Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2577

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ وَثُقْلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ» (1) . [1: 67]

حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ سفر مشقت اور بوجھ کا باعث ہوتاہے تو جب کوئی شخص وتر ادا کرے تو اسے دو رکعات ادا کر لینی چاہئے اگر وہ (فجر کی نماز کے وقت ) بیدار ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ دونوں کے لئے کافی ہوں گی۔

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ، ← ثَوْبَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← شُرَيْحٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2577

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2578

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟» فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: «مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟» قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ: «مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ» ، فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ أَشْرَفُهُمْ: وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ (1) ، مَا مَنَعَنِي أَنْ لَا أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ لَا أَقُومَ بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا تَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ» (2) . [3: 28]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ لوگ تھے نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آ تا ہے؟ نبی اکرمﷺ ان سے قرأت کے بارے میں دریافت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا گزر ان میں سے ایک ایسے شخص پر ہوا جو ان میں سب سے کم سن تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ اس نے عرض کی: مجھے فلاں فلاں سورتیں اور سورۃ بقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ بقرہ آتی ہے؟اس نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تم ہی ان لوگوں کے امیر ہو تو ایک صاحب جو ان میں بڑے معزز تھے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم جس میں یہ یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں میں نے قرآن کا علم صرف اس لئے حاصل نہیں کیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کرسکوں گا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت بھی کرو اور سو بھی جایا کرو جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتاہے اور پھر (نوافل میں ) ان کی تلاوت کرتاہے اس کی مثال ایک ایسے مشکیزے کی مانند ہے جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کرلے اور سو جائے وہ قرآن اس کے ذہن میں ہو تو اس کی مثال ایسے مشکیزے کی طرح ہے جس میں مشک موجود ہو لیکن اس کا منہ بند کردیا گیاہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2578

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2579

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَامَ (1) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا» (2) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سوگئے یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی۔ نصف رات سے کچھ پہلے یا بعد کا وقت تھا نبی اکرمﷺ بیدار ہوئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیندکے اثرات کو دور کیا، پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی اس کے بعد آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے اور آپ نے اس سے وضو کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2579

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2580

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا (1) ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا» (2) . [5: 1]

سیّدہ حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں : (بعض اوقات) نبی اکرمﷺ بیٹھ کر نوافل ادا کرنا شروع کرتے تھے آپ جس سورت کی تلاوت کرتے تھے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنی سے طویل سورۃ سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔

حَفْصَۃَ: أَنَّھَا ← الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2580

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: مَا (3) صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: «كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، فَيَسْمَعُ مَنْ كَانَ خَارِجًا» (1) . [5: 1]

۔کریب بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سوال کیا میں نے کہا: نبی اکرمﷺ رات کے وقت کیسے نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ اپنے حجرے میں تلاوت کررہے ہوتے تھے اور حجرے کے باہر موجود شخص اسے سن سکتا تھا۔

«كَانَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، فَيَسْمَعُ مَنْ كَانَ خَارِجًا» ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ بِاللَّيْلِ؟ ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2581

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1973

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ الْبَزَّارُ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُ رَیْعٍ، وَیَحْیِی الْقَطَّانُ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْنِیُّ، عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَھْرًا بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَدْعُو عَلیٰ حَیٍّ مِنْ اَحْیَاءِ الْعَرَبِ، رِعْلٍ، وَذَکْوَانَ، وَقَالَ: عُصَیَّۃٌ عَصَتِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ اَبُوْ مِجْلَزٍ اسْمُہٗ: لَا حِقُ بْنُ حُمَیْدٍ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عربوں کے کچھ قبائل رعل اور ذکوان کے خلاف دعائے ضرر کرتے رہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عصیہ قبیلے کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔‘‘ ابومجلز نامی راوی کا نام لاحق بن حمید ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← سُلَیْمَانُ التَّیْنِیُّ، ← یَزِیدُ بْنُ زُ رَیْعٍ، وَیَحْیِی الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ الْبَزَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1973

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1974

اَخْبَرَنَا اَبُوْا یَعْلٰی، قَالَ : حَدَّثَنَاکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ اَبِی الْعَلَاءِ، عَنْ شَدَّادِبْنِ اَوْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ صَلَاتِہٖ: اللہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلّکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ، وَعَزِیمَۃَ الرُّشْدِ، وَشُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا، وَاَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ، وَاَعُوذَبِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ

حضرت شداد بن اوسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نماز میں یہ پڑھا کرتے تھے۔ ’’ اے اللہ! میں ایمان پرثابت قدمی کا ہدایت میں عزیمت کا تیری نعمتوں پر شکر کا تیری اچھے طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تجھ سے سلامتی والے دل کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور میں ہر اس چیز ( یعنی گناہ یا کوتاہی کے حوالے) سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہو‘‘۔

شَدَّادِبْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَدَّثَنَاکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ، ← اَبُوْا یَعْلٰی،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1974

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1975

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، حَدَّثَنَا اِسْحَا قُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَرِیُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ صُھَیْبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھَمَسَ شَیْئًا لَا نَفْھَمُہٗ، فَقَالَ: اَفَطِنْتُمْ لِی؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: اِنِّی ذَکَرْتُ نَبِیًّا مِنَ الْاَنْبِیَاءِ اُعْطِیَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِہٖ فَقَالَ: مَنْ یَّقُوْمُ لِھٰؤُلَاءِ؟ فَاَوْحَی اللہُ اِلَیْہِ: اَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِکَ اِحْدٰی ثَلَاثٍ: اِمَّا اَنْ اُسَلَّطَ عَلَیْھِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِھِمْ، اَوِ الْجُوْعَ، اَوِ الْمَوْتَ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَہٗ فِیْ ذٰلِکَ، فَقَالُوْا: اَنْتَ نَبِیُّ اللہِ نَکِلُ ذٰلِکَ اِلَیْکَ خِرْلَنَا، فَقَامَ اِلٰی صَلَاتِہٖ۔ وَکَانُوا اِذَا فَزِعُوْا فَزِعُوْا اِلَی الصَّلَاۃِ۔ فَصَلّٰی مَا شَاءَاللہُ، فَقَالَ:اَیْ رَبِّ اَمَّا عَدُوُّھُمْ مِنْ غَیْرِھِمْ وَالْجُوْعُ فَلَا، وَلٰکِنِ الْمَوتُ، فَسُلِّطَ عَلَیْھِمُ الْمَوْتَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، فَمَاتَ مِنْھُمْ سَبْعُونَ اَلْفًا، فَھَمْسِی الَّذِی تَرَوْنَ اَنْ اَقُوْلَ : اللّٰہُمَّ بِکَ اُقَاتِلُ، وَبِکَ اُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ

حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پست آواز میں کوئی بات کہی جس کو ہم سمجھ نہیں سکے۔ آپ نے دریافت کیا :کیا تم نے میری بات سمجھ لی ہے ہم نے عرض کی :جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :میں نے ایک نبی کا ذکر کیا ہے جنہیں ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لشکر دیئے گئے‘ تو انہوں نے دریافت کیا :کون ان کا سامنا کرسکتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی تم اپنی قوم میں سے ایک تہائی حصے کو اختیار کرو یا تو میں ان پر ایسا دشمن مسلط کروں گا‘ جو دوسروں میں سے ہوگا یا ان پر بھوک یا موت مسلط کردوں گا۔ اس نبی نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ ان لوگوں نے عرض کی :اے اللہ کے نبی! ہم یہ معاملہ آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے اسے اختیار کر لیجئے‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے‘ تو نماز کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس نبی نے جتنا اللہ کو منظور تھا نماز ادا کی پھر انہوں نے عرض کی :اے میرے پروردگار جہاں تک دوسری قوم سے تعلق رکھنے والے ان کے دشمن کے تسلط کا تعلق ہےیا بھوک کا تعلق ہے‘ تو وہ ان پر مسلط نہ ہو‘ البتہ موت ہو جائے‘ تو ان پر تین دن تک کی موت کو مسلط کیا گیا تو ان میں سے ستر ہزار لوگ انتقال کر گئے۔ ابھی جو تم نے میری سرگوشی دیکھی تھی۔ اس میں‘ میں نے یہ دعا کی تھی۔ ’’اے اللہ! میں تیری مدد سے لڑائی کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘

اَفَطِنْتُمْ لِی؟ قُلْنَا: نَعَمْ، ← کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ھَمَسَ شَیْئًا لَا نَفْھَمُہٗ، ← صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← اِسْحَا قُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَرِیُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1975

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1976

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ الطَّیَالِسِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ یَّزِیدِ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ اَبِی الْخَیْرِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّہٗ قَالَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِیْ دُعَاءً اَدْعُو بِہٖ فِیْ صَلَاتِی، قَالَ: قُلِ: اللّٰہُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِی ظُلْمًا کَثِیْرًا وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ، فَاغْفِرْلِی، مَغْفِرَۃً مِنْ عِنْدِکَ، وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ

حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی۔ آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم دیجئے جو میں نماز کے دوران مانگ لیا کروں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ پڑھا کرو۔ ’’ اے اللہ! میں نے اپنے اوپر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے‘ تو اپنی بارگاہ سے میری مغفرت عطا کر دے اور مجھ پر رحم کر بے شک تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔

