صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1896
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ کَشَفَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السِّتَارَۃَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَالَ: اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُّبَشِرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ، یَرَاھَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرٰی لَہٗ ثُمَّ قَالَ: اَلَا اِنِّیْ نُھِیتُ اَنْ اَقْرَاَ رَاکِعًا وَسَاجِدًا، اَمَّا الرُّکُوْعُ، فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَاَمَّا السُّجُوْدُ، فَاجْتَھِدُوا جِی الدُّعَا ءِ، فَقَمِنٌ اَنْ یُسْتَجَابُ لَکُمْ
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پردہ ہٹایا۔ لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے لوگوں! نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں‘ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے‘ میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کروں۔ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے‘ تو تم اس پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے‘ تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو کیونکہ وہ اس لائق ہوگی‘ اسے تمہارے لئے مستجاب کیاجائے۔
كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1896
