کے وقت نوافل ادا کر رہے تھے تو میں آپ کو سنتا رہا آپ یہ پڑھ رہے تھے: تمام جہانوں کا پروردگار پاک ہے۔ آپ خاصی دیر یہ پڑھتے رہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے حمد اسی کےلئے مخصوص ہے۔

«سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ» ← «سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ» ثُمَّ ← كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ وَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2595

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2596

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ (2) بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، رَبِّ اغْفِرْ لِي، غُفِرَ لَهُ، وَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ» قَالَ الْوَلِيدُ: قَالَ: «غُفِرَ لَهُ، أَوِ اسْتُجِيبَ لَهُ» (1) . [1: 2]

حضرت عبادہ بن صامت ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور بیدار ہونے کے بعد یہ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کےلئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اے اللہ! تو میری مغفرت کردے۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے رہے) اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے اگر وہ اٹھ کر وضو کرے اور نماز ادا کرے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔ ولید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ اس شخص کی مغفرت ہوجاتی ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے اس شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2596

chevron_left Previous
1…353637…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr