Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2549

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟» قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا (1) . [4: 28]

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابی بن کعب ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! گزشتہ رات رمضان کے حوالے سے مجھے کچھ مشکل پیش آئی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: وہ کیاتھی؟ اے ابی! انہوں نے عرض کی : ہمارے گھر کی کچھ خواتین تھی۔ انہوں نے یہ کہاہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں ہم آپ کی نماز کی پیروی کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائی پھر میں نے وتر ادا کرلئے۔ (حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے گویا رضا مندی کا اظہار کیا آپ نے انہیں کچھ کہانہیں۔

جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Taraweeh · Hadith 2549

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1941

اَخقبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْھِبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُھَیْنَۃَ الْاَسَدِیِّ ، حَلِیْفِ بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَامَ مِنْ صَلَاۃِ الظُّھْرِ وَعَلَیْہِ جُلُوْس ، فَلَمَّا اَتَمَّ صَلَاتَہُ، سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِس قَبْلَ اَنْ یُسَلِّمَ، وَسَجَدَھُمَا النَّاسُ مَعَہٗ، مَکَانَ مَانَسِیَ مَنْ الْجُلُوْسِ

حضرت عبداللہ بن بحینہ اسدی ؓ جو عبدالمطلب کے حلیف ہیں وہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں اس وقت کھڑے ہوگئے، جب آپ پر بیٹھنا لازم تھا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کے دوران دو سجدے کئے۔ آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی یہ دو سجدے کئے یہ اس کی جگہ تھا جو بیٹھنا آپ بھول گئے تھے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ بُھَیْنَۃَ الْاَسَدِیِّ حَلِیْفِ بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← اَخقبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1941

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1942

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَحْمِدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُّسْلِمِ بْنِف اَبِیْ مَرْیَمَ عَنْ عَلِیّ بْنِ عَبْدِد الرَّحْمٰنِ الْمُعَاوِیِّ، اَنَّہٗ قَالَ: رَآنِیْ ابْنُ عُمَرَ وَآنَا اَعْبَثُ بِالْحَصَی فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصرَفَ نَھَابِیْ وَقَالَ: اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہ ِ وَسَلَّمَ، یَصْنَعُ، قَالَ: کَانَ اِذَا جَلَسَ فِی الصَّلَاۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی، وَقَبَضَ اَصَابَعَہُ کُلَّھَا ، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ الَّتِیْ تَلِی الْاِبْھَامَ ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْریٰ۔

علی بن عبدالرحمٰن معاوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجھے دیکھا، میں نماز کے دوران کنکریوں سے کھیل رہا تھا جب انہوں نے نماز مکمل کی تو مجھے (ایسا کرنے سے ) منع کیا، اور ارشاد فرمایا:تم اس طرح کرو جس طرح بنی اکرمﷺ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا: جب نبی اکرمﷺ نماز کے دوران بٹیھتے تھے ،تو آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنے دائیں زانوں پر رکھتے تھے۔ آپ اپنی تمام انگلیوں کو سمیٹ لیتے تھے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنے بائیں زانو پر رکھتے تھے۔

اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یَصْنَعُ، ← اَعْبَثُ بِالْحَصَی فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصرَفَ نَھَابِیْ ← رآني ابن عمر ← عَلِیّ بْنِ عَبْدِد الرَّحْمٰنِ الْمُعَاوِیِّ، اَنَّہٗ ← مُّسْلِمِ بْنِف اَبِیْ مَرْیَمَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1942

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1943

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبَیْہِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ، افْتَرَشَ الْیُسْریٰ، وَنَصبَ الْیُمْنَی ، وَوَضَعَ اِبْھَا مَہٗ عَلَی الْوُسْطَی ، وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْریٰ، وَاَلْقَمَ کَفَّہُ الْیُسْریٰ رُکْبَتَہٗ۔

عامر بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ جب دورکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھتے تھے، تو آپ بائیں ٹانگ کو بچھالیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیتے تھے۔ آپ اپنے انگوٹھے کو درمیانی انگلی پر رکھنے پر رکھتے تھے اور شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتےتھے۔ آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں زانوپر رکھتے تھے آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو گھٹنے پر رکھتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عُثْمَانُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1943

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1944

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمَذَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَامَرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ البَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا تَشَھَّدَ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْریٰ وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ لَایُجَاوِزُ بَصَرُہُ اِشَارَتَہٗ۔

عامر بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تھے، تو آپ اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھتے تھے آپ اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا کرتے تھے اور آپ کی نگاہ آپ کے اشارے سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔

عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1944

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1945

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوسُفَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اِدْرِیسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ وَّائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ، وَھُمْ یَنْفُضُونَ اَیْدِ یَھُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّیَابِ ، فَقُلْتُ: لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ ، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَکَبَّرَ حَتّٰی افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَاَیْتُ اِبْھَامَیْہِ قَرِیْبًا مِنْ اُذُنَنْہِ، قَالَ: ثُمَّ اَخَذَ شِمَالَہٗ بِیَمِیْنِہ ، فَلَمَّا رَکَعَ فَفَعَ یَدَیْہِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَاْسَہٗ قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، ثُمَّ کَبَّرَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ سَجَدَ، فَوَضَعَ رَاْسَہٗبَیْنَ یَدَیْہِ فِی الْمَوْضِعِ مَنْ وَّجْھِہِ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ قَدَمیْہِ ، وَوَضَعَ مِرْفَقَہُ الْاَیْمَنَ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، خِنْصَرَہُ وَالَّتِیْ تَلِیھَا ، وَجَمَعَ بَیْنَ اِبْھَامِہ وَالْوُسْطَی ، وَرَفَعَ الَّتِیْ تَلِیھَا یَدْعُوبَھَا

عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے حضرت وائل بن حجرؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ہم لوگ مدینہ منورہ آئے،تو لوگ اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں (یعنی چادروں ) کے اندر رکھے ہوئے تھے میں نے سوچا ، میں نبی اکرمﷺ کی نماز کا ضرور جائزہ لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں۔آپ نے تکبیرکہی نماز کا آغاز کیا، اور رفع یدین کیا ،یہاں تک کہ میں نے آپ کے انگوٹھوں کو آپ کے کانوں کے قریب دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں:پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیاجب آپ رکوع میں گئے ، تو آپ نے رفع یدین کیاجب آپ نے اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ پڑھا پھر آپ نے تکبیرکہی اور رفع یدین کیا، پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ آپ نے اپنا سردونوں ہاتھوں کے درمیان چہرے کے مد مقابل رکھا جب آپ بیٹھے تو آپ نے اپنے دونوں پاؤں کو بچھا لیا اور دائیں کہنی دائیں زانو پررکھا آپ نے ست سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا۔ اپنے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا، اور اس کے ساتھ والی انگلی(یعنی شہادت کی انگلی) کو بلند کیا۔ آپ نے اس کے ہمراہ دعا پڑھی۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1945

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1946

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، حَدَّثَنَا مُجَاھِدُ بْنُ مُوْسٰی الْمُخَرِّمِیُّ ، حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدَائَنِیُّ ، حَدَّثَنَا عِصَامُ قُدَامَۃَ الْجَدَلِیُّ ، اَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیُّ ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ اَنَّہٗ رَاَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ وَاضِعًا الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی، رَافِعًا اُصْبُعَہُ السَّبَّابَۃَ قَدْ حَنَاھَا شَیْئًا وَھُوَیَدْعُو

مالک بن نمیر خزاعی بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھے ہوئے دیکھا ہے۔ نبی اکرمﷺ نےشہادت کی انگلی اٹھائی ہوئی تھی اور آپ نے اس کو تھوڑا سا جھکا یا ہواتھا اور آپ دعا مانگ رہے تھے۔

مَالِکُ بْنُ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیُّ اَنَّ اَبَاہُ ← عِصَامُ قُدَامَۃَ الْجَدَلِیُّ ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدَائِنِيُّ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1946

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1947

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُعَاوِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ رَاَی رَجُلًا یُحَرِکُ الْحَصَی بِیَدِہِ وَھُوَفِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَہٗ عَبْدُ اللہِ: لَا تُحَرِّکِ الْحَصَی وَاَنْتَ فِی الصَّلَاۃِ ، فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ، وَلٰکِنِ اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ، قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ الَّتِیْ تَلِی الْاِبْھَامَ اِلَی الْقِبْلَۃِ ، وَرَمَی بِبَصَرِہِ اِلَیْھَا اَوْ نَحْوَھَا ، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک شخص کو نماز کے دوران اپنے ہاتھ کے ذریعے کنکریوں کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا جب اس نے نماز مکمل کی تو حضرت عبداللہ نے اس سے فرمایاتم نماز کے دوران کنکریوں کو حرکت نہ دو کیونکہ یہ عمل شیطان کی طرف سے ہوتا ہے بلکہ تم اس طرح کرو جس طرح نبی اکرمﷺ کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں:پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے زانو پر رکھا اور انہوں نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعہ قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے اپنی نگاہ اس انگلی کی طرف(راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)اس انگلی کی سمت رکھی۔ پھر انہوں نے فرمایا :میں نے نبی اکرمﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1947

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1948

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْم، قَالَ: اَخْبَرَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، وَالْمُغِیْرَۃُ، وَالْاِعْمَشُ ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِللہِ ، قَالَ: کُنَّا اِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ ، نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ، اللسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیلَ، السَّلَامُ عَلٰی مِیکَائِیلَ السَّلَامُ عَلٰی فُلانٍ، السَّلَامُ عَلٰی فُلانٍ، فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ ، فَقُوْلُوْا: التَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ،الَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، فَاِ نَّکُمْ اِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:پہلے ، جب ہم نبی اکرمﷺ کے پیچھے نماز میں بیٹھتے تھے ، تو ہم یہ پڑھتے تھے: اللہ تعالٰی پر سلام ہو حضرت جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو نبی اکرمﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے ۔ آپ نے فرمایا:اللہ تعالٰی تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے تم لوگ ہی پڑھو۔ ہر طرح کی زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں۔اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالٰی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالٰی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (نبی اکرمﷺ نے فرمایا) جب تم لوگ ایسا کرلو گے تو تم آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے پر سلام بھیج دوگے۔

عَبْدِللہِ ← أَبِي وَائِلٍ ← حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، وَالْمُغِیْرَۃُ، وَالْاِعْمَشُ ← هُشَيْمٌ ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1948

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2550

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ (1) ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ - يَعْنِي فِي رَمَضَانَ - قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟ قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا (2) . [4: 50]

حضرت جابربن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ !گزشتہ رات مجھے کچھ پریشانی ہوئی یعنی رمضان کے حوالے سے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے ابی ! وہ کیاتھی؟ انہوں نے عرض کی : میرے گھر کی خواتین نے کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں تو ہم آپ کی نماز کی پیروی کریں گی۔ حضرت ابی نے بتایا: میں ان خواتین کو آٹھ رکعات نماز پڑھائی پھر میں نے وتر ادا کرلئے۔ (حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرمﷺ نے گویا رضا مندی کا اظہار کیا تاہم آپ نے انہیں کچھ کہا نہیں۔

جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Taraweeh · Hadith 2550

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2551

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ» ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} [المزمل: 1] ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَتِهِ» (1) . [5: 1]

سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیّدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں عرض کی: آپ مجھے نبی اکرمﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں تو سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے قرآن کی تلاوت نہیں کی ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ کے اخلاق قرآن تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اب اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا۔تو میں نے کہا: اے ام المومنین! آپ مجھے نبی اکرمﷺ کے قیام کے بارے میں بتائیں تو سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے اس سورۃ کی تلاوت نہیں کی ہے؟ اے چادر اوڑھنے والے میں نے جواب دیا: جی ہاں!کی ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آغاز میں رات کے وقت نوافل ادا کرنا فرض قرار دیاتھا نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب ایک سال تک رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاؤں ورم آلود ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے اختتامی حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ آخر میں تخفیف کا حکم نازل کردیا تو رات کے وقت نوافل ادا کرنا نفل قراف پایا جو پہلے فرض تھا۔

أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} [المزمل: قُلْتُ: بَلَى، ← قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ ← شَيْءٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي ← فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلُهَا ← «خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ كَانَ الْقُرْآنَ»، ← ألست تقرأ القرآن قلت بلى ← خلق رسول الله ← لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي ← سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ،وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2551

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2552

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً (1) أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ، أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» (2) . [5: 1]

سعد بن ہشام سیدہ عائشہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ جب کوئی نماز ادا کرتے تھے تو آپ اس بات کو پسند کرتے تھے اسے باقاعدگی سے ادا کریں اور اگر آپ نیند یا بیماری یا تکلیف وغیرہ جیسی کسی مصروفیت کی وجہ سے رات کے وقت نوافل ادا نہیں کرپاتے تھے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2552

chevron_left Previous
1…282930…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr