صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2565
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ (2) ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ» (1) . [1: 2]
حضرت جابرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم میں سے جس شخص کو یہ اندیشہ ہو وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہیں ہوسکے گا تو وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کرلے اور تم میں سے جس شخص کو یہ امید ہو وہ رات کے آخری حصے میں نوافل ادا کرے گا تو اسے رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا چاہئے کیونکہ رات کے آخری وقت میں کی جانے والی قرأت میں (فرشتوں کی ) حاضری ہوتی ہیں اور یہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2565
