صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2529
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَابْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ (1) وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ» (2) . [5: 15] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِثْبَاتُ عَائِشَةَ صَلَاةَ الضُّحَى لِلْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَتْ بِهِ فِي الْبَيْتِ دُونَ مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْضَلُ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ» (3) .
معاذہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ چاشت کی نماز ادا کرتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا: جی ہاں ! آپ چار رکعات ادا کرتے تھے اور جو اللہ کو منظور ہوتا تھا مزید ادا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) سیّدہ عائشہ ؓ نے نبی اکرمﷺ کے چاشت کی نماز ادا کرنے کے اثبات کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے ان کی مراد گھر ہے۔ باجماعت نماز والی مسجد مراد نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ تمہاری نمازوں میں سب سے افضل نماز وہ ہے جو تم اپنے گھر میں ادا کرو۔ البتہ فرض نماز کا حکم مختلف ہے۔
سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← اَبُو الْوَلِیْدِ وَابْنُ کَثِیْرِ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2529
