صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2405
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي [ص:165] بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدُّئِلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ». [1: 78]
زید بن اسلم نے بنودئل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بسربن محجن کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ وہ ایک محفل میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی پھر آپ واپس تشریف لے آئے تو حضرت محجن اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے‘ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے‘ تم نےلوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی کیا تم مسلمان نہیں ہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں‘ یا رسول اللہ (ﷺ)! ( میں مسلمان ہوں ) لیکن میں اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا تھا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو اگرچہ تم پہلے نماز ادا کر چکے ہو۔
أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of returning prayer · Hadith 2405
