صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1932
اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْاَعْرَجِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃِ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْفِرَاشِ ، فَالْتَمَسْتُہُ، فَوَقَعَتْ یَدِی عَلٰی بَطْنِ قَدَمِیْہِ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ ، وَھُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَھُوَیَقُوْلُ: اللھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِرِ ضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَبِمُعَا فَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْکَ، لَا اُحْصِی ثَنَاءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ
سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:ایک رات میں نے نبی اکرمﷺ کو بستر پر غیر موجود پایا(اندھیرا ہونے کی وجہ سے ) میں نے آپ کو تلاش کیا،تو میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کھڑے ہوئے تھے اور آپ (سجدے کی حالت میں ) یہ کہہ رہے تھے۔ اے اللہ !میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی تیری سزا کے مقابلے میں تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتاہوں ،میں تیری تعریف کا شمار نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے،جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔
عَائِشَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1932