لِرَسُولِ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي. ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1976

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1977

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیٍّ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِذَا سَجَدَ قَالَ: اللّٰھُمَّ لَکَ سَجَدْتُ، وَبِکَ اَمَنْتُ، وَلَکَ اَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِی لَلَّذِی خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ فَاَحْسَنَ صُوَرَہُ، وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہُ، فَتَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب سجدے میں جاتے تو یہ پڑھتے تھے: ’’ اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرے لئے اسلام قبول کیا۔ میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے‘ جس نے اسے پیدا کیا اسے شکل و صورت عطا کی ہے اور بڑی خوبصورت شکل و صورت عطا کی ہے‘ جس نے اسے سماعت اور بصارت عطا کی ہے‘ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے‘ جو سب سے بہترین خالق ہے‘‘۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا سَجَدَ ← عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ، ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، ← هاشم بن القاسم ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1977

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1978

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جَرِیحٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا سَجَدَ فِی الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ، قَالَ: اللّٰھُمَّ لَکَ سَجَدْتُ، وَبِکَ اَمَنْتُ، وَلَکَ اَسْلَمْتُ، اَنْتَ رَبِّی، سَجَدَ وَجْھِی لِلَّذِی خَلَقَہُ ، وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہُ، تَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ

حضرت علی بن ابوطالبؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب فرض نماز کے دوران سجدے میں جاتے تھے‘ تو یہ پڑھتے تھے۔ ’’ اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا ‘ اور تجھ پر ہی ایمان لایا ۔تیرے لئے اسلام قبول کیا‘ تو میرا پروردگار ہے میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے‘ جس نے اسے پیدا کیا جس نے اسے سماعت اور بصارت عطا کی ہے‘ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے‘ جو سب سے بہترین خالق ہے‘‘۔

کَانَ النَّبِیُّ اِذَا سَجَدَ فِی الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِاللہِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1978

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1979

اَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیسَ الْخَوْلَانِیِّ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فَسَمِعْتُہٗ، یَقُوْلُ: اَعُوذُ بِاللہِ مِنْکَ ثُمَّ قَالَ: اَلْعَنُکَ بِلَعْنَۃِ اللہِ۔ ثَلَاثًا۔ ثُمَّ بَسَطَ یَدَہٗ کَاَنَّہٗ یَتَنَاوَلُ شَیْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاۃِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ قَدْ سَمِعْنَاکَ تَقُوْلُ فِیْ صَلَاتِکَ شَیْئًا لَمْ نَسْمَعْکَ تَقُوْلُ مِثْلَ ذٰلِکَ، وَرَاَیْنَاکَ بَسَطْتَ یَدَکَ، قَالَ: اِنَّ عَدُوَّاللہِ اِبْلِیْسَ جَاءَ بِشِھَابٍ مِنْ نَارٍ لِیَجْعَلَہٗ فِیْ وَجْھِی، فَقُلْتُ: اَعُوْذُ بِاللہِ مِنْکَ، فَلَمْ یَسْتَاْخِرْ، ثُمَّ قُلْتُ ذٰلِکَ، فَلَمْ یَسْتَاْخِرْ، ثُمَّ قُلْتُ، فَلَمْ یَسْتَاْخِرْ، فَاَرَدْتُ اَنْ اَخْنُقَہُ، فَلَوْلَا دَعْوَۃُ اَخِی سُلَیْمَانَ لَاَصْبَحَ مُوثَقًا یَلْعَبُ بِہٖ صِبْیَانُ اَھْلِ الْمَدِینَۃِ

حضرت ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے‘ تو میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: ’’ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’ میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہوں جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے‘ تو حضرت ابودرداء نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایسی چیز کہتے ہوئے سنا ہے‘ ہم نے اس طرح کی بات کہتے ہوئے آپ کو پہلے نہیں سنا اور ہم نے دیکھا‘ آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تھا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا انگارہ لے کر میرے پاس آیا تھا تاکہ اسے میرےچہرے پر لگائے‘ تو میں نے کہا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں وہ پیچھے نہیں ہٹا پھرمیں نے یہ بات کہی وہ پھرپیچھے نہیں ہٹا پھر میں نے یہ بات کہی وہ پھر پیچھے نہیں ہٹا تو میں نے یہ ارادہ کیا‘ میں اس کا گلہ دبا دیتا ہوں اگر میرے بھائی حضرت سلیمانؑ کی دعا نہ ہوتی‘ تو وہ صبح بندھا ہوا ہوتا جس کے ساتھ مدینہ منورہ کے بچے کھیل رہے ہوتے‘‘۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثُمَّ ← قَامَ رَسُوْلُ اللہِ یُصَلِّیْ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1979

chevron_left Previous
1…333435…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr