Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2565

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ (2) ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ» (1) . [1: 2]

حضرت جابرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم میں سے جس شخص کو یہ اندیشہ ہو وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہیں ہوسکے گا تو وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کرلے اور تم میں سے جس شخص کو یہ امید ہو وہ رات کے آخری حصے میں نوافل ادا کرے گا تو اسے رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا چاہئے کیونکہ رات کے آخری وقت میں کی جانے والی قرأت میں (فرشتوں کی ) حاضری ہوتی ہیں اور یہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2565

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1949

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَاتَقُوْلُوْا: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ، فَاِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ وَاَمَرَھُمْ بِالتَّشَھُّدِ: التَّحِیَّاتُ لَلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ پہلے یہ پڑھا کرتے تھے۔ اللہ تعالٰی پر سلام ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ نہ کہو اللہ تعالٰی پر سلام ہو کیونکہ اللہ تعالٰی خود سلامتی عطا کرنے والا ہے نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو تشہد (کہ یہ کلمات پڑھنے ) کا حکم دیا۔ تمام زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالٰی کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالٰی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ ہم پر اور اللہ تعالٰی کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

کُنَّا نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← حَمَّادٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1949

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1950

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُوْلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْاَعْمَشِ ، وَاَبِیْ ھَاشِمٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ،وَعَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْاَسْوَدِ ، وَاَبِی الْاَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: کُنَّا لَا نَدْرِی مَا نَقُوْلُ فِی الصَّلَاۃِ ، نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیلَ ، السَّلَامُ عَلٰی مِیکَائِیلَ، فَعَلَّمَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ، وَقَالَ: اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ ، فَاِذَا جَلَسْتُمْ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا: التَّحِیَّاتُ لِلہِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیَّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ ، وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ ۔ قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ : اِذَا قُلْتُھَا اَصَابَتْ کُلَّ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ، وَنَبِیٍّ مُرْسَلٍ، وَعَبْدٍ صَالِحٍ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہِ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٍا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:پہلے ہمیں یہ نہیں پتہ تھا، ہمیں نماز کیا پڑھنا چاہئے ، تو ہم یہ کہا کرتے تھے حضرت جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائیل پر سلام ہو پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں تعلیم دی آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالٰی تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو۔ تمام زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔ اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے منقول اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ (نبی اکرمﷺ نے فرمایا) جب تم یہ کلمات پڑھ لوگے تو ہر مقرب فرشتے ہر مرسل نبی اور ہر نیک بندے تک یہ سلام پہنچ جائے گا(تم یہ بھی پڑھو) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الأَسْوَدِ وَأَبِي الأَحْوَصِ ← أَبِي وَائِلٍ وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٍ، وَالْاَعْمَشِ وَاَبِیْ ھَاشِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1950

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1951

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَااَبُو الْعَلِیْدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، قَالاَ : اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللٰہِ ، قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرِی مَا نَقُوْلُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ، اِلَّا اَنْ نُسَبِّحَ وَنُکَبِّرَ وَنُحَمِّدَ اَبَّنَا ، وَاِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَیْرِ وَخَوَاتِمَہٗ ، اَوْ قَالَ جَوَامِعَہٗ ، وَاِنَّہٗ قَالَ لَنَا : اِذَا قَعَدْتُمْ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا : التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا اَعْجَبَہٗ ، فَلْیَدْعُ بِہِ رَبَّہُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا ‘ ہمیں دو رکعات پڑھنے کے بعد ( تشہد کے دوران ) کیا پڑھنا چاہئے صرف یہ پتہ تھا ‘ ہمیں تسبیح بیان کرنی چاہئے ، تکبیر پڑھنی چاہئے اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتی چاہئے۔ حضرت محمد ﷺ کو بھلائی کو کھولنے والی چیزوں اور بھلائی کے مجموعوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) بھلائی کے بارے میں جامع باتوں کا علم عطا کیا گیا۔ آپ نے ہم سے یہ فرمایا جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو تم یہ پڑھو : ’’ تمام زبانی ، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) پھر دعا کے بارے میں آدمی کو اختیار ہے وہ جو چاہے اپنے پروردگار سے دعا مانگے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← حَدَّثَنَااَبُو الْعَلِیْدِ وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1951

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1952

اَخْبَرَنَا اَجْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی ، حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ ، حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ اَبُو الزُّبَیْرِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ :التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّہِ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلَّامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّہِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ( تشہد کے کلمات یہ ہیں ) ’’ برکت والی زبان عبادات اور پاکیزہ دعائیں اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← اَجْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1952

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1953

اَخْبَرَنَا بْنُ قُتَیْبَۃَ ، مِنْ کِتَا بِہٖ ، قَالَ :حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْھِبٍ ، قَالَ :اَخْبَرَنِی اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَطَاوٗسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ ، کَانَ یَقُوْلُ :التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّہِ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلَّامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّہِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے جس طرح ّپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔

کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ کَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بْنُ قُتَیْبَۃَ مِنْ کِتَا بِہٖ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1953

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1954

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّیْتُ ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَطَاوٗسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَکَانَ یَقُوْلُ :التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّہِ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلَّامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّہِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ پڑھا کرتے تھے: ’’ برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔

کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ فَکَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّیْتُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1954

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1955

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُوْنُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : کُنَّا اِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَی اللہِ قَبْلَ عِبَادِہٖ ، السَّلَامُ عَلیٰ جِبْرِیلَ ، السَّلَامُ عَلیٰ مِیکَا ئیلَ ، السَّلَامُ عَلیٰ فُلانٍ وَفُلَانٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ قَالَ : اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ ، فَاِذَا جَلَسَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلَاۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ اَوَّلِ قَوْلِہِ : التَّحِیَّاتُ لِلہِ ، وَالصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَلَّامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، فَاِذَا قَالَھَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، ثُمَّ یَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَءِ مَا اَحَبَّ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : پہلے ‘ جب ہم نبی اکرمﷺ کے پیچھے ( نماز کے دوران ) بیٹھتے تھے ‘ تو ہم یہ پڑھتے تھے اللہ تعالیٰ پر ’’ اس کے بندوں سے پہلے سلام ہو جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائیل پر سلام ہو فلاں پر اور فلاں پرسلام ہو جب نبی اکرمﷺ کے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے‘ جب کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھے تو اسے سب سے پہلے یہ پڑھ لینا چاہئے۔ ’’ تمام جسمانی اور زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہو، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔‘‘ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) جب بندہ یہ کلمات پڑھ لے گا ‘ تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک ( سلام ) پہنچ جائے گا۔ ( اس کے بعد آدمی یہ پڑھے )’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمدﷺ اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) پھر دعا کے حوالے سے آدمی کو اختیار ہے‘ جو وہ پسند کرے( وہ دعا مانگ لے )

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1955

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1956

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْجَرَادِیُّ، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ زُرَیْقٍ الرَّسْعَنِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ، عَنِ الْاَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَیْنٍ، وَاَبِیْ ھَاشِمٍ ، وَحَمَّادِ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ اَبِیْ وَائلٍ، وَاَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، وَالْاَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرَی مَا نَقُوْلُ فِی الصَّلَاۃِ، نَقُوْلُ : السَّلَامُ عَلَی اللہِ، السَّلَامُ عَلیٰ جِبْرِیلَ ، السَّلَامُ عَلیٰ مِیکَا ئیلَ ، فَعَلَّمَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ، فَاِذَا جَلَسْتُمْ فِیْ رَکْعَتَیْنِ، فَقُوْلُوْا : التَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَلَّامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ۔ قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ فِیْ حَدِیْثِہِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ اِذَا قُلْتَھَا، اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فَی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ ۔ وَقَالَ اَبُوْ اِسْحَاقَ فِیْ حَدِیْثِہِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ : اِذَا قُلْتَھَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ مُقَرَّبٍ وَنَبِیٍّ مُرْسَلٍ، اَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ ۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ہمیں یہ نہیں معلوم تھا ‘ نماز میں کیا پڑھیں۔ ہم یہ پڑھا کرتے تھے اللہ تعالیٰ پر سلام ہو حضرت جبرائیل پر سلام ہو۔ حضرت میکائیل پر سلام ہو‘ تو نبی اکرمﷺ نے ہمیں تعلیم دی۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ خود سلامتی عطا کرنے والا ہے‘ جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو۔ ’’ تمام زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہو، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں پر سلام ہو۔‘‘ ابو وائل نامی راوی نے اپنی روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔ ’’ جب تم یہ پڑھ لو گے تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک( تمہارا سلام ) پہنچ جائے گا۔‘‘ ابو اسحق نامی راوی نے اپنی روایت میں حضرت عبداللہ ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ ’’ جب تم انہیں پڑھ لو گے تو ہر مقرب بندے اور مرسل نبی ( راوی کو شک یے شاید یہ الفاط ہیں:) نیک بندے تک ( تمہارا سلام ) پہنچ جائے گا‘‘۔ ( پھر تم یہ پڑھو) ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ وَالْأَسْوَدِ ← اَبِیْ وَائلٍ، وَاَبِیْ اِسْحَاقَ، ← الْاَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَیْنٍ، وَاَبِیْ ھَاشِمٍ وَحَمَّادِ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، ← الثَّوْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْجَرَادِیُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1956

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1957

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعِرٍ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللہِ، قَدْعَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ ؟ قَالَ : قُوْلُوْا : اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَآلِ اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ، ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَآلِ اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ

حضرت کعب بن عجرہؓ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ( ﷺ ) ہمیں یہ تو پتہ چل گیا ہے‘ آپ پرسلام کیسے بھیجنا ہے‘ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو: ’’ اے اللہ !تو حضرت محمد اور حضرت محمد کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک تو لائق حمد ار بزرگی کا مالک ہے اور تو حضرت محمد اور حضرت محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی : بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘

قُلْنَا ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1957

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1958

(سند حدیث) : اَخْبَرَنَا عُمَرُبْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِیُّ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُجْمِرِ، اَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ الْاَنْصَارِیَّ، اَخْبَرَہُ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّہٗ قَالَ : اَتَانَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِیْ مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ بَشِیرُ بْنُ سَعْدٍ، اَمَرَنَا اللہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْ نُصَلِّیَ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ قَالَ : فَسَکَتْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی تَمَنَّیْنَا اَنَّہٗ لَمْ یَسْاَلْہُ، ثُمَّ قَالَ : قُوْلُوْا : اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ، ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، فِی الْعَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ، وَالسَّلَامُ کَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ

حضرت ابو مسعودؓ بیں کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت حضرت سعد بن عبادہ کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے‘ تو حضرت بشیر بن سعدؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے‘ ہم آپ پر درود بھیجیں‘ تو ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ خاموش رہے‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی‘ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو: ’’ اے اللہ !تو حضرت محمد اور حضرت محمد کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا‘ اور تو حضرت محمدپر اور حضرت محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی : بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا) سلام کا طریقہ اسی طرح ہے‘ جس طرح تم جان چکے ہو۔

نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، ← (سند حدیث)

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1958

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1959

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، وَکَتَبْتُہٗ مِنْ اَصْلِہِ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُو الْاَزْھَرِ اَحْمَدُ بْنُ الْاَزْھَرِ، وَکَتَبْتُہٗ مِنْ اَصْلَہِ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبِیْ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ : وَحَدَّثَنِیْ۔ فِی الصَّلَاۃِ عَلیٰ رَسُوْلِاللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلّٰی عَلَیْہِ فِیْ صَلَاتِہٖ۔ مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیُّ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ زَیْدِ عَبْدِ رَبِّہِ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: اَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَ یَدَی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَہٗ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ، اَمَّا السَّلَامُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ اِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِی صَلَاتِنَا، صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ حَتّٰی اَحْبَیْنَا اَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْاَلْہُ، قَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَقُوْلُوْا: اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ

امام ابن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق نامی راوی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ہو کہتے ہیں انہوں نے مجھے نبی اکرمﷺ پر درود بھیجنے کے بارے میں روایت بیان کی تھی جب کوئی شخص نماز کے دوران آپ پر درود بھیجتا ہے۔ حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اور نبی اکرمﷺ کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اس وقت ہم آپ کے پاس موجود تھے۔ اس شخص نے عرض کی : جہاں تک آپ پر سلام بھیجنے کا تعلق ہے اس کا ہمیں پتہ چل گیا ہے‘ جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں ‘ تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ خاموش رہے‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ بات پسند کی ‘ اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جب تم مجھ پر درود بھیجنے لگو تو تم یہ پڑھو۔ ’’ اے اللہ !تو امی نبی حضرت محمدﷺ اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت ابراہیم ؑ کی آل پر درود نازل کیا‘ اور تو امی نبی حضرت محمدﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پربرکت نازل کی : بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1959

chevron_left Previous
1…303132…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr