Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1932

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْاَعْرَجِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃِ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْفِرَاشِ ، فَالْتَمَسْتُہُ، فَوَقَعَتْ یَدِی عَلٰی بَطْنِ قَدَمِیْہِ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ ، وَھُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَھُوَیَقُوْلُ: اللھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِرِ ضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَبِمُعَا فَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْکَ، لَا اُحْصِی ثَنَاءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:ایک رات میں نے نبی اکرمﷺ کو بستر پر غیر موجود پایا(اندھیرا ہونے کی وجہ سے ) میں نے آپ کو تلاش کیا،تو میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کھڑے ہوئے تھے اور آپ (سجدے کی حالت میں ) یہ کہہ رہے تھے۔ اے اللہ !میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی تیری سزا کے مقابلے میں تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتاہوں ،میں تیری تعریف کا شمار نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے،جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1932

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: «يَا ابْنَ آدَمَ، صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ» (1) . [1: 2]

حضرت نعیم بن ہمار غطفانی ؓ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! تم دن کے ابتدائی حصے میں میرے لئے چار رکعات ادا کرو میں اس کے آخری حصے میں تمہاری کفایت کروگا۔

«يَا ابْنَ آدَمَ، صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ» ← رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ ← النَّبِيِّ ← نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2534

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2535

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا بَعْثَ قَوْمٍ أَسْرَعَ كَرَّةً، وَلَا أَعْظَمَ غَنِيمَةً، مِنْ هَذَا الْبَعْثِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَسْرَعَ كَرَّةً وَأَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ؟ رَجُلٌ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ تَحَمَّلَ (2) إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ، ثُمَّ عَقَّبَ بِصَلَاةِ الضُّحَى، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ» (3) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی انہیں بہت سا مال غنیمت ملا اور وہ لوگ جلدی بھی واپس آگئے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے کبھی بھی کوئی ایسی مہم نہیں دیکھی جو اتنی جلدی واپس آگئی ہو، جسےاتنا زیادہ مال غنیمت ملا ہو جتنا اس مہم کو ملا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اس مہم سے زیادہ تیزی سے واپس آنے اور زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے کے بارے میں بتاؤں؟ ایک شخص اپنے گھر میں اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد جائے وہاں صبح کی نماز ادا کرے پھر اس کے بعد(وہ وہیں بیٹھا رہے اور پھر) چاشت کی نماز ادا کرے تو وہ شخص جلدی بھی واپس آجاتا ہے اور اسے زیادہ مال غنیمت بھی حاصل ہوتاہے۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2535

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2536

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: «الْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصَلَاةُ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ» (1) . [1: 2]

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان رتے ہیں: میرے خلیل حضرت ابو القاسم ﷺ نے مجھے تین چیزوں کی تلقین کی تھی سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی چاشت کے وقت دو رکعات ادا کرنے کی اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2536

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2537

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ (1) بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيَّ، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي، تَعْنِي عَلِيًّا، أَنَّهُ قَاتِلُهُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» ، قَالَتْ: وَصَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ (2) . [1: 2]

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے ابومرہ کو دیکھا ہے وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے انہیں سیّدہ اُمّ ہانی ؓ کی زیارت کا شرف حاصل تھا وہ سیّدہ اُمّ ہانی ؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے اپنے دو دیوروں کو پناہ دی ہے اور میرے بھائی یعنی حضرت علی ؓ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں سیّدہ اُمّ ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ام ہانی جسےتم نے پناہ دی ہے ہم بھی اسے پناہ دیتے ہیں۔ سیّدہ اُمّ ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے پانی انڈیلا اور غسل کیا، پھر کپڑے کو لحاف کے طور پر لپیٹ لیا اس کے کنارے مخالف سمت میں (کندھوں) پر ڈال لئے پھر آپ نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کی۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: ← أُمِّ هَانِئٍ ← كَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ، ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2537

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2538

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَتْنِي «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ، فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مُتَقَارِبَةٌ» ، قَالَتْ: «فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ» (1) . [1: 2]

عبید اللہ بن عبداللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے اس بارے میں تحقیق کی اور مجھے اس بات کی بڑی جستجو تھی، مجھے کوئی ایسا شخص ملے جو مجھے اس بارے میں بتائے نبی اکرمﷺ نے چاشت کی نماز ادا کی ہے تو مجھے صرف سیّدہ اُمّ ہانی ؓ ملیں جنہوں نے مجھے اس بارے میں بتایا: انہوں نے مجھے بتایا نبی اکرمﷺ فتح مکہ کے دن دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے آپ کے حکم کے تحت آپ کے پردے کے لئے کپرا لٹکا دیا آپ نے غسل کیا پھر آپ نے اٹھ کر آٹھ رکعات ادا کی میں اندازہ نہیں کر سکتی ، ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھایا رکوع زیادہ طویل تھایا سجدہ زیادہ طویل تھا یہ سب ایک دوسرے کے قریب قریب تھے سیّدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی بھی آپ کو اس وقت میں نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2538

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2539

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ» (1) . [1: 2]

حضرت زید بن ارقم کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے مسجد قباء میں کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو یہ بات ارشاد فرمائی یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں اس وقت کے علاوہ وقت میں نماز ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: نیک لوگوں کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب (اونٹ) بچوں کے لیے ریت گرم ہو جائے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، ← الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2539

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2540

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، عَلَى كُلِّ مَفْصِلٍ صَدَقَةٌ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تُنَحِّي الْأَذَى، وَإِلَّا فَرَكْعَتَيِ الضُّحَى» (2) . [1: 2]

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے بنی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: انسان میں تین سو ساٹھ (360) جوڑ ہوتے ہیں اور ہر جوڑ پر صدقہ کرنا لازم ہے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! کون اس کی طاقت رکھتاہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم تکلیف دہ چیز کو پر ے کرو ورنہ چاشت کے وقت دو رکعات ادا کرلو۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2540

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2541

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟» فَقِيلَ: نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِهِمْ، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَابُوا، أَوْ نِعْمَ مَا صَنَعُوا» (1) [4: 38]

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ تشریف لائے لوگ مسجد کے ایک گوشے میں رمضان کے مہینے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں عرض کی گئی : یہ کچھ لوگ ہیں جنہیں قرآن نہیں آتا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نہیں نماز پڑھا رہے ہیں وہ لوگ ان کے نماز کی پیروی کر رہے ہیں پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) انہوں نے جو کیا ہے وہ عمدہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ تشریف لائے لوگ مسجد کے ایک گوشے میں رمضان کے مہینے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں عرض کی گئی : یہ کچھ لوگ ہیں جنہیں قرآن نہیں آتا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نہیں نماز پڑھا رہے ہیں وہ لوگ ان کے نماز کی پیروی کر رہے ہیں پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) انہوں نے جو کیا ہے وہ عمدہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Taraweeh · Hadith 2541

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1933

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا (اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیْمِ الْبَرْقِیُّ، وَاِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِسْحَاقِ الْکُوفِیُّ ۔ سَکَنَ الْفُسْطَاطَ ۔قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ ، اَخْبَرَنَا ) یَحْیَی بْنُ اَبُّوْبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا النَّضْرِ ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ ، یَقُوْلُ: قَالَتْ عَائِشَہُ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَکَانَ مَعِی عَلٰی فِرَاشِی، فَوَجَدْتُہٗ سَاجِدًا، رَاصًّا عَقِبَیْہِ ،مُسْتَقْبِلًا بِاَطْرَافِ اَصَابِعِہ لِلْقِبْلَۃِ، فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: اللھُمَّ اِنِّی ْ اَعُو ذُبِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَبِعَفْوِکَ مِنْ عُقُو بَتِکَ ، وَبِکَ مِنْکَ اُثْنِیْ عَلَیْکَ ، لَا اَبْلُغُ کُلَّ مَافِیکَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا عَائِشَۃُ، اَحَرَّبَکِ شَیْطَانُکِ؟ فَقُلْتُ: مَالِیَ شَیْطَانٍ ، فَقَالَ: مَا مَنْ آدَمِیٍّ اِلَّا لَہٗ شَیْطَان، فَقُلْتُ: وَاَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: وَلٰکِنِّیْ دَعَوْتُ اللہَ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:(ایک مرتبہ رات کے وقت میری آنکھ کھلی ) میں نے نبی اکرمﷺ کو غیر موجود پایا حالانکہ پہلے آپ میرے ساتھ بستر پر موجود تھے (اندھیرے میں ، میں نے آپ کو تلاش کرنے کی کوشش کی )تو میں نے آپ کو سجدے کی حالت میں پایا۔ آپ نے اپنی ایڑیاں کھڑی کی ہوئی تھیں اور اپنی انگلیوں کے کناروں کا رُخ قبلہ کی طرف کیاہواتھا۔ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ!میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی ، تیرے سزا دینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری تعریف کرتا ہوں لیکن میں تیرے اندر موجود (ہر خوبی) تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب نبی اکرم ﷺ اس سے فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا :اے عائشہ!کیا تمہارے شیطان نے تمہیں بہکانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے عرض کی :میرا شیطان کہاں سے آگیا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:ہر انسان کے ساتھ اس کا مخصوص شیطان ہوتا ہے۔ میں نے دریافت کیا:یا رسول اللہ(ﷺ)!کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:میرے ساتھ بھی ہے، لیکن میں نے اللہ تعالی سے اس کے لئے دعا کی تو اس نے اسلام قبول کرلیا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبَا النَّضْرِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← یَّحْیَی بْنِ اَبُّوْبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِسْحَاقِ الْکُوفِیُّ سَکَنَ الْفُسْطَاطَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1933

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1934

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ اَبِیْ عَوْنٍ الرَّیَّانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْم، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ: اَنَّہٗ رَاَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاِذَا کَانَ فِیْ وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِہ لَمْ یَنْھَضْ حَتّٰی یَسْتَوِی جَالِسًا

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں:انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھاہے، جب آپ نماز کی طاق رکعت(یعنی تیسری رکعت) کے لئے ہوتے تھے، تو اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک پہلے سیدھے بیٹھ نہیں جاتے تھے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1934

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1935

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِیَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ الثَّقَفِیُّ ،عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّا ٔ، عَنْ اَبِیْ قِلَا بَۃَ اَنَّہٗ حَدَّثَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: دَخَلَ عَلَیْنَا مَسْجِدَنَا قَالَ: اِنِّیْ لَاْصَلِّیْ وَمَا اُرِیْدُ الصَّلَاۃَ، وَلٰکِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ، قَالَ: فَذَکَرَ اللہَ حَیْثُ رَفَعَ رَاْسَہٗ مَنَ السُّجُوْدِ فِی الرَّکْعَۃِ الْاُولٰی ، اسْتَویٰ قَاعِدًا ، ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَی الْارْضِ

ابو قلابہ بیان کرتے ہیں: حضرت مالک بن حویرثؓ ہمارے پاس ہماری مسجد مین تشریف لائے انہوں نے فرمایا:میں نماز ادا کرنے لگا ہوں۔ میرا نماز ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے بلکہ میرا ارادہ یہ ہے، میں تمہیں اس بات کی تعلیم دوں نبی اکرمﷺ کس طرح نماز ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی جب نبی اکرمﷺ پہلی رکعت میں(دوسری) سجدے کے بعد سر کو اٹھاتے تھے، تو پہلے سیدھے بیٹھتے تھے، آپ زمین کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے۔

دَخَلَ عَلَیْنَا مَسْجِدَنَا ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← اَبِیْ قِلَا بَۃَ اَنَّہٗ حَدَّثَ ← خَالِدٍ الْحَذَّا ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← حَدَّثَنَ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1935

chevron_left Previous
1…262728…86
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr